ادلب میں ترکی-روس مشترکہ گشت کا تیسرا مرحلہ مکمل

0 279

ترکی اور روس کی افواج نے شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں M4 شاہراہ پر مشترکہ گشت کا تیسرا مرحلہ مکمل کر لیا ہے کہ جس میں انہوں نے اس علاقے میں جنگ بندی کا مشاہدہ کیا۔

وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے کہا کہ یہ گشت 5 مارچ کو ماسکو میں روس کے ساتھ ہونے والی سیزفائر معاہدے کے تحت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیزفائر کی متعدد خلاف ورزیوں کے باوجود مجموعی طور پر امن کا ماحول برقرار ہے۔ انہوں نے علاقے میں تشدد میں کمی لانے کا یقین دلایا ہے۔

وزیر دفاع نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ترک اور روسی افواج علاقے میں پرتشدد کارروائیاں کم کرنے کے لیے مشترکہ گشت جاری رکھیں گی۔ ہم سیزفائر کو مستقل بنانے کے لیے پرامید ہیں۔

ترکی اور روس جو شام کی جنگ میں ایک دوسرے کے حریف ہیں، 5 مارچ کو متفق ہوئے کہ شمال مغربی صوب ادلب میں عسکری سرگرمیاں روکی جائیں گی کیونکہ پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے مقابل آ گغے تھے۔ اس معاہدے نے ترکی کے بنیادی خدشات پورے کیے یعنی مہاجرین کی پھیلاؤ کو روکنا اور میدان میں موجود ترک فوجیوں کی ہلاکت سے بچنا۔

معاہدے کے طور پر ترک اور روسی افواج شام کے مشرقی و مغربی علاقوں کو ملانے والی M4 شاہراہ پر مشترکہ گشت کرتی ہیں، ساتھ ہی سڑک کے دونوں جانب تحفظ کے لیے راہداری بھی بنا چکی ہیں۔

کئی یورپی عہدیداروں اور اقوامِ متحدہ کی طرح ترکی بھی ادلب میں شامی حکوم کے آپریشن کی وجہ سے شہریوں کی نقل مکانی پر پریشان ہے، جس سے ترک سرحدوں اور مغربی ممالک کی جانب مہاجرین کی ایک نئی لہر بڑھ سکتی ہے۔

ترکی نے بشار اسد کی حکومت کے فضائی حملے میں کم از کم 34 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد 27 فرور ی کو آپریشن اسپرنگ شیلڈ کا آغاز کیا۔

روس کے ساتھ 2018ء میں ہونے والے معاہدے کے مطابق ترک دستے شہریوں کو شامی حکومت اور دہشت گرد گروپوں کے حملوں سے بچانے کے لیے بدستور ادلب میں موجود رہیں گے۔

شام کی M4 موٹروے ساحلی شہر لاذقیہ کو عراقی سرحد سے جوڑتی ہے جبکہ M5 ملک کی شاہراہوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جو معاشی مرکز حلب کو وسطی شہروں حماۃ اور حمص، دارالحکومت دمشق اور جنوب میں اردنی سرحد سے منسلک کرتی ہے۔ جنگ سے تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کے لیے بڑی شاہراہیں کھولنا روس کی زیرِ قیادت مہم کا اہم ہدف ہے۔

خانہ جنگی سے پہلے M5 موٹروے شام کی اقتصادی شہ رگ تھی جو ملک کے صنعتی مرکز حلب سے منسلک تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل روزانہ 25 ملین ڈالرز کا کاروبار اس شاہراہ کے ذریعے ہوتا تھا۔

اسی شاہراہ سے شام کے مشرقی و شمالی علاقوں سے ملک کے باقی حصوں میں گندم اور کپاس پہنچتی تھی۔ یہی سڑک علاقائی تجارتی شراکت دارزں سے سازوسامان کے تبادلے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ یکم جنوری سے اب تک آپریشن کے علاقوں میں 903 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا گیا ہے اور اب تک 90 فضائی آپریشنز ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ترکی کی جانب سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی گشت پر موجود دستوں نے سرحد میں داخلے کی 11,888 غیر قانونی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

دریں اثناء، آقار نے یہ بھی بتایا کہ 28 فروری سے اب تک 1,48,763 مہاجرین یونان اور بلغاریہ کی سرحد سے یورپ میں داخل ہو چکے ہیں۔

ترکی میں کروناوائرس کی موجودہ وباء کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ وہ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ صحت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ تمام اہم احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ اب تک برّی، بحری اور فضائی افواج کو کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...