ادلب میں سیزفائر نصف شب سے مؤثر

0 323

روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "آج کے مذاکرات خطے میں مسئلے کے دیرپا حل کی تلاش کے لیے ہمارے عزم کے عکاس ہیں جن کے ذریعے ہم نے ادلب میں اٹھائے اپنے اقدامات کو مضبوط کیا ہے۔ سب سے پہلے ہم جلد از جلد سیزفائر کو نافذ کریں گے اور اس کے بعد فوراً اگلے اقدامات کا فیصلہ کریں گے۔ سیزفائر آج شب 12 بجے سے مؤثر ہو جائے گا، یعنی نصف شب کو۔ سیزفائر کو مستقل بنانے کے لیے ضروری اقدامات فوری اور مؤثر انداز میں اٹھائے جائیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادیمر پوتن نے دوبدو اور وفود کے ہمراہ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

"ادلب میں نئے اسٹیٹس کی تشکیل ناگزیر ہے”

ستمبر 2018ء میں ہونے والی سوچی مفاہمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ادلب de-escalation زون کے حوالے سے مفاہمت کو جاری رہنا تھا، لیکن شامی حکومت کے عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی وجہ سے ادلب میں امن متاثر ہوا۔ ادلب کے تقریباً 15 لاکھ افراد شامی حکومت کے مظالم سے بھاگ کر ترکی کی سرحدوں پر آ چکے ہیں۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی نے ادلب میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اضافی فوجی دستے بھیجے ہیں۔ "ہم شامی حکومت کی جارحیت روکنے اور سیزفائر کی پابندی نہ کرنے والے دیگر گروپوں کو محدود کرنے میں کافی مؤثر ہیں۔ اس عمل کے دوران ہم نے روسی افواج کے مکمل تعاون کے ذریعے کام کیا ہے۔ شامی حکومت کی جانب سے ہمارے فوجیوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کے افسوس ناک واقعے کے بعد اب ادلب میں نیا اسٹیٹس تشکیل دینا ناگزیر ہے۔”

"ہمارا ہدف خطے میں انسانی بحران کو روکنا ہے”

ترکی اور روس کے مابین تعاون کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے اس یقین کا اظہار کیا کہ روس شامی حکوم کے اقدامات سے آنکھیں نہیں چرائے گا کہ جو اس تعاون کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ "آج کے مذاکرات خطے میں مسئلے کے دیرپا حل کی تلاش کے لیے ہمارے عزم کے عکاس ہیں جن کے ذریعے ہم نے ادلب میں اٹھائے اپنے اقدامات کو مضبوط کیا ہے۔ سب سے پہلے ہم جلد از جلد سیزفائر کو نافذ کریں گے اور اس کے بعد فوراً اگلے اقدامات کا فیصلہ کریں گے۔ سیزفائر آج شب 12 بجے سے مؤثر ہو جائے گا، یعنی نصف شب کو۔ سیزفائر کو مستقل بنانے کے لیے ضروری اقدامات فوری اور مؤثر انداز میں اٹھائے جائیں گے۔ ہمارا ہدف خطے میں انسانی بحران کو جنم لینے سے روکنا ہے۔ ہم تمام ضرورت مند شامیوں کی غیر مشروط اور بلا امتیاز مدد کریں گے۔”

"ترکی شامی حکومت کے حملوں پر جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے”

یہ بتاتے ہوئے کہ فریقین کے مابین جس معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے اس کا متن وزرائے خارجہ پڑھ کر سنائیں گے، صدر ایردوان نے کہا کہ "دریں اثناء، ترکی شامی حکومت کے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف پوری طاقت سے اور ہر میدان میں جوابی کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ہم اپنے معزز ہم منصب سے رابطے میں رہیں گے۔ ہماری متعلقہ وزارتیں بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گی۔ ترکی خطے کے حوالے سے اپنے معاہدوں پر چلنے کا عز م رکھتا ہے، جن میں سوچی مفاہمت بھی شامل ہے، جب تک کہ شامی بحران کا حل اس کی علاقائی سلامتی اور سیاسی اکائی کی بنیاد پر نہ ہو جائے۔ ایک مرتبہ پھر کہنا چاہوں گا کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات دیرپا امن اور استحکام کے لیے واحد کلید ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آج کی ملاقات شام میں تنازع کے دیرپا حل کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اہم ہوگی۔”

تبصرے
Loading...