اتنے حملوں اور صدموں کے بعد ترک معیشت اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں وہ کمزوریوں کے مقابلے میں زیادہ لچک اور بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے، صدر ایردوان

0 156

ترک قومی اسمبلی کی 27 ویں میعاد کے چوتھے قانون ساز سال کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ اتنے حملوں اور دھچکوں کے بعد ترک معیشت اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ یہ کمزوریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت اور بحرانوں کے مقابلے کے لیے زیادہ تیار ہے۔ کئی ریاستیں، جن میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں، اس دھچکے سے نہیں بچ پائے جو صحتِ عامہ کی خدمات سے لگنا شروع ہوا اور پھر پوری معیشت اور انتظامی نظام تک پھیلتا چلا گیا۔ ان کے برعکس ترکی خطے اور پوری دنیا کے لیے ابھرتی ہوئی مثال بن چکا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی (GNAT) کی 27 ویں میعاد کے چوتھے قانون ساز کے آغاز پر افتتاحی خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "معیشت حالیہ شدید حملوں کے دوران ترکی کے سب سے زیادہ ہدف بنائے گئے پہلوؤں میں سے ایک ہے، جس کا آغاز غیزی مظاہروں سے ہوا تھا۔ بالآخر ہم نے اگست 2018ء میں شرحِ تبادلہ پر ہماری معیشت کے ساتھ کھیلے گئے کھیل کو بگاڑ دیا، اور 2019ء میں بہت مضبوط منظرنامے تک پہنچے۔

درحقیقت، گزشتہ سال موجودہ اکاؤنٹ بیلنس میں 8.8 ارب ڈالر اضافی تھے۔ افراطِ زر گھٹتے ہوئے 11.8 فیصد رہ گئی۔ بجٹ خسارے اور قومی آمدنی کے مابین تناسب 3 فیصد سے نیچے آ گیا۔ پھر 2019ء میں ہماری برآمدات 181 ارب ڈالرز تک پہنچیں، اور ہم برآمدات میں نمو کے لحاظ سے دنیا کے50 ممالک میں چھٹے نمبر پر رہے۔ اس طرح ہم عالمی برآمدات میں اپنا حصہ 1 فیصد تک لائے۔

"وباء کے دوران ہماری ترجیح اپنی قوم کی صحت کا تحفظ تھا "

تمام غیر ناموافق حالات کے باوجود ہم نے 2019ء کے بعد بڑی توقعات کے ساتھ 2020ء کا آغاز کیا، جب ہماری سالانہ شرحِ نمو 1 فیصد پر تھی۔ اِس سال کی پہلی سہ ماہی میں ہم نے 4.4 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی جو اہداف کی جانب پورے عزم کے ساتھ جاری پیش رفت کی علامت تھی۔

ایسے ماحول میں کرونا وائرس کی وباء آ گئی، جس نے نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پوری دنیا کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وباء کے دوران ہماری اوّلین ترجیح یقیناً اپنی قوم کی صحت کا تحفظ تھا۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ ہماری معیشت کم از کم نقصان کے ساتھ اس وبائی صورت حال سے باہر نکلے اور اس کے لیے ہم نے سپورٹ پیکیجز متعارف کروائے۔ ہمارے متعارف کردہ سپورٹ پیکیجز کی کُل مالیت 495 ارب ترک لیرا تک پہنچ چکی ہے؛ جو قومی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔

سوشل پروٹیکشن شیلڈ کے تحت ہم نے اپنی قوم اور معیشت کے لیے 150 ارب ترک ترک لیرا ادا کیے ہیں۔ اس تناظر میں ہم نے اب تک مختصر مدتی ورکنگ الاؤنس کے ذریعے تقریباً 19 ارب ترک لیرا اپنے ملازمین کو منتقل کیے ہیں۔ ہم نے ملازمتوں کو بچانے کے لیے کیش ویج سپورٹ کے لیے تقریباً 4.5 ارب ترک لیرا استعمال کیے۔ ہم نے بے روزگاری الاؤنس کو فعال انداز میں استعمال کیا اور عوامی مفاد کے لیے 3.6 ارب ترک لیرا کی سپورٹ دی۔

