ایک پاکستانی کا ایردوان کے نام خط

0 4,665

پچھلے سال دسمبر کی سات تاریخ کا سورج چڑھتے ہی کام پر لگنا پڑا، اُس دن کو آفس کی مصروفیات ایسی ہی تھی جیسے چاند رات کو ہم مڈل کلاس لوگوں کی ہوتی ہے، جہاں ہم حد سے زیادہ تھکاوٹ سے چور چور ہوتے ہیں پر اگلے دن عید کی یاد سے سب ٹھیک ہوجاتا ہے، ایسے ہی ایک خوشی کے سبب ایک عجیب قسم کی طمانیت نے میرے گرد گھیرا ڈالا تھا جیسے تھکاوٹ کو چیلنج کیا جارہا ہو، یہ کوئی عام دن ہوتا تو میں برا سا منہ بنالیتا پر آج تو مختلف دن تھا، آج رات کو میں نے استنبول ترکی کیلئے نکلنا تھا، اُن عثمانی ترکوں کے دیس جہاں کے سپوتوں نے دنیا کا نقشہ بدل دیا، وہ سرزمینِ مبارک جہاں عشق اور علم کے چشموں کے ساتھ ساتھ جہاد کے الم بھی بلند ہوئے، اُس دن میں نے مسلمانوں کی مرکزیت اور خلافت کے اقدار کی خشبو والی مٹی پر قدم رکھنے کیلئے رختِ سفر باندھا تھا جہاں کے اکیس سالہ محمد ثانی نے بازنطینی عیسائی حاکموں کی رسوائی کا سامان کرکے ان سے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) اپنی حکمت اور زورِ بازو پر اللہ کی مدد کے سائے میں حاصل کیا، مدینہ کی پاک سرزمین پر قدم رکھنے، عمرہ اور نبی کریم ﷺ کے سامنے اس عاصی کی حاضری کے بعد یہاں قدم رکھنے کی ایک عجیب سے خواہش تھی جو اللہ پوری کررہا تھا۔ اور پھر قریبا” دو ہفتوں تک میں اپنی آنکھوں کو استنبول کے حُسن سے خیرہ کرتا رہا اور ترکوں کی پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں سے محبت کے کو قدم قدم پر محسوس کرتا رہا اور جھولی میں آج بھی یادوں کے پھول ہی پھول ہیں۔
بحیثیت ایک پاکستانی مسلمان کے میں آج، ترکی کے اس عظیم سپوت، جناب رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو کہ مایوسی کے اندھیری رات میں روشن چراغ کی مانند آئے ہیں، وہ چراغ کہ جس کے حوصلے طوفانوں کو اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کردیں۔ رجب طیب اردگان موجودہ مسلم رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ گنتی کے اُن چند رہنماؤں کے بھی امام ہیں کہ جو دشمن کی آنکھ میں کانٹا بنے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے اکثر رہنما اسلام دشمن قوتوں کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور یہ ان کی پالیسیوں سے صاف واضح ہے کہ کون آج کہاں کھڑا ہے، طیب اردگان وہ ہیں کہ جس نے ترکی کو ترقی سے ہمکنار کرنے کے بعد باقی ممالک کے عام انسانوں کی بھی مذہب وہ مسلک سے بہت آگے انسانیت کے ناطے مدد کرنے کی کوششوں سے پسپائی اختیار نہیں کی،وہ کہ جس نے نہ صرف ترکی کو اُٹھا کر دنیا کے عظیم ملکوں کی صف میں لاکر کھڑا کیا بلکہ مسلمانوں کو یہ بھی احساس دلایا کہ آج اپنی اپنی سرحدوں کی لکیروں کے اندر ہی اندر گھنٹنے والی ماضی کی عظیم قوم کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ باقی مسلمانوں اور مظلوم انسانوں کی مصیبتوں پر آنکھ اور کان بند کئے رکھیں بلکہ اللہ کی مدد انہیں مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے جو وقت کے سکندر بن کرغمزدہ لوگوں کے زخموں کا مرہم بننے کے ارادے سے قدم آگے بڑھائیں۔ وہ کہ جس نے ہمیں خوابِ غفلت سے جگایا اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ فضاءِ بدر پیدا کرنے والوں کے ساتھ اللہ کے مدد لازمی ہوتی ہے۔ میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر کہیں مرکزیت کا کوئی وجود ہوسکتا ہے تو وہ اس عظیم قوم کے ہاتھوں ہوگا اور ہمیں ترکی کی عظیم وجود کو مظبوط کرنا ہے تاکہ اسکی جانب بڑھنے والے ناپاک ہاتھ اور ناپاک ارادے خاک میں ملتے رہیں۔ دعا ہے ربِ محمد ﷺ سے ہمیں آپ اور آپ کی مبارک سرزمین پر فدا ہونے کی سعادت نصیب کریں تاکہ یومِ حساب ہم اُن صفوں میں فخر کے ساتھ اُٹھیں جن صفوں میں آپ ہو، شکریہ جناب رجب طیب ایردوان صاحب، ہم خوشنصیب ہیں کہ ہم آپ کے عہد میں جی رہے ہیں۔

پاک ترک دوستی زندہ باد

از: عبد البصیر خان

تبصرے
Loading...