حکمران آق پارٹی بعد از انتخابات اپنا جائزہ لے گی

0 835

ترکی میں 31 مارچ کے مقامی انتخابات میں صوبائی بلدیات کی اکثریت میں کامیابی کے باوجود حکمران جماعت انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) بڑے شہروں جیسا کہ استنبول اور انقرہ میں ناکامی کے باعث متوقع طور پر ازخود اپنا جائزہ لے گی۔ "گو کہ آق پارٹی نے اکثر صوبائی بلدیات میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن انقرہ اور استنبول کے نتائج اشارہ کرتے ہیں کہ پارٹی کو خود سوالات اٹھانے چاہئیں” سیاسی ماہر محمود اوور نے کہا۔ ماضی میں کی گئی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جس کا سبب عہدیداروں نے پارٹی میں "ذہنی تھکاوٹ” کو قرار دیا تھا، اوور نے زور دیا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ اِس بار کچھ بلدیات میں یہ جائزہ زیادہ کڑا اور سخت ہوگا۔

رواں سال کے مقامی انتخابات میں آق پارٹی نے ملک میں 1046 میں سے 575 سے زیادہ نشستیں جیتیں، جس سے اکثریت ووٹ حاصل کرکے انتخابی کامیابی کا رحجان تو برقرار رہا البتہ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت جمہور خلق پارٹی (CHP) نے ترکی کے تین بڑے شہروں – انقرہ، استنبول اور ازمیر – کے ساتھ ساتھ اناطولیائی صوبوں بلیجک، بولو اور کرشہر میں بھی کامیابیاں حاصل کیں جو، ازمیر کے علاوہ، پہلے آق پارٹی کے پاس تھے۔ اسی طرح آق پارٹی آج انقرہ کے قزل جہامم میں 28 واں جائزہ و مشاورت کیمپ شروع کر رہی ہے، جہاں پارٹی ممکنہ طور پر انتخابی نتائج، اعتراض کے عمل پر غور کرے گی اور اس پر بھی کہ آخر چند شہروں میں پارٹی کے ووٹ کم کیوں ہوئے۔

سہ روزہ کیمپ میں مرکزی فیصلہ ساز و انتظامی بورڈ (MKYK) اور مرکزی ایگزیکٹو بورڈ (MYK)، پارٹی کی خواتین اور نوجوانوں کی شاخیں، صوبائی، ضلعی اور قصبہ جاتی میئرز، کابینہ کے اراکین اور شہری کونسل کے صوبائی سربراہان شرکت کریں گے۔

صدر رجب طیب ایردوان یہاں ہفتہ اور اتوار کو بالترتیب افتتاحی و اختتامی تقاریر کریں گے۔ افتتاح کے بعد پارٹی کے انقرہ کے لیے میئر کے امیدوار محمد اوزاسکی مقامی حکومت پر پریزنٹیشن دیں گے جبکہ آق پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین چغدم کراسلان ماحولیات، شہر اور ثقافت کے حوالے سے مسائل پر بات کریں گے۔ وزیر داخلہ سلیمان سوئلو اور ماحولیات و شہری ترقی کے وزیر مراد کوروم اگلے دنوں میں پریزنٹیشنز دیں گے جبکہ خزانہ و مالیات کے وزیر بیرات البیرک کیمپ کے آخری روز صحافیوں سے گفتگو کریں گے۔

پارٹی کی خود کو نئے چیلنجز کے مطابق ڈھال لینے کی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اوور نے کہا کہ آق پارٹی 17 سال سے ترکی کی حکمران جماعت ہونے اور 25 سالوں سے مقامی انتظامیہ کے لیے خدمات انجام دینے ہونے کے باوجود اپنی تجدید میں ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔

صدر ایردوان کی قیادت میں پارٹی میں تجدید اور تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔ تبدیلی کی پہلی بنیادیں 2017ء میں ڈالی گئیں جب 16 اپریل کے ریفرنڈم میں آئینی تبدیلی کی منظوری کے بعد صدر ایردوان اپنی پارٹی میں واپس آئے، جس نے صدور کو سیاسی جماعت کا حصہ بننےکی اجازت دی۔

گزشتہ سال اگست میں آق پارٹی نے پارٹی میں تجدید کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کے 40 سے 50 فیصد اراکین کو تبدیل کیا۔ یہ تجدید قزل جہامم میں ہونے والے ایسے ہی پارٹی کیمپ کے بعد ہوئی کہ جہاں پارٹی نے آق پارٹی نے 24 جون کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی تعداد میں آنے والی بڑی کمی پر تبادلہ خیال کیا تھا اور اسے سمجھنے کے لیے 2,000 سے زیادہ رپورٹیں جمع کروائی گئیں۔

پارٹی 2017ء میں بھی تبدیلی کے عمل سے گزری تھی کہ جب صدر نے مقامی انتظامیہ اور ساتھی پارٹی اراکین کو 16 اپریل کے ریفرنڈم سے قبل جوش و جذبے میں کمی پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور کہا کہ جن کو لگے کہ وہ تھک گئے ہیں وہ استعفیٰ دے دیں۔

تبصرے
Loading...