اس کے علاوہ سوشل سیکیورٹی آرگنائزیشن (SGK) اور کاریگروں اور خود کام کرنے والوں کے لیے سوشل سکیورٹی آرگنائزیشن (Bag-Kur) کی 40 ارب ترک لیرا تک پہنچنے والی ادائیگی ملتوی کی اور تقریباً 30 ارب ترک لیرا کی ٹیکس ادائیگی بھی۔ ہم نے ٹیکس میں کمی، حادثاتی صورت کے لیے موجود قوانین کا استعمال کرتے ہوئے اور کریڈٹ گارنٹی فنڈز کی حد میں اضافہ کرکے اپنی معیشت کو سہارا دیا۔ سرکاری بینکوں کو آگے بڑھا کر ہم نے یہ یقینی بنایا کہ 267 ارب ترک لیرا سے زیادہ ہماری معیشت میں منتقل ہوں۔ ہم نے اس امر کو یقینی بنایا کہ معاشرے کے ہر طبقے کی مالی ضروریات پوری کی جائیں جیسا کہ انفرادی مدد، تاجروں کی مدد، کاروباری دیکھ بھال کی سپورٹ، کارپوریشن اور ذاتی قرضوں کی ادائیگی کا اضافی وقت دے کر۔

"تیسری سہ ماہی کے لیے تمام اشاریے ظاہر کر رہے ہیں کہ معیشت تیزی سے بحال ہو رہی ہے”

بلاشبہ سال کی دوسری سہ ماہی میں 9.9 فیصد کی منفی نمو افسوس ناک ہے۔ البتہ جب ہم عمومی منظرنامہ دیکھتے ہیں تو ترکی OECD اور یورپی یونین کے ممالک میں معیشت سکڑنے کے اوسط تناسب سے کہیں کم ہے۔ الحمد للہ تیسری سہ ماہی کے لیے تمام اشاریے ظاہر کر رہے ہیں کہ معیشت تیزی سے بحال ہو رہی ہے اور بہت مختصر وقت میں سارے خسارے پورے ہو جائیں گے۔ ہر اشاریہ اور ڈیٹا اس منظرنامے کی توثیق کر رہا ہے۔

ہمارا ہدف ہے V کی شکل میں معیشت کی بحالی اور اس سال کے اختتام تک مثبت نمو حاصل کرنا۔ اگلے سال کے لیے جو شرح نمو ہم نے طے کی ہے وہ 5.8 فیصد ہے۔ در حقیقت ، ہم نے توقعات کو ایک محتاط اندازے تک ہی رکھنا مناسب سمجھا ہے، حالانکہ ہمیں یقین ہے کہ نمو کہیں زیادہ ہوگی۔ اتنے حملوں اور صدموں کے بعد ترک معیشت اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں وہ کمزوریوں کے مقابلے میں زیادہ لچک اور بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے۔

"ترکی اپنے خطے اور دنیا بھر کا ایک ابھرتی ہوئی مثال بن چکا ہے”

کئی ریاستیں، جن میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں، اس دھچکے سے نہیں بچ پائے جو صحتِ عامہ کی خدمات سے لگنا شروع ہوا اور پھر پوری معیشت اور انتظامی نظام تک پھیلتا چلا گیا۔ ان کے برعکس ترکی خطے اور پوری دنیا کے لیے ابھرتی ہوئی مثال بن چکا ہے۔

OECD نے ظاہر کیا کہ ترکی دنیا بھر میں وباء سے سب سے کم متاثر ہونے والی معیشتوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ہم اپنے بجٹ خسارے میں معمولی اضافے کے باوجود کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم 10 قدم آگے بڑھے ہیں اور اس وقت عالمی بینک کی Ease of Doing Business Index یعنی کاروبار میں آسانی کے اشاریے میں 33 ویں نمبر پر ہیں جو ہماری اصلاحات کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔

"ہم یقینی بنائیں گے کہ ترکی معیشت سمیت ہر شعبے میں 2023ء کے لیے طے شدہ اہداف حاصل کرے”

ہم نے اگلے تین سال کے لیے ایک جدید، انتہائی کارآمد، برآمدات کی جانب جھکاؤ رکھنے والے اور جامع ترقیاتی ماڈل پر مشتمل ایک نیا اقتصادی پروگرام تیار کیا ہے۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ ترکی ان شاء اللہ معیشت سمیت ہر شعبے میں 2023ء کے لیے اپنے اہداف کو حاصل کرے۔

