عید الفطر کے موقع پر 81 صوبوں میں لاک ڈاؤن کیا جائے گا، صدر ایردوان

0 148

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "عید الفطر کے آغاز سے لے کر اُس کے آخری دن تک، یعنی 23 سے 26 مئی تک، ملک کے تمام 81 صوبوں میں لاک ڈاؤن رہے گا۔ میرا یقین ہے کہ عید کے بعد ان شاء اللہ ایسے نتائج سامنے آئیں گے جن کے بعد پابندیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔”

رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد وڈیو کانفرنس سے اپنے تاثرات پیش کیے۔

"ہمیں وبائی امراض کے خلاف اقدامات کو ترجیح دیتے ہوئے روزمرہ زندگی جاری رکھنا ہوگی”

ترکی سماجی فاصلے اور اپنے زبردست ہیلتھ کیئر سسٹم برقرار رکھتے ہوئے خوراک اور صفائی کی مصنوعات کی فراہمی اور عوام کی حفاظت کو یقینی بناتا رہے گا، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "لیکن صرف ہمارا وباء پر قابو پانا کافی نہیں ہے۔ ہم دنیا بھر میں مل کر کام کرکے ہی اس عالمگیر خطرے کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک اور دنیا بھر میں حالات ویسے نہیں ہو سکتے، جیسا کہ کچھ مہینے پہلے تھے۔ ہمیں وبائی امراض کے خلاف اقدامات کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ محدود سماجی زندگی کے اس نئے دور کو واضح کیا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "عید الفطر کے آغاز سے لے کر اُس کے آخری دن تک، یعنی 23 سے 26 مئی تک، ملک کے تمام 81 صوبوں میں لاک ڈاؤن رہے گا۔ میرا یقین ہے کہ عید کے بعد ان شاء اللہ ایسے نتائج سامنے آئیں گے جن کے بعد پابندیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔”

صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ اس ٹرم میں اسکول نہیں کھلیں گے اور نیا سیزن ستمبر میں شروع ہوگا۔

"ترکی کے بغیر کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا”

علاقائی کشیدگی میں اضافے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم شام سے لے کر لیبیا تک کے وسیع علاقے میں ہمارے خلاف موجود ہر عنصر کی پشت پناہی کرنے والوں کو کہتے ہیں کہ وہ اپنے رویّے پر غور کریں۔ مجھے امید ہے کہ جو ان دہشت گردوں اور آمروں کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور ترکی کے خلاف محاذ کھڑا کرنا چاہتے ہیں، جلد از جلد حقائق کا اندازہ لگائیں گے کہ دنیا تبدیلی کی نہج پر کھڑی ہے۔ ہمارے علاقے میں یا دنیا میں کوئی بھی منصوبہ چاہے سیاسی ہو یا معاشی، ترکی کے بغیر کامیاب نہیں ہوگا۔ اس حقیقت کی مثالیں بلقان سے لے کر بحیرۂ روم تک اور شمالی افریقہ سے جنوبی ایشیا تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان حقائق کے پیش نظر ہم، ان شاء اللہ، جلد ہی ایک طاقتور اور عظیم ترکی کی تکمیل کریں گے۔”

تبصرے
Loading...