تارکین وطن کی کشتی جھیل وان میں ڈوب گئی، 6 ہلاک، 60 لاپتہ

0 235

جنوب مشرقی ترکی کی جھیل ان میں تارکینِ وطن کی ایک کشتی ڈوب جانے سے تقریباً 60 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے بتایا کہ اب تک جھیل سے چھ لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ وزیر کے مطابق اس کشتی میں 55 سے 60 غیر قانونی تارکین وطن سوار تھے۔

جھیل وان ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے اور خاص طور پر افغانستان سے آنے والے سیاسی پناہ کے خواہش مندوں اور مہاجروں کے راستے میں پڑتی ہے جو اس راستے کو یورپ میں داخلے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مرنے والوں کی شناخت ابھی واضح نہیں ہے۔ سوئیلو نے کہا کہ تلاش اور امدادی کوششیں ابھی جاری ہیں اور اس حادثے کے حوالے سے 11 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ طوفانی موسم کی وجہ سے یہ کشتی جھیل میں الٹ گئی تھی۔ ان تارکین وطن کا تعلق پاکستان، افغانستان اور ایران سے بتایا جاتا ہے۔

پچھلے سال بھی اسی جھیل میں ایک کشتی الٹ گئی تھی جس میں سات تارکین وطن ڈوبے جبکہ 64 کو بچا لیا گیا تھا۔

انسانی اسمگلرز پولیس کی چوکیوں سے بچنے کے لیے ایسے تارکین وطن کو جھیل کے ذریعے لے جاتے ہیں۔

ترکی اس وقت 40 لاکھ مہاجرین کا گھر ہے یعنی یہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ان میں سے 37 لاکھ کا تعلق شام سے ہے۔

ترکی یورپ جانے والے تارکین وطن اور مہاجرین کے مرکزی راستوں میں سے ایک ہے، خاص طور پر 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد تو یہ سلسلہ بہت زور پکڑ گیا ہے۔

تبصرے
Loading...