جرمنی، انتہا پسندانہ حملے میں مارے گئے 9 افراد میں سے 4 ترک شہری

0 191

برلن میں ترکی کے سفیر علی کمال آئیدین نے کہا ہے کہ وسطی جرمنی کے شہر ہناؤ میں پیش آنے والے واقعے میں مارے گئے 9 افراد میں سے 4 ترک شہری ہیں۔

بدھ کی رات 10 بجے ایک 43 سالہ جرمن شخص نے پہلے وسطی ہناؤ میں ایک حقہ بار اور اس سے ملحقہ چائے خانے پر حملہ کیا جس میں متعدد لوگ مارے گئے، جس کے بعد وہ ڈھائی کلومیٹر مغرب کی جانب گیا اور ایک گاڑی اور اسپورٹس بار پر بھی فائر کھول دیا، جس سے مزید جانیں گئیں۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی ہناؤ حملوں کے بعد آگے کی پیش رفت پر نظریں رکھے ہوئے ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جرمن حکام حملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔”

جرمن چانسلر انگیلا مرکیل نے کہا ہے کہ گو کہ اس حملے کے تمام پہلوؤں پر تحقیق ہونا ابھی باقی ہے، لیکن اس حملے نے جرمن معاشرے میں موجود نسل پرستی کے "زہر” کو آشکار کر دیا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ ملک کو تقسیم کرنے والوں کے خلاف کھڑی ہوں گی اور ان دہشت گرد قاتلوں کے پسِ پردہ ہر محرّک کی تحقیق کی جائے گی۔

سینٹرل کونسل آف مسلمز، کنفیڈریشن آف کردش ایسوسی ایشن ان جرمنی اور سینٹرل کونسل آف جیوز کی جانب سے اس حملے کی فوری اور بھرپور مذمت کی گئی۔

ہناؤ فرینکفرٹ سے 20 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہاں تقریباً 1،00،000 افراد رہتے ہیں۔ حقہ لاؤنج میں مشرق وسطیٰ کے تعلق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے ہیں کہ جنہیں شیشہ بار بھی کہا جاتا ہے۔

ترک سفیر کے مطابق جاں بحق افراد میں سے ایک کی شناخت غوخان گل تکن کے طور پر ہوئی ہے کہ جو 37 سال کے تھے اور ان کا خاندان ترکی کے مشرقی صوبہ آغری سے تعلق رکھتا ہے۔ سفیر نے ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں بتایا گیا کہ اس کی منگنی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔

ایک زخمی محمد نے بتایا کہ پانچ، چھ گولیاں چلنے کی آواز آئی جس کے بعد اس شخص کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔ میں کھانا کھا رہا تھا اور وہاں تقریباً 12 لوگ موجود تھے۔ وہ لوگوں کو سروں میں گولیاں مار رہا تھا اور پھر ہماری طرف آتے ہوئے اس نے فائر کھول دیا۔ میں نے ایک دیوار کے پیچھے چھپنے کی کوشش تو کی لیکن اس کی چلائی گئی گولی میرے بازو پر لگ ہی گئی۔ میں نیچے گر گیا اور کچھ ہی دیر میں ایک اور شخص میرے اوپر گر گیا۔ وہ شخص بولا کہ مجھے اپنی زبان محسوس نہیں ہو رہی۔ جس پر میں نے اسے کہا کہ وہ کلمہ پڑھے۔ پھر زور سے کہا کہ سب کلمہ پڑھیں لیکن ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی وڈیوز کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے قاتل کے گھر تک پہنچے تو وہاں انہوں نے اُس کو اپنی 72 سالہ ماں کی لاش کے قریب مردہ پایا۔ دونوں کے جسم پر گولیوں کے نشانات تھے اور آلہ قتل بھی وہیں سے برآمد ہوا۔ قاتل نے اقرارِ جرم پر مبنی ایک خط بھی چھوڑا تھا جس میں دائیں بازو کے انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار کیا گیا تھا۔ ایک اخبار کے مطابق قاتل کا نام ٹوبیاس تھا۔

واقعے کے بعد ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "اب وقت آ چکا ہے کہ یورپی ملک نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے خلاف اکٹھے ہو جائیں اور یک آواز ہو کر بات کریں۔ ہناؤ، جرمنی میں پیش آنے والا ہولناک واقعہ بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور اسلام مخالفت کے باب میں نیا اضافہ ہے۔”

تبصرے
Loading...