ترکی میں دریافت ہونے والا 5,700 سال پرانا ڈھانچہ دراصل ایک بچے کا ہے

0 267

مشرقی ترکی میں حال ہی میں دریافت ہونے والا 5,700 سال پرانا ایک ڈھانچہ ممکنہ طور پر کسی بچے کا ہے۔

مشرقی ملاطیہ صوبے کے آثار قدیمہ ‘ارسلان تپہ’ میں جاری کھدائی کے دوران یہ ڈھانچہ تانبے کے دور کے آخری عہد کے ایک مکان سے دریافت ہوا تھا۔

"ہمیں بچے کے بازوؤں اور گردن میں موتی ملے ہیں، جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ یہ موتی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بچہ کسی معتبر گھرانے کا تھا،” کھدائی کی سربراہ مارسیل فرینگی پین نے کہا۔

روم کی سپنزا یونیورسٹی کی پروفیسر فرینگی پین کا کہنا ہے کہ یہ بچہ ممکنہ طور پر 3,600 سے 3,700 قبل مسیح کا ہے۔

حاجت تپہ یونیورسٹی، انقرہ کے علم بشریات کے شعبے کے ماہرین کی جانب سے جائزے کے بعد یہ ڈھانچہ ہمیں اُس دور کی زندگی کے بارے میں معلومات دے گا۔

"کھدائی کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ بچہ 6 سے 7 سال کا ہے لیکن انہیں اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے بچہ کسی زخم کی وجہ سے وفات پا گیا ہے،” انہوں نے کہا۔

فرینگی پین نے یہ بھی کہا کہ وہ صنف، جینیاتی ڈھانچے، عمر اور موت کے سبب کے ساتھ ساتھ اس زمانے کی خوراک کے بارے میں جاننے کے لیے جانچ کے نتائج کا انتظار کر رہی ہیں۔

چار ہیکٹر اور 30 میٹر بلند یہ آثار قدیمہ شہر کے مرکز سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، ارسلان تپہ کو 15 اپریل 2014ء کو اقوام متحدہ کے عالمی ثقافتی ورثوں کی آزمائشی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

یونیسکو کے مطابق ارسلان تپہ کی کھدائی 1961ء سے جاری ہے کہ جس میں ترک وزارت ثقافت و سیاحت اور روم کی سپنزا یونیورسٹی کی اطالوی مہم شامل ہیں۔

ارسلان تپہ کہ جہاں سے 5,000 قبل مسیح کے تانبے کے آخری عہد کی دریافتیں ملی ہیں، کئی تہذیبوں کا مسکن رہا کہ جن میں حِتی، رومی اور بزنطینی شامل ہیں۔

گزشتہ کھدائیوں میں شیروں کے مجسمے اور شکست خوردہ بادشاہ کا مجسمہ برآمد ہوا تھا ساتھ ہی ایک اینٹوں کا مہم بھی کہ جس میں بارش کے پانی کے بہاؤ کے لیے بنیادی ڈھانچہ موجود تھا اور ساتھ ہی 2,000 سے زیادہ مہریں بھی ملیں کہ جو اناطولیہ کی پہلی شہری ریاست کے ڈھانچے کو ظاہر کر رہی ہیں۔

تبصرے
Loading...