افریقہ ہمارے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے، صدر ایردوان

0 310

ترکی-افریقہ III اکنامک اینڈ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ہر موقع پر یہ کہتا رہا ہوں کہ افریقہ ہمارے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔ ہم نے ملک بھر میں اپم کاموں سے ثابت کیا ہے کہ افریقی بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہمارے احساسات محض زبانی کلامی نہیں ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں ترکی-افریقہ III اکنامک اینڈ بزنس فورم خطاب کیا۔

"اس فورم پر سرمایہ کاری کے باہمی مواقع پر بات کی گئی”

اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ فورم ترکی اور افریقہ کے مابین تعاون کو مضبوط کرے گا، صدر ایردوان نے کئی شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر زور دیا جن میں توانائی، زراعت، صحت، بینکاری اور جدت طرازی شامل رہے۔ انہوں نے کہا کہ "شرکا نے ایسی پالیسیوں پر اپنے نظریات پیش کیے کہ جو ترکی اور اس بر اعظم کے ممالک کے درمیان امکانات کو تحریک دیں گے۔ ہمارے تعاون کے مضبوط شعبوں کے علاوہ جن پہلوؤں سے ہمیں کام کرنا چاہیے، ان پر بھی بات چیت کی گئی۔ میرا ماننا ہے کہ یہاں جو معاملات سامنے لائے گئے وہ ہمیں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی عطا کریں گے۔”

"ترکی-افریقہ تعلقات ہمہ جہت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں”

صدر نے کہا کہ "میں ہر موقع پر یہ کہتا رہا ہوں کہ افریقہ ہمارے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔ ہم نے ملک بھر میں اپم کاموں سے ثابت کیا ہے کہ افریقی بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہمارے احساسات محض زبانی کلامی نہیں ہیں۔ الحمد للہ ترکی-افریقہ تعلقات ہر گزرتے روز کے ساتھ یکساں بنیادوں پر اور ہمہ جہت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ترک سرمایہ کاروں کی بر اعظم افریقہ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے تو ہمارے افریقی دوست ترکی میں ملنے والے مواقع دریافت کر رہے ہیں، خاص طور پر سیاحت، صحت، بنیادی ڈھانچے اور پیداوار کے شعبوں میں، اور ہمارے وہ افریقی بھائی اور بہنیں جنہوں نے ترکی کا جدید اور اعلیٰ صحت کا نظام دیکھا ہے، اپنی بیماریوں کے علاج کے لیے ترکی کے ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اور ترکی کی دفاعی صنعت کی بنائی گئی مصنوعات افریقی عوام کے سرحدی تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔”

"ویکسینیشن کے معاملے پر ہم مثالی رویہ اختیار کریں گے”

کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ جب معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک، خاص طور پر مغربی ملک وبائی صورت حال کو سنبھالنے میں ناکام رہے، ترکی نے اپنے تمام تر وسائل اپنے افریقی بھائیوں اور بہنوں کے لیے استعمال کیے۔ "ایسے 44 افریقی ممالک ہیں کہ جنہیں ہم نے طبی آلات اور رسد فراہم کی۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہماری کوششوں نے افریقہ کی وبا کے خلاف جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان شاء اللہ ہم ویکسینیشن کے معاملے میں بھی مثالی رویہ اختیار کریں گے جب ہماری ویکسین، ترکو ویک، تیار ہو جائے گی جو اس وقت منظوری کے مراحل میں ہے۔ جب سے وبا شروع ہوئی ہے، ہمارا طرز عمل بالکل واضح ہے، ہم ویکسین کو منافع کمانے کی چیز نہیں سمجھتے۔ اس طرح ہم ترکش کونسل کے اراکین کے ساتھ مل کر افریقہ کے ممالک کو ویکسین فراہم کریں گے۔”

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: