فرانس میں 42 فیصد مسلمانوں کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے

0 215

ایک حالیہ پول کے مطابق فرانس کے تقریباً 42 فیصد مسلمانوں کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فرانسیسی ادارۂ عوامی رائے (IFOP) کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ نسل پرستانہ ہراسگی کا سامنا پولیس کی نگرانی میں، ملازمت کے لیے درخواست دیتے ہوئے اور کرائے پر گھر حاصل کرتے ہوئے ہوتا ہے۔

حجاب کرنے والی تقریباً 60 فیصد مسلمان خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں کم از کم ایک بار ہراساں کیا گیا، جبکہ نہ پہننے والی خواتین میں یہ تعداد 44 فیصد رہی۔

سروے میں حصہ لینے والے 24 فیصد مسلمانوں کا کہنا تھا کہ انہیں گالم گلوچ کا نشانہ بنایا گیا، یہ شرح غیر مسلموں میں 9 فیصد تھی۔ 37 فیصد حجاب کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ ان کی بے عزتی کی گئی۔

پچھلے مہینے فرانس میں انتہائی دائیں بازو کے قانون ساز یولین اودول نے مشرقی بیسانکون میں ایک اجلاس کے دوران مسلمان خواتین سے اپنا حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان کے خلاف زبانی حملے کیے۔

اس واقعے نے مسلمانوں کو ہدف بنانے کے حوالے سے بحث کو جنم دیا۔

پچھلے ہفتے ایک 84 سالہ بزرگ کو گرفتار کیا گیا تھا کہ جنہوں نے جنوبی فرانس کے شہر بیون میں ایک مسجد میں عبادت کرنے والے دو افراد پر گولی چلائی تھی کہ جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

تبصرے
Loading...