خونی ستمبر: ترکی 1980ء کی بغاوت کو یاد کرتے ہوئے

0 116

‏12 ستمبر 1980ء ترکی میں بغاوت کے طویل سلسلے میں محض ایک تاریخ ہے۔ ایک طاقتور فوجی نگرانی نے ملک بھر کو جمہوریت میں ان کی مداخلت کا عادی بنا دیا تھا، لیکن ان میں سے 1980ء کی بغاوت سب سے نمایاں اور سخت تھی۔

بغاوت جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں، اپنی نوعیت کی آخری تھی اور آج اسے ظلم و جبر، شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

عوام جانتے تھے کہ کچھ گڑبڑ ہے جب انہیں سڑکوں پر ٹینک دوڑتے نظر آئے اور فوجی درشت لہجے میں صبح سویرے باہر موجود لوگوں کو گھروں کو واپس جانے کا کہتے دکھائی دیے، لیکن اس بغاوت سے پردے تب ہٹے جب اُس وقت کے چیف آف جنرل اسٹاف کنعان ایورن نے ریڈيو پر اعلان کیا کہ فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے، اور فوج کی زیر نگرانی قومی سلامتی کونسل (MGK) قائم کر دی۔ فوج کا کہنا تھا کہ وہ دائیں اور بائیں بازو کے گروپوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے آئی ہے۔ فوج 11 جولائی 1980ء بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، لیکن تب حکومت نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا تھا، اور انہیں اپنے ان منصوبوں کو مؤخر کرنا پڑا کہ جسے "آپریشن فلیگ” کا نام دیا گیا تھا۔

1980ء کی بغاوت وہ تیسرا موقع تھی کہ جس میں فوج نے علی الاعلان منتخب حکومت کے معاملات میں مداخلت کی، لیکن یہ آخری موقع نہیں تھا کیونکہ ایک دہائی بعد فوج نے پھر سیاسی معاملات میں ٹانگ اڑائی۔ بالآخر 25 جولائی 2016ء کو عوام نے اپنی طاقت سے فوج کو روکا اور گولن دہشت گرد گروپ (FETO) کی بغاوت کو کچل دیا۔

1980ء کی بغاوت کے بعد پانچ رکنی MGK تشکیل دی گئی جو مکمل طور پر جرنیلوں پر مشتمل تھی، ایورن کے علاوہ اس میں برّی افواج کے کمانڈر نور الدین ارسین، بحریہ کے کمانڈر نجات تومیر، فضائیہ کے کمانڈر تحسین شاہین قایا اور فوجی پولیس کے کمانڈر سیدات جیلاسون شامل تھے۔ MGK نے نومبر 1983ء میں انتخابات تک ملک پر گرفت برقرار رکھی۔ تختہ الٹنے کے بعد انہوں نے کئی غیر جمہوری سرگرمیاں کیں، جن میں سیاسی جماعتوں سے لے کر غیر سرکاری انجمنوں (NGOs) پر پابندیوں سے لے کر اہم سیاست دانوں کو حکومت سے نکالنا تک شامل ہے، چند سیاست دان تو مختصر عرصے کے لیے ملک بدر بھی کیے گئے۔

بغاوت کے قائدین کا سب سے خطرناک روپ تھا سزائے موت۔ ترکی نے اس بغاوت کے بعد سب سے کم عرصے میں سب سے زیادہ پھانسیاں دیکھیں۔ پہلی سزائے موت بائیں بازو کے رہنما نجدت ادالی اور دائیں بازو کے مصطفیٰ پہلوان اوغلو کو دی گئی۔ دونوں کو اکتوبر 1980ء میں پھانسی دی گئي۔ ارسال ایرن باغیوں کے سب سے کم عمر شکار تھے۔ 17 سال نوجوان کو ایک فوجی کے مبینہ قتل کے الزام پر ایک جعلی مقدمے کے بعد 19 مارچ 1980ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کی عمر میں تبدیلی کی گئی تاکہ وہ 18 سال کے کہلائیں اور یوں سزائے موت دی جا سکے۔ اس نوجوان کی موت پر کنعان ایورن کا تبصرہ باغیوں کے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرن کی موت پر کنعان نے کہا تھا کہ "انہیں پھانسیوں پر نہ لٹکائیں تو کیا ان کی دعوتیں کریں؟”

فوجی حکومت نے ساڑھے 6 لاکھ افراد کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے۔ 2 لاکھ 30 ہزار پر مقدمے چلے اور عدالتوں نے 7 ہزار سے زیادہ افراد کی سزائے موت کا مطالبہ کیا، البتہ سزا 517 کو سنائی گئی اور 50 کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ مزید 14 ہزار افراد اپنی ترک شہریت سے محروم ہوئے، جبکہ 30 ہزار فوجی حکومت کی جانب سے بلیک لسٹ قرار دیے جانے کی وجہ سے اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے۔ ان میں اساتذہ، تعلیمی ماہرین اور صحافی بھی شامل تھے۔

MGK نے نیا آئین بھی متعارف کروایا، جس نے فوجی نگرانی کی موجودگی کو یقینی بنایا اور سیاسی نمائندگی کو محدود کیا، لیکن ساتھ ہی مستقبل میں اپنے جرائم پر کسی بھی مقدمے سے بچنے کے لیے بھی قانون سازی کی۔

یہ 2010ء کے ریفرنڈم میں ممکن ہوا کہ مذکورہ شق ختم کی گئی اور یوں ایورن اور دیگر پر مقدمے کی راہ ہموار ہوئی، جن میں ان کے دائیں بازو جنرل تحسین شاہین قایا بھی شامل تھے کہ جو ترک فضائیہ کے کمانڈر تھے۔ مقدمات کا آغاز 2012ء میں ہوا اور دونوں نے اپنی "خراب صحت” کو بنیاد بناتے ہوئے سماعت میں شرکت سے انکار کر دیا۔ ان کے خلاف الزامات کی ایک طویل فہرست تھی۔ 2014ء میں دونوں کو سخت عمر قید کی سزائی دی گئی اور فوجی قوانین کے مطابق ان کی سب سے نچلے درجے ‘پرائیوٹ’ میں تنزلی کر دی گئی۔ ایورن اور شاہین قایا 2015ء میں اپنی اپیل کی سماعت کے دوران ہی چند مہینوں کے فرق سے چل بسے۔

تبصرے
Loading...