آق پارٹی نے جزوی دوبارہ گنتی پر بے ضابطگیاں نکلنے پر استنبول میں دوبارہ انتخابات کی درخواست دے دی

0 2,008

ترک حکمران جماعت آق پارٹی نے ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں مئیر شپ کے لیے دوبارہ انتخابات کے لیے درخواست دے دی۔ اس کے بیوکچیک میجے میں بھی بےضابطگیوں پر اپیل دائر کی ہے۔ یہ بات آق پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین نے منگل کی دوپہر میڈیا کو بتاتے ہوئے کہی۔

اس سے قبل ترک سپریم الیکشن کمیشن نے آق پارٹی کی مکمل دوبارہ گنتی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے صرف 21 ڈسٹرکٹس میں مزید 51 بیلٹ باکس کی دوبارہ گنتی کی تجویز دی تھی۔

آق پارٹی کے الیکشن بورڈ میں نمائندہ رجب اوزیل نے رپورٹر کو بتایا تھا کہ ان کی پارٹی کی بیوکچیک میجے میں نتائج متلوی کرنے کی درخواست کو کونسل نے رد کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ "ان کی پارٹی اس ڈسٹرکٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے بعد نتائج کو معطل کر کے دوبارہ انتخابات چاہتی ہے”۔

منگل کی صبح سپریم الیکشن کمیشن کے چئیرمین سعادی گووین نے کہا کہ مئیرشپ پر عدالتی عمل ابھی جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس متعلق کسی پٹیشن، مطالبے اور اعتراضات کے بارے میڈیا کو نہیں بتائیں گے جن کو دیکھا رہا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس نے سپریم الیکشن کمیشن کے حکم پر مبینہ طور پر ان 11،186 افراد کے متعلق تفتیشی آپریشن شروع کر دیا ہے جنہوں نے 31 مارچ کے بلدیاتی انتخابات سے قبل بیوکچیک میجے میں جاتے ہوئے اپنے پتے تبدیل کئے۔ آق پارٹی بیوکچیک میجے نے اس سے قبل 21000 فیک ووٹرز کی نشاندہی کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ان کو غلط طریقے سے لسٹوں کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

اس پٹیشن پر ڈسٹرکٹ کے رجسٹری آفس کا ایک افسر، ایک نامعلوم فرد اور اپوزیشن سیکرلر پارٹی جمہوریت خلق پارٹی کے امیدوار حسن آکگن کا رشتہ دار گرفتار کیا گیا۔ ان افراد کے خلاف بیوکچیک میجے پبلک پرازکیوٹر آفس میں عدالتی تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ان واقعے پر الیکشن کمیشن کی انتظامی انکوائری بھی جاری ہے۔

آق پارٹی کی پٹیشن میں کہا گیا کہ یہ تمام اقدامات میٹرو پولٹن مئیرشپ، ڈسٹرکٹ مئیرشپ اور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے بیوکچیک میجے میں نتائج روک کر دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

منگل کے روز اپوزیشن سیکولر جمہوریت خلق پارٹی کے ترجمان اور تیکردا ٹاؤن کے ڈپٹی فائیک اوز طارق نے کہا کہ بیوچیک میجے میں 24 جون 2018ء کے صدارتی انتخابات کے موقع پر موجود 172،351 ووٹوں سے بڑھ کر 31 مارچ 2019ء کے انتخابات پر 174،773 ووٹ ہوئے۔ ان میں سے 760 نئے ووٹ تھے جو پہلی بار رجسٹر ہوئے۔

اپوزیشن ترجمان نے کہا کہ "96 فیصد مسترد ووٹ دوبارہ دیکھے جا چکے ہیں۔ امام اولو 14،532 ووٹوں کے ساتھ ابھی بھی آگے ہیں۔ ان کا مینڈیٹ اب ان کے ہاتھ میں تھما دیا جانا چاہیے”۔

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سوموار کو روس جاتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے استنبول کے انتخابات میں "منصوبہ بندی کے ساتھ ہونے والی مداخلت” پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

تبصرے
Loading...