خود ساختہ شواہد؛ فیتو کا حامی جج؛ ترک سالمیت کے خلاف میدان تیار: ضراب کیس

0 1,317

اس قضیے کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب گزشتہ سال مارچ میں ترک نژاد ایرانی تاجر رضا ضراب کو امریکا میں داخلے کے وقت میامی میں گرفتار کر لیا گیا۔ سونے کا کاروبار کرنے والے ضراب پہ الزام تھا کہ انھوں نے مختلف مواقع پر رقوم کی منتقلی کے ذریعے امریکا کی طرف سے ایران اور اس کے شہریوں پہ عائد ایک پابندی کی خلاف ورزی کی ہے جو درحقیقت ان کی گرفتاری سے تین ماہ قبل اٹھائی جاچکی تھی۔

ترک حکام کا موقف ہے کہ اس کیس کو انقرہ کے خلاف سیاسی چال کے طور پہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ترک حکام کے اس شکوے کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ ضراب کیس کی سماعت کرنے والے جج اور گزشتہ اٹھارہ سال سے خودساختہ جلاوطنی پہ امریکا میں موجود متنازعہ رہنما فتح اللہ گولن کی دہشتگرد تنظیم فیتو کے درمیان براہ راست گہرے روابط قائم ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی انتظامیہ کو بھی سختی سے باور کروایا ہے کہ اس کیس کے ذریعے ترک حکومت کے خلاف سیاسی سازش کا جال بنا جا رہا ہے۔

حکومت نے گولن کے حامی گروپ پر غیرقانونی طریقے سے ثبوت اکٹھے کرنے، از خود شواہد گھڑنے اور ترک پولیس کے برطرف افسران کے ذریعے خودساختہ ریکارڈنگ استعمال کرکے کیس پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔ حکومت کا دعوی ہے کہ امریکی قوانین کے مطابق ان خودساختہ شواہد پہ کارروائی عمل میں لانا کسی بھی عدالت کے لیے غیر قانونی عمل ہے کیونکہ قانون کے مطابق کسی بھی کیس میں شواہد اکٹھے کرنے کا کام قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام پانا ضروری ہے۔

رضا ضراب پہ فرد جرم عائد کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں اس ٹرائل کے ایک اور ملزم بینکر کے خلاف پراسیکیوشن کا گواہ بھی بنایا گیا ہے۔ دونوں پہ اعتراض ہے کہ انھوں نے ایران پہ عائد اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی اس کیس کی تفتیش کے نتیجے میں امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات مزید کشیدہ ہوچکے ہیں۔

اس بات کا انکشاف گزشتہ منگل کو ہوا جب ہالک بنک کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد خاقان عطیلا کے خلاف جاری ٹرائل میں ایک وکیل صفائی نے یہ کہتے ہوئے کارروائی میں دو ہفتے تعطل کی استدعا کی کہ انھیں ضراب کی گواہی کی تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔ وکیل صفائی رابرٹ فیٹویز نے دعوی کیا کہ پراسیکیوٹرز نے حالیہ دنوں میں ضراب کیس سے متعلقہ شواہد پہ مبنی دس ہزار صفحات جاری کیے ہیں جن میں ای میلز بھی شامل ہیں۔

ڈیفنس اٹارنی وکٹر روکو نے ٹرائل میں اپنے دلائل کے آغاز ہی میں رضا ضراب کی غیرجانبداری پہ سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی کہ یہ کیس تو چل ہی ضراب کے جرائم کی تفتیش کے لیے رہا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ضراب نے امریکا میں گواہوں کے تحفظ کے پروگرام سے فائدہ اٹھا کر جیل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے گواہی دینے پہ رضامندی ظاہر کی تاکہ وہ اور اس کا خاندان امریکا میں سکونت اختیار کر سکے۔

ایک ترک روزنامے نے دعوٰی کیا ہے کہ ضراب کو ایران میں اپنے ارب پتی دوست بابک زنجانی کی گرفتاری کے بعد اپنی ذاتی سلامتی کے حوالے سے تشویش تھی چنانچہ اس نے نا صرف امریکی حکام سے رابطہ کیا بلکہ استنبول کے ترابیا ضلع میں امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے تین ایجنٹس کے ساتھ اس کی خفیہ ملاقات بھی ہوئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں ضراب نے ان ایجنٹوں کے ساتھ خفیہ ڈیل کی۔ ملاقات کے تین ماہ بعد منصوبے کے مطابق اس نے جان بوجھ کر امریکا کا سفر کیا اور عین توقع کے مطابق اسے میامی پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام نے ہر ممکن طریقے سے اس امر کو یقینی بنایا کہ ترک حکام ضراب کو ملک چھوڑنے سے نہ روکیں۔

