ایلان کردی کے والد اپنے بیٹے سے موسوم بحری جہاز پر کام کریں گے

0 390

شام کے اس ڈوبنے والے بچے ایلان کردی کہ جس کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، کے والد تارکینِ وطن کو بچانے کے لیے بنائے گئے جرمن بحری جہاز پر کام کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں کہ جو اُن کے بیٹے سے موسوم ہے۔

45 سالہ عبد اللہ کردی کو جرمن ادارے سی-آئی کے اس بحری جہاز پر کام کرنے کی پیشکش ہوئی ہے کہ جس کا نام ایلان کردی رکھا گیا ہے۔

ایک انٹرویو میں عبد اللہ کردینے بتایا ہے کہ انہوں نے دوبارہ شادی بھی کرلی ہے اور ان کی نئی اہلیہ حمل سے ہیں۔ "جیسے ہی میرا بیٹا پیدا ہوگا، میں اس بحری جہاز پر تارکینِ وطن کو بچانے جاؤں گا۔ میں انہیں وہ مدد فراہم کرنا چاہتا ہوں جو مجھے نہیں ملی تھی۔”

عبد اللہ کردی نے ایک اور جرمن ریسکیو مشن سی-واچ کی کپتان کیرولا ریکٹ کو بھی سراہا کہ جو تارکینِ وطن کے حوالے سے اٹلی کے سخت قوانین کو چھیڑنے پر مختصراً نظر بند بھی رہیں۔ "وہ ایک مضبوط خاتون ہیں، وہ ایک ہیروئن ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ انہیں جیل میں بھی ڈالا گیا۔ خیر، اگر ضروری ہے تو میں بھی گرفتار ہونے کو تیار ہوں،” انہوں نے کہا۔

سی-آئی کے ترجمان گورڈن اسلر نے کہا کہ تنظیم عبد اللہ کردی کے ساتھ رابطے میں ہے کہ وہ اِس ایلان کردی مشن میں حصہ لیں۔ "ہم ان کے خاندان سے ایک مضبوط اور جذباتی تعلق قائم کر چکے ہیں۔ اگر وہ تمام ادارہ جاتی شرائط پوری کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہمیں اس جہاز پر عبد اللہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے خوشی ہوگی۔ وہ عملے کے رکن بنیں گے اور ہمارے ساتھ کام بھی کریں گے۔”

ایلان کردی بحری جہاز اس وقت سمندر میں نہیں ہے بلکہ اسپین کی بندرگاہ بوریانا میں لنگر انداز ہے۔ سی-آئی 12 اکتوبر سے مشن کا آغاز چاہتا ہے لیکن اس کے پاس کافی فنڈز نہیں ہیں۔

2015ء میں کردی کا خاندان ترکی کے جزیرے بودروم سے یونانی جزیرے کوس جانا چاہتا تھا لیکن ان کی کشتی ڈوب گئی اور پانچ افراد مارے گئے جن میں عبد اللہ کی اہلیہ اور دو چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔

تب ایلان کی عمر تقریباً تین سال تھی۔ ان کی سرخ شرٹ پہنے ساحل پر پڑی لاش کی تصویر مہاجرین کے بحران کی علامت بن گئی۔ اس تصویر کے عالمی سطح پر پھیل جانے کے بعد یورپی رہنماؤں نے سمندروں میں مہاجرین کی ہلاکتوں کو سنجیدہ لیا اور "پہلے چند مہینوں میں ہیں کئی لوگوں نے اپنے دل کھول دیے،” عبد اللہ نے کہا۔ ” میں جب بھی کسی بچے کو سرخ شرٹ پہنے دیکھتا ہوں میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ میں نے ایلان، (اس کے بھائی) غالب اور اپنی بیوی ریحانہ کو یاد نہ کیا ہو۔”

انہوں نے کہا کہ میں یورپ میں عزت کی زندگی گزارنا چاہتا تھا اور سوئیڈن، ڈنمارک یا پھر جرمنی جانا چاہتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ایلان ایک دن ڈاکٹر بنے گا۔

اس بھیانک تجربے کو بعد سمندری راستے سے ہجرت کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے عبد اللہ کا یہی مشورہ ہے کہ "ایسا کبھی نہ کریں، لیکن میری کوئی سنتا ہی نہیں، حالانکہ میری بہن نے بھی نہیں سنی۔” انہوں نے 2015ء کے حادثے کے تین دن بعد سمندری راستے کا رخ کیا اور اب جرمنی میں ہیں۔

کوبانی میں ایک حجام کا کام کرنے والے کردی جو نسلاً کرد ہیں، نے بتایا کہ وہ عراق کے کرد اکثریتی علاقے میں رہتے ہیں اور مہاجر کیمپوں میں بچوں کی مدد کرنے والے ایک خیراتی ادارے میں کام کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...