آق پارٹی استنبول میں دوبارہ انتخابات کی درخواست دے گی

0 708

حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) ترکی کے تجارتی دارالحکومت استنبول میں بلدیاتی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے لیے اقدامات اٹھانے کو تیار ہے اور انتخابی عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو نمایاں کرنے کے لیے اس کی درخواست تکمیل کے قریب ہے۔

جلد متوقع ہے کہ آق پارٹی استنبول میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد باضابطہ طور پر درخواست جمع کروائے۔ اس درخواست میں آق پارٹی ان وجوہات کو بیان کرے گی کہ جن کی وجہ سے شواہد اور دستاویز کی بنیاد پر انتخابات دوبارہ ہونے کی ضرورت ہے۔اِن وجوہات میں مسترد شدہ ووٹوں یا پھر مبینہ طور پر ایسے افراد کی جانب سے ووٹ ڈالنا ہے جو درحقیقت مر چکے ہیں، شامل ہیں۔

مزید یہ کہ کئی اضلاع میں بیلٹنگ کمیٹیاں قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھی؛ کئی خالی اور غیر دستخط شدہ ووٹنگ ریکارڈز تھے اور ووٹرز کی رجسٹریشن بھی بے قاعدہ تھیں۔ صدر رجب طیب ایردوان کی ہدایت پر کہ تمام قانونی تقاضوں کو استعمال کیا جائے، آق پارٹی کے انتخابی قوانین کے ماہر دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے لیے درخواست تیار کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ بیوک چکمجہ (Büyükçekmece) وہ ضلع ہے کہ جہاں استنبول کے انتخابات کے دوران سب سے زیادہ بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ بیوک چکمجہ ضلع میں جاری تحقیقات کے شواہد اور نتائج، بیانات کا ریکارڈ اور غلط ووٹر رجسٹریشنز کی تحقیقات اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی تفصیلات درخواست میں شامل کی جائیں گی۔

آق پارٹی کی بیوک چکمجہ میں انتخابات کو منسوخ کرنے کی درخواست کی سماعت جمعرات کو متوقع تھی۔ البتہ سپریم الیکشن کونسل (YSK) نے درخواست پر اپنا فیصلہ یہ کہتے ہوئے مؤخر کردیا کہ درخواست استنبول بلدیاتی انتخابات کے بارےمیں آق پارٹی کی درخواست کے مطابق جانچی جائے گی۔ آق پارٹی اب بھی ضلع مال تپہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ استنبول شہر کے بلدیاتی انتخابات کے لیے اپنی درخواست کو حتمی صورت دے۔ دوبارہ گنتی کا عمل مکمل ہونے پر آق پارٹی استنبول کے انتخابات منسوخ کرنے پر اپنی درخواست باضابطہ طور پر پیش کرے گی۔ اگر YSK نے آق پارٹی کی اپیل منظور کرلی تو بیوک چکمجہ پر ایک اورفیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ضلع بیوک چکمجہ کے لیے آق پارٹی کے میئر کے امیدوار اور استنبول شہر کی بلدیہ کے سابق میئر مولود اوسال نے بھی ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ "بیوک چکمجہ میں 24 جنوری کے صدارتی انتخابات کے بعد آٹھ ماہ میں ووٹر ریکارڈز سے کُل 11,954 ووٹرز کو نکالا گیا ہے اور ان میں سے 3,092 کا سرے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ ایسا ہے جیسے ان کی شہریت اچانک غائب ہوگئی۔ آق پارٹی کو ووٹ دینے والے فہرست سے غائب کردیے گئے۔ ترکی نے کبھی تاریخ میں ایسا منظم آپریشن نہیں دیکھا۔”

اوسال نے اپنی پارٹی کے انتخابات کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو دہرایا۔

