آق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد، پارلیمنٹ میں الائنس بل پیش

0 849

ترکی کی حکمران جماعت آق پارٹی اور اپوزیشن جماعت ملی حرکت پارٹی (ایم ایچ پی) کے درمیان انتخابی اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ گذشتہ روز ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملی حرکت پارٹی کے چیئرمین دولت بہچالی کی ملاقات میں اس کا اتحاد کا نام "عوامی اتحاد” رکھا گیا۔

آج دونوں پارٹیوں پر مشتمل کمیٹی  نے اتحاد کا ہوم ورک مکمل کر کے نئے صدارتی نظام میں اتحاد بنانے کی قانونی اور پارلیمانی بنیادیں قائم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں 26 آرٹیکل پر مشتمل بل پیش کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ سے بل سے منظوری کے بعد سیاسی جماعتیں قانون کے مطابق اتحاد قائم کر سکیں گی۔

انتخابی اتحاد سے ترک سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو گی۔ اس اتحاد کی راہ اس وقت ہموار ہوئی تھی جب ملی حرکت پارٹی کے چیئرمین دولت بہچالی نے اعلان کیا تھا کہ اس کی پارٹی 2019ء کے صدارتی انتخابات میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی بلکہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی حمایت کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق بل اتحادی پارٹیوں کے درمیان انتخابی مفاہمت کی راہ ہموار کرے گا۔ اور اتحاد میں شامل ہر پارٹی بیلٹ پر اپنے نام اور نشان کو برقرار رکھے گی تاکہ شہری اپنی پسندیدہ پارٹی کو ووٹ دے سکیں۔ حتمی گنتی میں اتحادی جماعتوں کے ووٹوں کو جمع کیا جائے گا۔

آق پارٹی اورملی حرکت پارٹی کے درمیان صدارتی اور پارلیمانی انتخانات کے لیے اتحاد قائم ہو چکا ہے جبکہ بلدیاتی اتحاد کے بارے کوئی خبر نہیں کہ یہ اتحاد 2018ء کے بلدیاتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو گا یا نہیں۔

نئے قائم ہونے والے اتحاد میں مزید سیاسی جماعتوں کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ بیوک برلک پارٹی (عظیم وحدت پارٹی) کے چیئرمین نے ٹیلی ویژن پر اتحاد کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا اتحاد میں شامل ہونے بارے کوئی منفی رائے نہیں ہے۔

اس کے علاوہ سعادت پارٹی کے اتحاد میں شامل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ گذشتہ ہفتے ترک صدر ایردوان ملاقات کے بعد سعادت پارٹی کے چیئرمین کر مولا اولو نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ، "ہمیں اتحاد کے لیے تاحال کوئی دعوت نہیں ملی، لیکن اگر کسی کو ہماری ضرورت ہے تو ہم اس پر بات کر سکتے ہیں”۔

بیوک برلک پارٹی کے چیئرمین دستجی نے کہا کہ ان کی پارٹی، سعادت کو اس اتحاد میں دیکھنا چاہے گی۔

تبصرے
Loading...