مستقبل قریب میں ملی حرکت پارٹی، آق پارٹی میں ضم ہو جائے گی، ترک سیاست پر ایک اہم تجزیہ نگار کا انٹرویو

0 2,177

ایونی اوزگورل، ترکی کے ایک معروف قوم پرست تجزیہ نگار ہیں۔ جن کا شمار ایک طویل عرصہ سے قوم پرست ملی حرکت پارٹی (MHP) کے سربراہ دولت بہچالی کے قریبی حلقے میں کیا جاتا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ پر مراد صوفو اولو نے ان سے ترکی اور خاص طور پر رجب طیب ایردوان کی آق پارٹی (AK Parti) اور ملی حرکت پارٹی کے اتحاد کے پس منظر میں انٹرویو کیا ہے۔ آر ٹی ای اردو اس کا اردو ترجمہ اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہا ہے۔ یہ بات چیت ترک سیاست کے کئی ایسے پہلوؤں سے آشکار کرتی ہے جو اردو پڑھنے والے طبقہ کے لیے نئے ہوں گے۔

24 جون کو ترکی میں قبل از وقت پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔ بہت سے تجزیہ نگار ان انتخابات کو ترک سیاست میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان ایک مرتبہ پھر نئے صدارتی دنگل میں بھاری بھرکم امیدوار ہیں۔ ان کی قیادت میں آق پارٹی نے 2002ء سے کسی ایک انتخاب میں بھی ناکامی کا سامنا نہیں کیا۔ 1994ء میں استنبول کا میئر منتخب ہونے سے اب تک خود رجب طیب ایردوان نے کبھی کسی انتخابات میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھا۔

2015ء کے بعد ترکی کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں کرد دہشتگرد تنظیم پی کے کے (PKK) کے حملوں سے لے کر فتح اللہ گولن کے پیروؤں کا ریاستی اداروں میں نفوذ اور متبادل ریاست بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ 15 جولائی 2016ء کو ترکی کی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف فوجی بغاوت بھی سڑکوں پر آئی جسے رجب طیب ایردوان کی بروقت پکار پر عام ترک شہریوں نے چوکوں اور چوراہوں پر کچل دیا۔

اس ناکام فوجی بغاوت نے ترکی میں نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھ دی جو آق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی کے تعاون کے ساتھ وجود میں آیا ہے۔ ایردوان اور ان کی حکومت کا ملی حرکت پارٹی نے  ناکام بغاوت میں پھرپور ساتھ دیا تھا۔

ملی حرکت پارٹی کے سربراہ دولت بہچالی نے 15 جولائی کے بعد ترک صدر کی غیر مشروط حمایت کی۔ بالآخر ایردوان-بیچالی دوستی آج ایک مضبوط اتحاد کی شکل اختیار کر چکی ہے جو اتحاد انتخابات میں اپنے جوہر دکھائے گا۔

اس اتحاد کی حرکیات سمجھنے کے لیے اور بالخصوص ایردوان کی حمایت کے لیے بیچالی کے محرکات کو جاننے کے لیے ہم نے معروف قوم پرست تجزیہ نگار اور مصنف ایونی اوزگورل سے بات کی جو بہچالی کے سیاسی مشیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اوزگورل سمجھتے ہیں کہ آق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی کا اتحاد انتخابی تعاون سے کچھ زیادہ ہے اور انتخابات کے بعد ایک سیاسی اکائی کا روپ دھار سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں پارٹیاں مشکل وقت پر تعاون کی ایک تاریخ رکھتی ہیں۔

2002ء میں دیکھئے، ملی حرکت پارٹی کے رہنماء دولت بہچالی، جو اس وقت کی اتحادی حکومت میں ڈپٹی وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے قبل از وقت انتخابات کی آواز بلند کی۔ اتحادی حکومت توڑ دی گئی اور ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوئے۔ آق پارٹی نے معرکہ آراء فتح حاصل کی اور تب سے بغیر کسی دخل اندازی کے بر سر اقتدار ہے۔ آپ بہچالی کے اس وقت کے عمل کی کیسے وضاحت کرتے ہیں؟

ایونی اوزگورل: بہچالی [ترک سیاست کے متعلق] مضبوط بصیرت رکھتے ہیں۔ ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ معلومات کے مضبوط ذرائع رکھتے ہیں۔ انہیں ادراک ہوا کہ ترکی اس وقت امریکی جال میں دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کمال درویش [امریکی اور ترک دوہری شہریت کے حامل] کے راستے کو دیکھا کہ وہ کیسے ترکی آئے اور اچانک سے ڈپٹی وزیر اعظم بن گئے، [2000ء کے ابتداء میں ترک معیشت کے معاملات سنبھالنے لگے اور تہری اتحاد پر اثر انداز ہونے لگے]۔

