31 ویں باسفورس بین البراعظمی تیراکی ریس ترک کھلاڑیوں نے جیت لی

0 396

باسفورس، استنبول کو تقسیم کرتا مشہور آبی راستہ، اس دن غیر معمولی طور پر پُرسکون تھا اور تب تیراکی کے لباس میں ہزاروں افراد نے اس کے نیم گرم پانیوں میں چھلانگ لگائی۔

59 ممالک کے 2400 تیراکوں نے 31 ویں باسفورس بین البراعظمی تیراکی ریس میں حصہ لیا جو ہر سال منعقد ہوتی ہے اور کھلے پانیوں میں تیراکی کے بہترین عالمی مواقع میں سے ایک ہے۔ آخر میں یہ ترک تیراک تھے کہ جنہوں نے مرد اور خواتین کے زمرے میں سرفہرست مقامات حاصل کیے۔

شہدائے 15 جولائی پُل، ساحل پر واقع رہائش گاہوں اور استنبول کی پہاڑیوں پر بنی مساجد کے پس منظر کے ساتھ تیراک شہر کے ایشیائی حصے سے پانی میں کودے۔ بحیرۂ اسود کو بحیرۂ ایجیئن سے ملانے والی آبنائے باسفورس اس مقابلے کے دوران بحری ٹریفک کے لیے بند رکھی گئی۔ ریس میں ہر عمر اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی کہ جنہیں ساڑھے 6 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کوروچشمہ پہنچنا تھا جو شہر کے یورپی علاقے میں ایک مقبول ساحلی علاقہ ہے۔

منتظمین نے اس سال درخواست گزاروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا کیونکہ انہیں 2971 درخواستیں موصول ہوئیں۔ 1200 ترک تیراکوں نے انقرہ، استنبول، ازمیر، ادانا اور سامسن میں ہونے والے کوالیفائرز کے بعد اس ریس میں حصہ لیا۔ دیگر 1200 شرکاء کا تعلق دنای بھر سے تھا جن میں انڈونیشیا، عمان، پاکستان، پیرو اور فلپائنز کے تیراک نے پہلی بار شرکت کی۔ ریس میں 14 سے 89 سال تک کے تیراک شریک تھے۔

الجن چیلک نے خواتین میں پہلا انعام حاصل کیا جنہوں نے ریس 47 منٹ اور 19 سیکنڈز میں مکمل کی۔ ملک شاہ دوغن نے 48 منٹ اور 28 سیکنڈز میں مردوں کا مقابلہ جیتا۔ یوکرین کے آرتر ارتمانوف واحد غیر ملکی تیراک تھے جنہوں نے ٹاپ 3 میں جگہ پائی۔ ارتمانوف نے 48 منٹ اور 53 سیکنڈز میں ریس مکمل کرکے مردوں میں تیسری پوزیشن حاصل کی جو تراکی کے افی اردورن سے 21 سیکنڈز زیادہ تھے۔

دوغن، جو ایک پروفیشنل تیراک ہیں اور بین الاقوامی ایونٹس میں متعدد میڈلز جیت چکے ہیں، نے پہلی بار اس ریس میں شرکت کی۔ ریس کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ میں بہت خوش ہوں، بالکل امید نہیں تھی کہ میں جیت جاؤں گا۔ یہ کھلے پانی میں میرا پہلا مقابلہ تھا۔ دوغن کی نظریں اب یورپین جونیئر چیمپیئن شپ پر ہیں جو ہنگری میں ہوگی، جہاں وہ ترکی کی نمائندگی کریں گے۔

تبصرے
Loading...