عسکری ٹیک اور کے خلاف ہیں، پاکستان نے اسلام آباد میں افغان امن کانفرنس بلا لی

0 1,345

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتی سکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے۔ افغان مسئلے کا پرامن حل مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اگلے ہفتے افغان امن کانفرنس پر ہونے والی کانفرنس کی سربراہی کرے گا۔

ایک سوال پر ترجمان نے کہا افغانستان سے متعلق کانفرنس ملتوی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں،افغان امن کانفرنس 18 تا 19جولائی کو اسلام آباد میں ہوگی۔ افغان مسئلے کے حل سے مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہونی چاہیے ۔ ہم افغانستان میں عسکری ٹیک اوور کے خلاف ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان پر مجوزہ تین روزہ کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا جس میں سابق افغان صدر حامد کرزئی، پاکستان کے لیے افغانستان کے نمائندہ خصوصی محمد عمر داؤدزئی، سابق وزیرِ داخلہ ڈاکڑ حضرت عمر زخیلوال، صلاح الدین ربانی، ہزارہ برادری کے سینئر رہنما حاجی محقق، گل بدین حکمت یار اور احمد ولی مسعود کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اطلاع دی ہے کہ انہیں تاحال اس امن کانفرنس کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

ترکی نے 24 سے 4 مئی تک افغان امن کانفرنس استنبول میں بلائی تھی جس میں افغانستان کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ لیکن طالبان نے وجہ بتائے بغیر استنبول آنے سے انکار کر دیا تھا۔ ترکی نے افغان امن کانفرنس کو افغان طالبان کے بغیر غیر ضروری قرار دیتے ہوئے یہ کانفرنس ملتوی کر دی تھی-

بعض اطلاعات کے مطابق صدر ایردوان نے اس کے بعد ترکی کے افغانستان سے متعلق تمام فیصلوں میں افغان طالبان سے مشاورت کو بھی ختم کر دیا تھا۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں حامد کرزئی سمیت اعلیٰ افغان قیادت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں افغانستان کے مسائل کے حل کی نئی امید پیدا ہوگی۔

پاکستانی دفتر خارجہ  نے واضع کیا کہ ہم مہاجرین لیں گے نہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہونی چاہیے۔ زاہد حفیظ نے یہ بھی کہا سپن بولدک کراسنگ سے 25 ہزار لوگ روزانہ گزرتے ہیں، ہماری خواہش ہے یہ کراسنگ جلد ازجلد دوبارہ کھلے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے اس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں عروج پر ہیں اور طالبان افغانستان کے 85 فی صد علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

بدھ کو افغان طالبان نے پاکستان کی سرحد کے قریب اسپین بولدک کے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے طالبان کے حملے کو ناکام بنا دیا ہے اور علاقہ بدستور افغان فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان عوام کو مزید خونریزی سے بچانے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان تصفیے کے لیے کوشاں ہے۔

تبصرے
Loading...