نیویارک میں اس کیس کی نگرانی کرنے والے جج جسٹس رچرڈ برمن 2013ء کے دسمبر کی سترہ سے پچیس تاریخ تک فیتو کے زیر نگرانی ہونے والے ناکام آپریشن کے بعد ترکی آئے تھے۔ یہ آپریشن کرپشن کے خلاف فیتو کا خود ساختہ اقدام تھا جس کا درپردہ مقصد مبینہ طور پر ترکی کی منتخب شدہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ اس واقعے کے فوری بعد جسٹس برمن مختصر وقت کے لیے استنبول پہنچے جہاں انھوں نے انصاف اور قانون کی حکمرانی کے عنوان سے فیتو کے زیراہتمام منعقدہ ایک سمپوزیم میں شرکت کی تھی۔ اپنے خطاب کے دوران جسٹس برمن نے ترکی کی حکمران آق پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ترکی میں ون مین شو جاری ہے اور اس حکومت کا تختہ الٹنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ تمام جذبات فیتو کے ممبران کے دل کی آواز تھے۔ برمن نے فیتو کے حامی ججز اور پولیس آفسران کی برطرفی پر بھی کڑی تنقید کی۔ استنبول میں اپنے قیام کے دوران انھوں نے فیتو کے فنڈز سے چلنے والے روزنامہ زمان کے لیے انٹرویو دیا۔ انٹرویو میں برمن نے الزام لگایا کہ ترکی میں قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصول ہی خطرے میں ہیں۔ ان کے یہ خیالات براہ راست دسمبر دو ہزار تیرہ کے اس کیس سے متعلق تھے جس میں رضا ضراب کو مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس متنازعہ کیس کے سابق پراسیکیوٹر پریت بھرارا بھی فیتو کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنا پر الزامات کی زد میں رہ چکے ہیں۔ وہ اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ سے کئی مرتبہ فیتو کے حامیوں اور گولن کے ہمدردوں کے لیے جانبدارانہ خیالات ظاہر کر چکے ہیں۔ انھوں نے گولن کے حامیوں کی کئی ٹویٹس کو ری ٹویٹ بھی کیا ہے۔

پریت بھرارا نے ڈیموکریٹ سیاستدان سینیٹر چک سکمر کے چیف کونسل کے طور پہ بھی کام کیا ہے اور اس کے صلے کے طور پہ ان کے باس نے انھیں نیویارک کے جنوبی ضلعے کے اٹارنی کے طور پر بھی نامزد کیا تھا۔ سکمر بھی فیتو کے لیے اپنی قربت کے حوالے سے معروف ہیں۔ وہ گلن کے حامیوں مبینہ طور پہ ہزاروں ڈالر بھی وصول کر چکے ہیں۔وہ رجب طیب ایردوان کے شدید ناقد کے طور پہ جانے جاتے ہیں اور اسی بنیاد پہ فیتو کے نمایاں حلقوں میں ان کے لیے پذیرائی کا عنصر موجود ہے۔

اس نے سٹیپٹو اینڈ جانسن لا فرم کے ذریعے فیتو سے مبینہ طور پر 2.5 ملین کی رقم سالانہ کمائی۔ فیتو رہنماء فتح اللہ گولن کی ترکی حوالگی کو روکنے کے لیے اس کی خدمات حاصل کی گئیں۔

سچومر اس شکایتی خط کا دستخطی بھی تھا جو فیتو سے منسلک اخبار روزنامہ زمان کے ایڈیٹر انچیف اکرم دمبنالی اور سامانے اولو ٹی وی کے مالک ہدایت کراجا کی طرف سے امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری کو پیش کیا گیا۔ اس نے فیتو سے منسلک ترکش امریکن اتحاد کے زیر اہتمام "ترکش امریکن کنونشن” میں بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔

ضراب کو نشانہ بنانے پابندیاں توڑنے والا کیس جس نے امریکا اور ترکی کے خراب تعلقات پر تیل ڈالا ہے۔ عطیلا کی گرفتاری کے بعد وسعت پکڑ گیا۔

فیتو کی طرف سے 15 جولائی 2016ء کو بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد اوباما انتظامیہ کی طرف سے بروقت تعاون نہ کرنے کی وجہ سے ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات بہت زیادہ کشیدہ ہو گئے۔ انقرہ حکومت امریکی ریاست پینسلوانیا میں مقیم فیتو رہنما فتح اللہ گولن کی حوالگی کے عمل کو جان بوجھ کر سست کرنے کے عمل پر تنقید کرتی آئی ہے۔ امریکا کو 7 بار دستاویز فراہم کی کیئں تاکہ فتح اللہ کی حوالگی کا معاملہ حل ہو سکے لیکن امریکا اس معاملے کو سیاسی طریقے سے لے رہا ہے۔

مصدر روزنامہ صباح ترکی

اسی موضوع پر علنورچیویک کا یہ کالم بھی پڑھیں: بہتان تراشی کی دو طرفہ چالیں – علنور چیویک

تبصرے
Loading...