آق پارٹی کے 19 سال، ترکی کے مستقبل کی تعمیر جاری رکھنے کا عزم

0 243

حکمران انصاف و ترقی (آق) پارٹی نے بدھ کو اپنے قیام کے 19 سال مکمل کیے اور ساتھ ہی ملک کے مستقبل کی تعمیر اور مستقبل کی سرمایہ کاری اور خدمت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی ایک امید کے ساتھ مستقبل کی جانب نظریں جمائے ہوئے ہے، جس کی وجہ اس کے نوجوانوں کی زیادہ آبادی ہے جبکہ اس وقت مغرب میں اوسط عمر زیادہ ہے اور تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل ہیں، مشرق بدستور مستحکم ہے۔

قونیہ میں انٹرپرینیورز میٹنگ سمٹ کے لیے اپنے وڈیو پیغام میں صدر ایردوان نے زوردیا کہ انٹریپرینیورشپ ترک قوم کی ایک جبلّی خصوصیت ہے اور انٹریپرینیورشپ اور جدّت (انوویشن) کے شعبوں میں کوئی بھی موقع ملنے پر بہت سیر حاصل نتائج حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی انتظام اور معاشی نظام میں بڑی تبدیلیوں کے اس دور میں انٹرپرینیورشپ اہم مواقع دے رہی ہے۔

تقریباً دو دہائیوں تک پھیلے دورِ اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنی جمہوریت اور ترقیاتی ڈھانچے کے لیے مقرر کیے گئے 2023ء کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ان مواقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو گزشتہ 19 سال میں پیش کیے گئے ہیں اور پھر 2053ء کے لیے اپنے وژن کو پورا کریں گے۔”

ماحول دوست ترقی کے لیے ترکی کے نئے وژن پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سرکاری سے لے کر نجی شعبے تک سب کے کاندھوں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میرا ماننا ہے کہ یہ اجلاس اس عمل میں ہماری انقلابی نتائج کی سمت رہنمائی کرے گا کہ جس میں عالمی پیداوار اور لاجسٹکس کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں اور ڈجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت مضبوط تر ہو رہی ہے۔”

دو روزہ اجلاس ترک صدارت کی سرپرستی میں بدھ کو شروع ہوئی ہے۔

اس موقع پر پارٹی کے ترجمان عمر چیلق نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ آق پارٹی کے 19 سال بڑی سرمایہ کاریوں اور تاریخی اصلاحات سے عبارت ہیں۔

واضح رہے کہ آق پارٹی کا قیام 2001ء میں صدر رجب طیب ایردوان کی زیر قیادت آیا تھا اور جلد ہی یہ پارٹی مقبولیت کی حدوں کو عبور کرتی ہوئی 3 نومبر 2002ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد سے اب تک 2007ء، 2011ء اور 2015ء کے اور بعد ازاں 2015ء اور 2018ء کے عبوری انتخابات میں بھی بھرپور کامیابیاں حاصل کیں۔19 سال میں دو صدور اور چار وزرائے اعظم آق پارٹی سے آئے۔ 2018ء کے صدارتی انتخابات میں صدر ایردوان نئے صدارتی نظام کے تحت ملک کے پہلے جمہوری صدر بنے۔

تبصرے
Loading...