آق پارٹی کے 18 سال مکمل، 2023ء کے لیے اصلاحات کا ایجنڈا ہدف پر

0 913

بدھ کو انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے قیام کے 18 سال مکمل ہوئے۔ رجب طیب ایردوان کی زیر قیادت 14 اگست 2001ء کو قائم ہونے والی آق پارٹی جدید ترکی کی جمہوری تاریخ کی کامیاب ترین جماعت ہے کہ جس نے مسلسل انتخابی کامیابیاں سمیٹی ہیں کہ جن کا نتیجہ ترکی میں ایسی اصلاحات کی صورت میں نکلا کہ جن سے جمہوری اصولوں اور معیشت کو عروج نصیب ہوا۔ پچھلے 18 سال میں ترکی کی سیاست کا منظرنامہ تبدیل کرنے کے بعد آق پارٹی اب نئی اصلاحات کی تیاریاں کر رہی ہے کہ جو ترکی کو 2023ء کے لیے اپنے اہداف تک پہنچنے کے قابل بنائیں گی۔

آق پارٹی نے اپنے قیام کے صرف ایک سال بعد 3 نومبر 2002ء کے عام انتخابات میں 34.3 فیصد ووٹ حاصل کرکے پارلیمان میں 363 نشستیں حاصل کی تھیں۔ تب سے آج تک آق پارٹی نے کبھی انتخابات میں شکست نہیں کھائی کہ جس کی زیر قیادت پچھلے 17 سال میں ترکی نے ایک مستحکم سیاسی ماحول میں معیشت، جمہوریت، شخصی آزادی اور حقوق، صحت و تعلیمی خدمات جیسے کئی شعبہ جات میں زبردست ترقی حاصل کی۔ صدر اور پارٹی چیئرمین رجب طیب ایردوان نے گزشتہ روز آق پارٹی کے 18 سال مکمل ہونے پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے پارٹی کو محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "میرے دوستو! کل کا دن بیت گیا، آج ایک نیا دن ہے اور یہی وہ دن ہے جو ایک روشن ترکی اور اس کے مستقبل کی جانب پیش قدمی کا دن ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ آق پارٹی 2023ء کے لیے اہداف کے مطابق اصلاحات میں پیش پیش رہے گی۔

وزیر خزانہ و مالیات بیرات البیرق نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ "آق پارٹی بھائی چارے، وفاداری، اتحاد اور مرد و عورت، بوڑھے اور نوجوان اور ہر شعبے اور ہر نسل کے 82 ملین عوام کی جماعت ہے۔” پارٹی کی 18 ویں سالگرہ کی باضابطہ تقریب 23 اگست کو انقرہ میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹرز میں ہوگی۔ جشن کی یہ تقریبات "ترکی کی محبت سے ہم ہمیشہ سے 18 سال کے ہیں” کے عنوان سے ہوں گی۔ اس موقع پر صدر ایردوان حاضرین سے خطاب کریں گے۔ آق پارٹی کے عہدیدار اور حامی بھی "YaşımızHep18” کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پارٹی کے 18 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں جو اس جشن کے عنوان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آق پارٹی کا مرکزی فیصلہ و انتظامی بورڈ (MKYK) کا اجلاس بھی اسی دن ہوگا۔

آق پارٹی، قیام سے آج تک تمام انتخابات میں کامیاب

1923ء میں جدید ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد انقرہ نے کئی حکومتیں دیکھیں جن میں اتحادی حکومتیں بھی شامل تھیں اور فوجی انتظامیہ کی حامل بھی۔ بدقسمتی سے 2002ء میں اپنی جدید تاریخ کے آغاز تک ترکی سیاسی جماعتوں کے مابین داخلی و سیاسی مقابلے بازی کا شکار رہا۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر حکومت کے اپنے ہی منصوبے، پالیسیاں اور ارادے ہیں۔ اسی لیے ترکی اپنی مقامی اور بین الاقوامی پالیسیوں میں عدم تسلسل، ناموافقت اور عدم مطابقت کی وجہ سے ایک حقیقی علاقائی و عالمی طاقت بننے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ البتہ 2002ء سے برسرِ اقتدار جماعت کی مسلسل انتخابی کامیابیوں سے غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ پارٹی اب تک چھ عام انتخابات، 2002ء، 2007ء، 2011ء، جون 2015ء، نومبر 2015ء کے قبل از وقت انتخابات اور 2018ء کے قبل از وقت انتخابات میں حصہ لے چکی ہے جن میں بالترتیب 34.3 فیصد، 46.6، 49.8، 40.9، 49.5 اور 42.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور 2004ء ،2009ء، 2014ء اور 2019ء میں بالترتیب 41.7 فیصد، 38.4، 42.9 اور 44.3 فیصد ووٹوں کے ساتھ چار بلدیاتی انتخابات میں بھی پہلے نمبر پر آئی۔