چین سے شروع ہوکر کچھ ہی عرصے میں پوری دنیا میں پھیل جانے والے اس مرض کا ابھی کوئی حتمی علاج نہیں ہے۔ اگرچہ ویکسین اسٹڈیز ایک خاص سطح تک پہنچ چکی ہیں، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے قیام میں وقت لگے گا تاکہ ویکسین پوری دنیا کا احاطہ کرے۔ دوسرے ملکوں کی ویکسین اسٹڈیز پر نظریں جمانے کے ساتھ ساتھ ترکی اپنی ویکسین بنانے کی جامع کوششیں بھی کر رہا ہے۔

جب ہم وباء کے خلاف دنیا کے دیگر ملکوں کے طریقوں پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ترکی ان میں سے کئی ملکوں سے آگے ہے۔ یقیناً صحت کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے میں جو عظیم کارنامے ہم نے گزشتہ 18 سال میں انجام دیے ہیں، انہوں نے موجودہ مثبت صورت حال میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وباء کے آغاز سے اب تک محض ہسپتالوں میں بستروں کی گنجائش میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ 15 ہزار ہے۔ اللہ کے فضل سے ہم صحت کے شعبے میں اس مثبت صورت حال کو برقرار رکھیں گے بلکہ کل قونیہ میں سٹی ہسپتال کا افتتاح کرکے ایک قدم مزید آگے بڑھیں گے۔

ہمارے ہیلتھ کیئر ماہرین کی تعداد 11 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو سرکاری شعبے میں ملازمت کی سب سے بڑی شرح ہے۔ اگر ترکی نے اپنا صحت کا نظام اور اس میں موجود گنجائش اس حد تک بہتر نہ بنائی ہوتی تو خدا نہ کرے ہم اب تک وباء کے ہاتھوں مکمل شکست کھا چکے ہوتے۔ میں اس موقع پر اپنے صحت کے ماہرین کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے وباء کے دوران بے لوث ہو کر اپنی خدمات انجام دیں۔ ریاست اور عوام کے ساتھ مل کر ہم اس مرض کو شکست دیں گے۔

"ترکی نے وباء کے دوران ملک اور بیرونِ ملک پوری عزت و احترام کے ساتھ کام کیا”

وباء کے خلاف جنگ جاری رکھتے ہوئے اور اپنے شہریوں کو بلاتعطل خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے 153 ممالک اور 8 بین الاقوامی اداروں کی امدادی اپیل پر بھی لبیک کہا۔ اس کے علاوہ ہم فضائی، زمینی اور بحری راستوں سے اپنے تقریباً 1 لاکھ شہریوں کو دنیا کے 141 مختلف ممالک سے وطن واپس لائے، جہاں وہ عارضی طور پر مقیم تھے۔ اس کے علاوہ ہم نے 67 ممالک کے ساڑھے 5 ہزار شہریوں کے لیے بھی اپنے ملکوں کو واپسی ممکن بنائی۔

اس وباء کے دوران کہ جس میں ترقی یافتہ ممالک تک نے اپنے شہریوں کو بے سر و سامان چھوڑ دیا، ترکی نے اندرون و بیرونِ ملک پوری عزت و احترام کے ساتھ کام کیا۔ نہ ہمارا ملک اور نہ ہی دنیا کا کوئی دوسرا ملک اب تک وباء سے مکمل طور پر نمٹ پایا ہے۔ ہمارا ملک بروقت حفاظتی تدابیر اور علاج کے مؤثر طریقوں کی بدولت اس پر گرفت پانے میں کامیاب ہوا ہے۔ ہم قدرتی یا طبی علاج کے ذریعے اس وباء کا خطرہ ٹل جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

وبائی امراض کے خلاف ہمارا سب سے مؤثر اور مضبوط طریقہ ہے صفائی، ماسک اور فاصلہ، جسے ہم نے تمام کا نام دیا ہے۔ اللہ کے فضل سے ہم مل کر اس وائرس کو شکست دیں گے اور صحت، امن و خوشحالی کے حامل مستقبل کی جانب سفر شانہ بشانہ جاری رکھیں گے۔

اس تاثرات کے ساتھ میں ایک مرتبہ پھر چاہتا ہوں کہ ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی 27 ویں میعاد کا چوتھے قانون ساز سال ہمارے ملک، عوام اور اراکینِ پارلیمان کے لیے مبارک ثابت ہو۔

تبصرے
Loading...