استنبول کے نئے ایئرپورٹ کا پہلا سال، 40 ملین سے زیادہ مسافروں کی آمد

0 221

استنبول کے نئے عظیم ہوائی اڈے نے، جسے ترکی دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ بنانے کا خواہاں ہے، اپنے پہلے سال میں 40.47 ملین مسافروں کی میزبانی کی۔ ہوائی اڈے کے پہلے مرحلے کا افتتاح 29 اکتوبر 2018ء کو ایک عظیم الشان افتتاحی تقریب میں کیا گیا تھا یعنی اُسی دن جس روز ترکی نے اپنا 95 واں یومِ جمہوریہ منایا تھا۔

ایک دن بعد 31 اکتوبر سے ایئرپورٹ سے کمرشل پروازوں کا آغاز ہوا اور 7 اپریل سے یہ پہلا مرحلہ مکمل طور پر آپریشنل ہو گیا کیونکہ 6 اپریل سے فضائی ٹریفک اتاترک ایئرپورٹ سے یہاں منتقل ہونا شروع ہو گیا۔ ہزاروں ٹن آلات شہر کے ایک ہوائی اڈے سے دوسرے پر منتقل کیے گئے کہ جسے ہوا بازی کی تاریخ میں باربرداری کا سب سے بڑا آپریشن کہا گیا۔

یہ نیا ہوائی اڈہ بحیرۂ اسود کے ساحل سے 30 کلومیٹر دور واقع ہے، جو اب تک 2,52,795 ہوائی جہازوں کو خدمات دے چکا ہے جس میں 63.856 مقامی اور 1,88,939 بین الاقوامی پروازیں شامل ہیں، وزیر ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر جاہد طورخان نے بتایا۔ وزیر کے مطابق "افتتاح سے لے کر کُل 40.47 ملین مسافر اس نئے ہوائی اڈے پر آئے، جن میں 9.872 ملین مسافروں کی آمد ڈومیسٹک فلائٹس اور تقریباً 30.597 ملین کی انٹرنیشنل فلائٹس کے ذریعے ہوئی۔”

اس ہوائی اڈے پر روزانہ اوسطاً مقامی پروازوں کے 49,051 اور بین الاقوامی پروازوں سے آنے والے 1,52,558 مسافروں کو خدمات فراہم کی گئیں۔ "مقامی پروازوں کے 310 اور بین الاقوامی پروازوں کے تقریباً 932 جہاز اوسطاً روزانہ یہاں سے پرواز بھرتے یا اترتے رہے۔” وزیر نے مزید بتایا۔

ایئرپورٹ موجودہ مرحلے میں سالانہ 90 ملین مسافروں کو سنبھال سکتا ہے، جو بہت بڑی تعداد ہونے کے باوجود تمام مراحل کے تکمیل پر کُل 200 ملین مسافروں کی گنجائش کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

ایک مرتبہ مکمل آپریشنل ہو جانے کے بعد یہ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہوگا۔ ایئرپورٹ کی تعمیر اور توسیع کے تمام چار مراحل 2028ء تک مکمل ہو جائیں گے کہ جس میں چھ رن وے بھی شامل ہیں۔

یہ عالمی ہوا بازی کا مرکز ہونے کے تیار ہے کہ جو دنیا بھر کے 300 سے زیادہ مقامات کے لیے 100 سے زیادہ ایئرلائنز اور پروازوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

ایئرپورٹ کی موجودہ حالت پر وزیر نے کہا کہ ایئرپورٹ کے پہلے مرحلے میں تیسرے شمالاً-جنوباً رن وے کی تعمیر پوری رفتار کے ساتھ جاری ہے۔ ہم تیسرے شمالاً-جنوباً رن وے کی اگلے سال جون تک تکمیل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ریجنل ایئر ٹریفک کنٹرول سینٹر، ایک ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ایئرپورٹ ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ (ARFF) بلڈنگ کی تعمیر تیسرے رن وے کے ساتھ مکمل ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ 76.5 ملین مربع میٹرز رقبے کے علاقے میں تیسرے متوازی رن وے کی تعمیر تکمیل کے قریب ہے کہ جو بحیرۂ اسود کے ساحل پر ینی کوئے اور آق پینار کے درمیان واقع ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ رن وے 2020ء کے موسمِ گرما تک کام شروع کردے گا۔ اس کے افتتاح کے ساتھ ہی ٹرپل پیریلل رن وے آپریشن شروع ہو جائے گا جو اس وقت دنیا کے چند ہوائی اڈوں پر ہی موجود ہے۔

وزیر نے یہ بھی بتایا کہ شرقاً-غرباً رن وے اور ایک متوازی ٹیکسی وے بھی دوسرے مرحلے میں تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 4,50,000 مربع میٹر پر مشتمل دوسری ٹرمینل بلڈنگ کام کرنا شروع کرے گی جس کے ساتھ مسافروں کی تعداد 80 ملین تک پہنچ جائے گی اور اس عمل کے دوران اضافی متوازی رن وے اور متوازی ٹیکسی وے اور ایک اضافی ایپرن کا استعمال کیا جائے گا۔

جب مسافروں کی تعداد 110 ملین تک پہنچے گی تو 1,70,000 مربع میٹر کا نیا سیٹیلائٹ ٹرمینل چوتھے مرحلے کے اختتام پر اپنا کام شروع کرے گا۔

طورخان نے کہا کہ یہ ایئرپورٹ ایک ماحول دوست گرین ایئرپورٹ کی حیثیت سے بنایا گیا ہے جو اپنی توانائی خود پیدا کرتا ہے۔

تبصرے
Loading...