ایردوان، نئے نظام میں پہلے صدر

2018ء کے صدارتی انتخابات میں آق پارٹی کے رجب طیب ایردوان 52.4 فیصد ووٹ حاصل کرکے ترکی کے نئے صدارتی نظام کے تحت ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر بنے۔ 2017ء کے ریفرنڈم میں 51.4 فیصد ووٹرز کی رائے سے آئینی تبدیلی کے ساتھ صدارتی نظام حکومت عمل میں آیا۔ ایردوان 2014ء کے صدارتی انتخابات میں 51.8 فیصد ووٹ لے کر عوام کے منتخب کردہ پہلے صدر بھی بنے تھے۔ مزید یہ کہ گزشتہ 18 سال میں دو صدور اور چار وزرائے اعظم آق پارٹی سے منتخب ہوئے۔

اپنے قیام سے ہی آق پارٹی زبردست دباؤ میں رہی ہے جس میں 2002ء اور 2008ء میں اس پر پابندی کے معاملات بھی شامل رہے۔ پارٹی 2008ء کے مقدمے میں بمشکل بچ پائی کہ جب آئینی عدالت کے 11 میں سے چھ ججوں نے پارٹی پر پابندی لگانے کے حق میں رائے دی تھی۔ کسی پارٹی پر پابندی لگانے کے لیے سات ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

فوجی نگرانی کا نظام بھی پارٹی رہنماؤں کے لیے دردِ سر رہا ہے۔ 27 اپریل 2007ء کو صدر کے لیے آق پارٹی کے امیدوار کا اعلان ہوتے ہی ترک مسلح افواج (TSK) کی جانب سے پارٹی کو ایک یادداشت پیش کی گئی جو اس سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ یہ یادداشت ایک ممکنہ بغاوت کا اشارہ سمجھی گئی۔ البتہ 22 جولائی 2007ء کے انتخابات میں آق پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد صدارتی انتخابات پر حزب اختلاف کا ڈیڈلاک اپنے اختتام کو پہنچا۔

FETO دہشت گردوں کی جانب سے 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت

15 جولائی 2016ء کو ایک خونی بغاوت میں آق پارٹی اور صدر ایردوان بال بال بچے۔ بلاشبہ بغاوت کی یہ کوشش ترکی کی حالیہ تاریخ میں ایک نمایاں مقام بنا چکی ہے اور اسے جمہوریت کو درپیش بڑے اور اہم ترین چیلنجز میں سے ایک گردانا جا سکتا ہے۔ اُس رات بغاوت کی کوشش کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 251 شہریوں نے جانیں دیں اور بعد ازاں اس بغاوت کی پشت پر موجود گولن دہشت گرد گروپ (FETO) کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد آشکار ہوگئے۔ اُس رات صدر ایردوان نے فیس ٹیم کے ذریعے ترک شہریوں سے براہِ راست بات کی اور شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بغاوت کے خلاف مزاحمت کریں۔

پارٹی کا متحرک ڈھانچہ بوقتِ ضرورت تجدید کے عمل سے گزرتا ہوا

ایردوان نے صدارتی انتخابات کی تیاری کے لیے 2014ء میں پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔ 2017ء کے ریفرنڈم کے ذریعے منظوری ملنے سے ہونے والی آئینی تبدیلی کے بعد صدر نے آق پارٹی کی رکنیت کے لیے درخواست دی اور 21 مئی 2017ءکو ایک مرتبہ پھر پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

آق پارٹی اپنے متحرک ڈھانچے کی وجہ سےمعروف ہے، جو ضرورت پڑنے پر اپنا احیاء کرتا ہے۔ ایردوان نے بارہا پارٹی کے اندر "تھکاوٹ” کا عنصر در آنے کی بات کرتے ہوئے تجدید و احیاء کے عمل کی جانب رہنمائی کی۔ اس سلسلے میں پارٹی کے متعدد اراکین اور اہم صوبوں کے میئرز نے استعفے دیے۔

کئی ملین اراکین کے علاوہ پارٹی کے ووٹرز میں مختلف سیاسی پس منظر رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ اپنے پہلے انتخابات میں کامیابی کے بعد سے آق پارٹی نے اگلے انتخابات میں اپنے ووٹرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ اس لیے یہ امر بہت زیادہ ممکن ہے اور ہو سکتا ہے چند پارٹی اراکین کے لیے عام بات ہو کہ وہ اعلیٰ ترین سطح پر مسلسل کارکردگی پیش کرتے ہوئے اپنی توانائیاں کھو دیں۔