وہ [دولت بہچالی] پہلے ترک سیاستدان تھے جنہیں ادراک ہوا کہ درویش کی پالیسیاں ترکی کو عالمی  طور پر ایک مطیع اور عاجز سیاسی لائن کی طرف دھکیلیں گی۔ [درویش ورلڈ بنک کی معاونت اور آئی ایم ایف کے تحت معاشی پالیسی تیار کر رہے تھے، جس کا نتیجہ مغربی اثر کے نیچے دبنا تھا]۔

جیسا کہ ان کے اتحادی ان کی عقلمندانہ رائے کے مقابلے میں [درویش] کا دفاع کر رہے تھے تو انہوں نے 2002ء میں قبل از وقت انتخابات کا اہم فیصلہ کیا جب سب کو نظر آ رہا تھا کہ ان کی پارٹی مشکل ترین مقام پر کھڑی ہے۔

مدر لینڈ پارٹی (ANAP) اور سچا راستہ پارٹی (DYP)، جو کہ سنٹر رائٹ کی پارٹیاں تھیں وہ 10 فیصد کی حد عبور نہ کر سکیں جو ترک انتخابات میں [پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لیے] لازمی شرط ہے۔ [خود ملی حرکت پارٹی یہ انتخابی حد عبور نہ کر سکی] کیونکہ آق پارٹی انتخابات میں فاتح بن کر ابھری۔

اس وقت پارٹی کے اندرونی اور بیرونی حلقوں سے بہچالی پر بہت زیادہ تنقید ہوئی اس بنیاد پر کہ ان کے قبل از وقت انتخابات کے فیصلے سے آق پارٹی کو کامیابی ملی۔ لیکن انہوں نے اس وقت اس تنقید کی کوئی پرواہ نہ کی۔

درحقیقت 2002ء میں انہوں نے خود پیش گوئی کی تھی کہ ان کی اپنی پارٹی اور اتحادی جماعتیں انتخابی حد عبور کر سکیں گی۔ اس وقت میں نے جب اس تنقید بارے پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا، "ہم نے جو نقصان جھیلا ہے اس میں ہی کچھ اچھا ہے”۔ اس بات نے مجھ پر واضع کیا کہ وہ پہلے سے جانتے تھے انتخابات کے بعد کیا ہو گا۔

ایونی اوزگورل

آپ بہچالی کے آق پارٹی کے رہنماء رجب طیب ایردوان سے تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ایونی اوزگورل: اگر ہم بہچالی کی سیاسی حرکیات اور ایردوان کی قیادت کے متعلق دئیے گئے بیانات کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ کریں، تو ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ایردوان پر ہونے والے ذاتی حملوں کا زیادہ تر دفاع ہی کیا ہے۔ انہوں نے آق پارٹی پر پابندی عائد کرنے اور رہنماؤں کو جیل میں ڈالنے کی مخالفت کی [2008ء میں ترکی کی آئینی عدالت نے آق پارٹی پر پابندی عائد کرنے کی پٹیشن خارج کر دی]۔ انہوں نے ایسی تمام کوششوں کو روکنے کی کوشش کی۔ اگرچہ انہوں نے آق پارٹی پر کچھ تنقید بھی کی لیکن انہوں نے ہمیشہ کہا کہ پارٹیوں پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلے گا۔

ہم ای-میمورنڈم بارے ان کی اپروچ دیکھ چکے ہیں۔ [2007ء میں ترک فوج نے اپنی ویب سائٹ پر ایک تحریری بیان جاری کیا جو ملک کی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف فوجی دخل اندازی کا اظہار کرتا تھا۔ آق پارٹی نے ای-میمورنڈم کو رد کر دیا اور فوج کو خبردار کیا کہ وہ ملکی سیاست میں دخل اندازی نہ کرے]۔

2007ء میں بہچالی نے آق پارٹی کے صدارتی امیدوار عبد اللہ گل پر تنقید کی بھی مخالفت کی۔ [ترکی کی سیکولر اسٹیبلشمنٹ اس وقت عبد اللہ گل پر شدید تنقید کر رہی تھی کہ ان کی بیوی اسکارف پہنتی ہیں۔ بہچالی نے ای-میمورنڈم پر تنقید کی جو حجاب پہننے والی بیوی رکھنے والے آق پارٹی کے صدارتی امیدوار کو صدر بننے سے روک رہا تھا۔ اس مرحلے پر، انہوں نے آق پارٹی کی حمایت کی کہ وہ پارلیمنٹ سے اپنے صدارتی امیدوار کو کامیاب کروا لیں]۔

