یمن میں ہر دو گھنٹے میں ایک ماں اور چھ نومولود بچے مرتے ہیں

0 1,524

بچوں کے حقوق کے کنونشن (CRC) کے 30 سال مکمل ہونے والے ہیں لیکن ماں اور بچے اب بھی یمن میں جاری سعودی جنگ کے صدمے برداشت کر رہے ہیں۔ یہ وحشیانہ تنازع مسلسل عام شہریوں کی جانیں لے رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق صحت کی خراب سہولیات کی وجہ سے ہر دو گھنٹے میں ایک ماں اور چھ نومولود بچے مر رہے ہیں۔

انسانی بحران سے متاثر ملک میں کہ جہاں ہر 260 عورتوں میں سے ایک حمل اور بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کر جاتی ہے، اور ہر 37 میں سے ایک نومولود بچہ زندگی کے پہلے ہی مہینے میں مر جاتا ہے، یونیسیف کا کہنا ہے کہ بنیادی صحت کی عام خدمات کی کمی ماؤں اور بچے کی پیدائش میں مدد دینے کے لیے ضروری ہیں۔ رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ” صحت کی تنصیبات میں سے صرف 51 فیصد ہی اپنی مکمل گنجائش کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ یوں ان تنصیبات کو ادویات، آلات اور عملے کی سخت قلت کا سامنا ہے۔” یونیسیف نے یہ بھی کہا کہ "گھر پر ہونے والی پیدائش کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ یمنی خاندان روز بروز غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔”

یمنی شہری سعودی عرب کی زیر قیادت مداخلت کے آغاز کے بعد سے جاری خانہ جنگی میں ناکافی غذائیت، بھوک اور ہیضے کی وباء کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2017ء کے اختتام پر کئی ہفتے سعودی عرب نے یمنی بندرگاہوں کی ناکابندی کی جو ان کے مطابق حوثیوں کے ہتھیار درآمد کرنے کو روکنے کے لیے تھا۔ اس کے یمن پر بدترین اثرات مرتب ہوئے، جو عموماً اپنی 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، جو سابق سعودی وزیر دفاع ہیں، اور سعودی اتحادیوں نے مارچ 2015ء میں آپریشن Decisive Storm کا آغاز کیا۔ اس وقت جاری جنگ کا نتیجہ دنیا کے بدترین انسانی بحران کی صورت میں نکلا ہے جس سے تقریباً 24 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں یعنی کہ کُل آبادی کا تقریباً 80 فیصد کہ جسے یمن میں مدد اور تحفظ کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کا عالمی ادارۂ صحت (WHO) کہتا ہے کہ 2015ء میں اتحادیوں کی مداخلت کے بعد سے تقریباً 10 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں لیکن دیگر انسانی حقوق کی انجمنیں کہتی ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد پانچ گُنا زیادہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر متعدد بار انتباہ کیے جانے کے باوجود مغربی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کو عسکری مدد، جن میں ہتھیاروں کی فروخت شامل ہے، ملک میں انسانی بحران کے مزید سنگین روپ اختیار کرنےکا خطرہ پیدا کررہی ہے۔

سعودی اتحاد کی بمباری سے بچوں کی ہلاکتیں

اب تک انسانی حقوق کی کئی سنگین خلاف ورزیاں دیکھی گئی ہیں۔ اپریل میں سعودی اتحاد نے باغیوں کے قبضے میں موجود دارالحکومت صنعاء کے رہائشی علاقے میں گھروں اور ایک اسکول پر بمباری کی، جس میں 14 بچے جاں بحق اور 16 شدید زخمی ہوئے۔ یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ گیرٹ کاپیلائر ے کہا کہ دھماکے”کھانے کے وقت ہوئے کہ جب طلبہ کلاس میں موجود تھے۔” انہوں نے کہا کہ "شدید زخمی بچے، جن میں سے موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں، اب صنعاء کے ہسپتالوں میں ہیں۔ بیشتر کی عمریں 9 سال سے کم ہیں۔ ایک لڑکی گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ ان بچوں نے جن حالات کا سامنا کیا اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے – پھر والدین کے خوف اور احساسِ جرم کا اندازہ کیجیے کہ جو بچوں کو اسکول بھیجنے پر انہیں محسوس ہوا ہوگا، حالانکہ یہ والدین کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو اسکول بھیجیں۔ بچوں کو مارنا اور انہیں معذور کرنا بچوں کے حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہیں۔”

تبصرے
Loading...