مذہبی اور اقلیتوں کے حقوق پر زور

آق پارٹی اور صدر ایردوان نے مذہبی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں اہم اصلاحات پر اقدامات اٹھاتے ہوئے حالیہ چند سالوں میں کئی منصوبوں پر عمل کا آغاز بھی کیا ہے۔ ان اصلاحات اور منصوبوں میں آشوری آرتھوڈوکس چرچ کا سنگِ بنیاد، اقلیتوں کو املاک کی واپسی اور سومیلا خانقاہ پر مذہبی تقریبات کا ایک مرتبہ پھر آغاز شامل ہیں۔

آق پارٹی کے حقوقِ انسانی ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ اس کا کام مذہبی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق پر "خاموش اصلاحات” کرنا ہے۔ سال 2010ء میں طرابزون کے ضلع ماچکا میں واقع سومیلا خانقاہ میں 88 سال بعد ایک مذہبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ خانقاہ پونٹک پہاڑوں میں 1200 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اب سالانہ 6 لاکھ افراد کا خیرمقدم کرتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے عالمی ثقافتی ورثے کا بھی حصہ ہے۔

عثمانی عہد میں مقبول اور جمہوری عہد میں بھی کام کرنے والے ادارے رم پبلشنگ نے 1950ء کی دہائی میں اپنی سرگرمیاں ختم کردی تھیں، یہاں تک کہ جون 2012ء میں ادارے نے ISTOS کے نام سے دوبارہ کام کا آغاز کیا۔2015ء میں جنوب مشرقی صوبہ ماردین کے ضلع مدیات میں ایک گاؤں الاغوز کو اس کا اصل آشوری نام ” بیت قسطان” لوٹایا گیا۔ اس کے علاوہ انقرہ میں ہولوکاسٹ متاثرین کی پہلی یادگار 2015ء میں ہوئی۔ اسی سال یہودیوں کی جانب سے عید حانوکا بھی منائی گئی۔ ترکی میں تقریباً 18 ہزار یہودی رہتے ہیں جن کی اکثریت استنبول میں ہے۔ تقریباً 1015 املاک اقلیتوں کو واپس کی گئیں۔ اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو بھی کافی مالی مدد فراہم کی گئی جبکہ وزارت تعلیم نے ارمنی نصابی کتب بھی تیار کیں۔

صدر ترکی نے استنبول میں نئے آشوری گرجے کا سنگِ بنیاد بھی رکھا، جو پہلا آشوری گرجا بھی ہے۔ نیا گرجا جمہوری عہد میں بننے والا پہلا نیا گرجا بھی ہوگا اور اس کی تکمیل دو سال میں متوقع ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترکی میں تقریباً 25 ہزار آشوری عیسائی رہتے ہیں جن میں سے 18 ہزار استنبول میں ہیں۔

اقلیتوں اور غیر ملکی اسکولوں کو اپنی زبان میں تعلیم دینے کا حق بھی حاصل ہے جن میں فرانسیسی، جرمن، اطالوی، آسٹریائی اور نجی امریکی اسکول شامل ہیں۔ غیر ملکی اور ترک شہری دونوں ہی ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ روم، ارمنی اورعبرانی اسکول بھی ہیں۔ یورپین کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 7 پری اسکول ایجوکیشن، 24 پرائمری، 21 سیکنڈری، 11 اقلیتی ہائی اسکول اور مزید 78 انٹرنیشنل اسکول مختلف سطح کی تعلیم دے رہے ہیں۔

آق پارٹی نے ترکی میں حجاب پر عائد پابندی کا بھی خاتمہ کیا کہ جس کی وجہ سے کئی خواتین اعلیٰ تعلیم یا سرکاری اداروں میں ملازمتوں سے محروم تھیں۔ ترکی میں حجاب پر پابندی کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا لیکن 1997ء میں پابندیاں مزید سخت ہوگئیں جب فوج نے ایک واقعے کے بعد قدامت پسند حکومت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ اس واقعے کو بعد ازاں 28 فروری کی "مابعد جدید” بغاوت کہا گیا۔

آق پارٹی نے 2010ء کے بعد جامعات کی طالبات کے لیے پابندیوں کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جبکہ سرکاری ملازمین پر اس پابندی کا خاتمہ 2013ء میں ہوا۔ آق پارٹی کی حکومت حجاب پر پابندی کے مسئلے کو حل کرنے میں پیش پیش رہی، جس نے لاکھوں مسلمان خواتین کو مجبور کردیا تھا کہ وہ اپنے عقیدے یا تعلیم/پروفیشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ سب شہریوں کے لیے جمہوری حقوق کی ضمانت کے ساتھ حکومت نے ایسے قوانین کی منظوری دی اور آئینی ترامیم کیں جو حجاب کرنے والی خواتین کو بھی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے اور سرکاری ملازم کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی گزارنے کا موقع دینے کو یقینی بناتی ہیں۔

تبصرے
Loading...