اب جبکہ استنبول میں دوبارہ گنتی کا عمل جاری ہے، 97 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں۔ آخری نتائج نے ظاہر کیا کہ حزب اختلاف کی اہم جمہور خلق پارٹی (CHP) کے امیدوار اکرم امام اوغلو کو آق پارٹی کے امیدوار بن علی یلدرم پر 13,996 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ امام اوغلو نے اوسال کے الزامات پر جواباً کہا کہ "ان کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں، اور ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہوئی جس کا یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔ میں اسے جھوٹ قرار دیتا ہوں۔ انہوں نے یہ عمل اس طرح کیا کہ جس سے بیوک چکمجہ کے عوام مایوس ہوئے۔ انہوں نے اس عمل کو مشتبہ سا رکھا۔” بیوک چکمجہ بلدیہ کے میئر حسن آق گن نے بھی اوسال کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا کہ "تقریباً 4,459 ووٹر ریکارڈز اپڈیٹ کیے گئے اور 1,964 افراد شہر سے باہر گئے۔ ان میں سے 745 افراد ایسے ووٹرز ہیں جن کا ریکارڈ آق پارٹی اور CHP دونوں کی درخواست پر مٹایا گیا تھا اور 591 افراد ایسے ووٹرز ہیں جنہوں نے اپنے پتے دیگر قریبی علاقوں میں تبدیل کروائے۔ اس لیے بیوک چکمجہ میں 20،000، 30،000 یا 40،000 ووٹرز کی کوئی ووٹر سرگرمی نہیں رہی۔” آقگن نے کہا۔

دریں اثناء ایردوان اور یلدرم نے جمعے کو انقرہ میں ملاقات کی۔

یلدرم نے ٹوئٹر پر بیان دیا اور کہا کہ "ایسے لوگ موجود ہیں جو حالیہ دنوں میں انتخابی عمل پر میری خاموشی کا غلط مطلب لے رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ میرا یہ عمل YSK کے فیصلے کے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔ میں اپنی پارٹی اور مجاز اداروں کے ساتھ اس عمل کو باریک بینی سے دیکھ رہا ہوں۔ ووٹرز اپنی حتمی رائے دے چکے ہیں۔ اب YSK کا وقت ہے،” ساتھ ہی استنبول شہر کی بلدیہ کے اگلے میئر کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق CHP اور اچھی پارٹی (IP) پر مشتمل نیشنل الائنس کے امام اوغلو کو اپنے حریف یلدرم پر 22,000 کی برتری حاصل ہے، جو آق پارٹی اور نیشنلسٹ حرکت پارٹی (MHP) کے درمیان طے پانے والے پیپلز الائنس کے امیدوار ہیں۔

انتخابات کی رات یلدرم نے فتح کا اعلان کیا تھا جب وہ معمولی فرق سے آگے تھے، جس کے بعد امام اوغلو نے بھی فتح کا اعلان کردیا۔ امیدواروں کے ابتدائی فاتحانہ بیانات کے بعد YSK کے چیئرمین سعدی گووین نے یکم اپریل کو اعلان کیا جنہوں نے کہا کہ امام اوغلو غیر سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً 25,000 ووٹوں سے آگے ہیں۔ گووین کے تبصروں کے ساتھ ہی آق پارٹی نے کہا کہ وہ استنبول میں مسترد شدہ ووٹوں اور بے ضابطگیوں پر احتجاج کرے گی۔ YSK کو انتخابات کے آغاز سے اختتام تک پورے عمل کو دیانتداری سے سنبھالنے، تمام ضروری ذمہ داریاں نبھانے، تمام انتخابی شکایات کا جائزہ لینے اور ان شکایات پر حتمی فیصلے دینےاور ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اراکین اور صدارتی انتخابات کے لیے انتخابی یادداشتیں قبول کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

دریں اثناء، YSK نے حال ہی میں شمال مغربی ترکی کے شہر قرقلر ایلی کے کسکین میں مقامی انتخابات دوبارہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تبصرے
Loading...