15 جولائی کو، ہم نے دیکھا کہ بہچالی وہ پہلے اپوزیشن رہنماء بنے جنہوں نے بغاوت کے مقابلے میں ایردوان کی بھرپور حمایت کی۔ ایردوان اور بہچالی کے درمیان تعلقات کے تناظر میں [ناکام] بغاوت کس چیز کا اظہار کرتی ہے؟

ایونی اوزگورل: 15 جولائی کی بغاوت ان کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ترکی اور بہچالی دونوں کے لیے سنگ میل ہے۔ 15 جولائی کے بعد بہچالی نے ایردوان پر اپنی تمام تر تنقید ختم کر دی۔ اگر اب بھی وہ کوئی تنقید کرتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی پرائیویٹ ملاقاتوں میں انہیں بتاتے ہوں گے۔

انہوں نے ادراک کیا کہ یہ بغاوت ترکی پر قبضہ کرنے کا ایک مکمل منصوبہ تھا۔ اور انہوں نے دیکھا کہ یہ آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ فیتو [فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم] اس طرح کی کوئی کوشش کرے گی۔ جس طرح بہچالی نے اسے دیکھا، اگر بغاوت کامیاب ہو جاتی تو ملک کو گھناؤنے بحران کا سامنا کرنا پڑتا؛ ایک ایسا بحران جس سے ملکی بقاء پر سوال کھڑا ہو جاتا۔

بغاوت کا مقصد تمام تر ریاستی مشنری پر قبضہ کرنا اور اسے کنٹرول کرنا تھا۔ ترکی میں، اگرچہ کچھ طاقتیں کسی نہ کسی ریاستی ادارے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم تمام ریاستی ڈھانچے کو اپنے کنٹرول میں لینا بالکل مختلف چیز ہے۔

بہچالی نے ایسی سیاسی چال چلی جو ترک سیاست کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایردوان سے بھی کسی قسم کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کئے بغیر انہوں نے انہیں کہا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور اگلے پانچ سال کے لیے وہ ان کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے یہ بیان ایردوان سے کسی قسم کی سودا بازی کئے بغیر جاری کیا۔ یہ اس بات کا عکاسی کرتا ہے کہ بہچالی کتنے غیر متزلزل ہیں اور اور کس طرح گہرے بحران کے مقابلے میں وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قدم اٹھاتے ہیں۔

اس کے بدلے میں، ایردوان اور آق پارٹی نے اپنی سیاسی حیثیت کو بہچالی کے بیانیہ کے مطابق بنا چکی ہے۔ انہوں نے ان کے بہت سے موقف کو قبول کیا ہے۔ آق پارٹی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جس سے قومیت پرستی کو نکال دیا گیا ہے، جس سے [بہچالی کو] فیصلہ سازی میں پریشانی نہیں ہوتی۔ [آق] پارٹی کی قیادت میں قومی پرستانہ احساسات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں جو ملی حرکت پارٹی سے ملتے ہیں۔

آج ہم [آق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی کے مابین] ایک سیاسی بلاک کے قیام کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن مستقبل قریب میں ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ترک سیاست کی حقیقتیں ان دو سیاسی تحریکوں کو ایک دوسرے میں ضم کر دیں گی-

اگر بہچالی سمجھتے ہیں کہ ایردوان اور آق پارٹی دونوں ترکی کے آزاد مستقبل کے لیے اہم ہیں تو یہ موقف اس قوم پرست [آئیڈیل] تحریک کے امکانات پر کیسے اثر انداز ہو گا جس کی 20 سال سے زائد عرصہ تک وہ قیادت کرتے رہے ہیں؟

ایونی اوزگورل: مثالی [قوم پرست] تحریک ایک مشن کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ ایک جذباتی چیز ہے اور ایسے ہی جاری رہے گی۔ یہ ایک ثقافتی تحریک کی حیثیت سے چلتی رہے گی۔ یہ اب ملی حرکت پارٹی کے نوجوانوں میں موجود نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ ملی حرکت پارٹی آق پارٹی کے ساتھ ساتھ چلے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ مرحلہ بہ مرحلہ اس میں ضم ہو جائے گی۔

بالکل جیسے مغربی جمہوریت میں ہوتا ہے کہ مین اسٹریم بڑی جماعتوں کے کئی بازو ہوتے ہیں۔ ترکی میں، ملی حرکت پارٹی، آق پارٹی کا قومیت پرست ونگ بن جائے گا۔

جیسا کہ آپ نے سنا ہو گا، یہاں کئی سیاسی پنڈت ہیں جو یہ بحث کر رہے ہیں کہ آیا ملی حرکت پارٹی انتخابی حد کو عبور کر پائے گی یا نہیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ بہچالی اس بحث کو دیکھ رہے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ملی حرکت پارٹی کو اس قسم کے خدشات کی فکر نہیں کرنا چاہیے۔ ہر چند ایردوان کے ساتھ اتحاد بنانے کی اہم وجوہات سے اس [انتخابی] حد کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بہچالی کو درپیش مسائل میں سے بس ایک مسئلہ ہے۔

جیسے اچانک سے ایک واقعہ ہوا کہ کوئی اٹھا اور ان کی اتھارٹی کو چیلنج کر کے پارٹی توڑ گیا۔ [اوزگورل، میرل اکشنر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو ملی حرکت پارٹی کی سابق رکن پارلیمنٹ اور وزیر رہی ہیں۔ انہوں نے 2017ء میں پارٹی کے اندر بہچالی کی قیادت کے مقابلے میں آگئیں لیکن ناکام ہوئیں۔ نتیجتا” اکشنر نے اچھی پارٹی (IYI Parti) کے نام سے علیحدہ پارٹی بنا لی جس میں ملی حرکت پارٹی کے چند اہم ممبران بھی شامل ہوئے۔ وہ اب ترک صدارتی انتخابات میں امیدوار بھی ہیں].

یہ بہچالی کے لیے ایک پریشان کن عمل تھا [جب اکشنر نے پارٹی قیادت پر کیس دائر کیا، جس سے اکشنر اور میدان میں موجود ان کی حامیوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا کیونکہ وہ پارٹی کے قوانین نظم و ضبط کے برخلاف قدم اٹھا رہے تھے]۔

16 سال بعد ایک بار پھر بہچالی نے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اب انہوں نے ایسا کیوں کیا؟

ایونی اوزگورل: یہ خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا۔ کیوں؟ میں ان کے فیصلے بارے سوچ رہا تھا جب اگلے دن ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر سن رہا تھا اور یہ واضح ہو رہا کہ یہ [امریکی اور اسرائیلی] لوگ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایران کو گھٹنوں کے بل گرانا چاہتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ایران ایک اچھی ریاست ہے۔ ترکی اور ایران ہمیشہ مشرق وسطی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ لیکن اب ترکی اور ایران، شام میں بحران کے خاتمے کے لیے اتحادی بن چکے ہیں اور وہاں امن لانے کی کوشش کر رہے ہیں [ترکی اور ایران، امریکی قیادت میں جینیوا امن عمل کے مقابلے میں روس کی قیادت میں آستانہ امن عمل کی حمایت کر رہے ہیں]۔ امریکہ اور اسرائیل کو ہمارے اس اتحاد پر ایک واضح اعتراض ہے۔

جب امریکی انتظامیہ نے ایران اور وہ ممالک جن کے ایران کے ساتھ معاہدے ہیں کے خلاف پابندیاں عائد کیں تو یہ ترکی اور روس پر اثرانداز ہوں گی۔ درحقیقت، امریکہ نے ناٹو ممبرشپ کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک سیاسی وسوسہ کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی واضع طور پر یہ کہتے ہیں، اگر آپ ناٹو ممبر ہیں تو آپ کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اگر نہیں ہیں تو ہمیں بتاؤ۔

آنے والے عرصہ میں ناٹو کے حوالے سے تذبذب ہمارے لیے ایک اہم ترین مسئلہ ہو گی۔ انتخابات کے بعد، ہمارے پاس ایک [مضبوط] حکومت ہو گی جو اس طرح کے مسائل سے نبٹ سکتی ہے اور جاندار پالیسیاں تشکیل دے کر ان پر فیصلہ کن طریقے سے عملدرآمد کر سکتی ہے۔

پھر تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بہچالی کی طرف سے ایردوان کی حمایت کا مرکزی محرک، ریاست کی بقا ہے؟

ایونی اوزگورل: الپ ارسلان تورکش [بہچالی کے پیش رو اور ملی حرکت پارٹی کے لیجنڈری بانی] نے ہمیشہ ریاست کو فیصلہ کن عنصر کے طور پر دیکھا ہے۔ کسی بھی فیصلہ سازی سے قبل تورکش کے ذہن میں ریاست ہمیشہ قوسین میں کھڑی ہوتی تھی۔ ان کے لیے ریاست تمام خدشات و امکانات میں سب سے پہلی ترجیح ہوتی تھی۔ وہ اس پر یقین رکھتے تھے کہ اگر ریاست غلطی کرتی ہے تو ہمیں اس کو متنبہ کرنا چاہیے۔

تورکش کے بعد بہچالی ملی حرکت پارٹی کے اس نظریے پر قائد بنے کہ اہم ترین اور سب سے اچھا سیاسی انتخاب، ریاستی جھلک کے ساتھ ہونا چاہیے۔

انگریزی متن کے لیے یہاں جائیں۔

تبصرے
Loading...