افسوس! پھر "ماڈریٹ” اسلام – مالیح التنوک

0 276

مالیح التنوک ترک خبر رساں ادارے اے نیوز سے وابستہ ہیں اور مشرق وسطیٰ پر ایک ماہرانہ نگاہ رکھتے ہیں۔ ان کا یہ کالم روزنامہ صباح سے ترجمہ کیا گیا ہے

جس کو ‘ماڈریٹ’ کرنے کی ضرورت ہے وہ پرامن مذہب، اسلام نہیں ہو سکتا۔ تاہم سعودی عرب کی اجڈ انتظامیہ کو ‘ماڈریٹ’ کرنے کی ضرورت ہے

ریاض میں معیشت پر ہونے والی ایک کانفرنس میں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے دئیے گئے ریمارکس پر دنیا بھر سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ شہزادہ سلمان کا یہ پیغام دنیا کی تمام خبر رساں اداروں نے بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا:

"ہم واپس اس طرف مڑ رہے ہیں جہاں ہم پہلے تھے – ایک ‘ماڈریٹ’ اسلام، جو پوری دنیا اور تمام مذاہب کے لیے کشادہ دل ہو۔ یہاں تیس فیصد سعودی شہریوں کے مقابلے میں ستر فیصد نوجوان ہیں، ایمانداری کے ساتھ کہوں گا ہم اپنی زندگی کے 30 سال شدت پسندانہ خیالات کے خلاف لڑ کر نہیں گزاریں گے، ہم ابھی اور اسی وقت انہیں تباہ کر دیں گے”۔

ہر شخص نے ملک (سعودی عرب) میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کی پیشن گوئی کی ہے جہاں کچھ ریفارمز ابھی بھی لائی جا چکی ہیں جیسا کہ خواتین کی ڈرائیورنگ پر پابندی کا خاتمہ۔ تاہم ایک اعلیٰ سرکاری ذمہ دار کی طرف سے ملک کے مستقبل بارے بڑی تبدیلی کا بیانیہ جاری کیا جانا حیران کن تھا۔

لیکن، میں نے افسوس کیوں کیا؟

میں براہ راست اپنی پہلی وجہ کا اظہار کروں گا۔ میرے جیسے مشرق وسطٰی کے صحافی جو سیکولر نظام زندگی میں جیتے ہیں، جب ‘ماڈریٹ’ اسلام کا بیانیہ سنتے ہیں تو فورا امریکا کا خیال آتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ 30 سالوں میں کئی ممالک اور ہمارے خطے کے کئی پڑوسی اسی بیانیہ کے ذریعے عدم استحکام، دہشتگردی، داخلی جنگوں اور تسلط کی طرف دھکیلے گئے ہیں۔ تمام انتظامی اکائیاں جنہوں نے ماڈریٹ اسلام کی طرف جانے کا فیصلہ کیا وہ سب سے پہلے اپنی ریاست کے عوام سے ہی دست و گریبان ہوئیں اور پھر وہ سب امن اور تہذیب سے بہت دور ہو گئے۔

اب کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ سوچیں کہ ایسا ہی ایک عمل کسی حد تک مختلف انداز میں ایک ایسے ملک میں جاری ہے جو مشرق وسطی میں امریکا کے ایک کھلے اڈے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ماضی کو بھول جایا جائے۔اس بات سے قطع نظر کہ ایک ایسی انتظامیہ جس پہ ماضی میں دہشت گردی کو سپانسر کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، اب ماڈریٹ اسلام کی جانب کیوں لوٹنا چاہتی ہے۔

میں اس صورت آپ سے اتفاق کروں گا اگر یہ مذہب نہیں بلکہ طرز حکومت کو آپ ماڈریٹ کرنا چاہتے ہوں۔

درحقیقت سعودی عرب کا غالب مذہب اسلام اس سارے خطے کا عمومی نظامِ عقیدہ ہے، تاہم بہت کم ممالک ہی سعودی عرب کے کٹر، جارحانہ، جمہوریت مخالف اور دنیا سے الگ تھلگ رہ کر اسلام پر عمل کرنے کے رویے کو مات دے سکتے ہوں۔ اس لیے کوئی ایسا امتیاز بتایا جانا چاہیے جس سے ہم سعودی ولی عہد کے اصلاح پسندانہ پیغام سے امیدیں وابستہ کر لیں اور خیال کریں کہ وہ ماضی کے تجربات سے مختلف ہوں گے۔

سعودی عرب کو معمول پر لانے کے لیے جس چیز کی اصلاح کی ضرورت ہے وہ مذہب نہیں جس کے اصول پندرہ سو سال سے وہی چلے آتے ہیں بلکہ سعودی عرب کی جمہوریت مخالف انتظامیہ ہے۔ اسرائیل سے متعلقہ مسائل پر بات چیت کے دوران کیا کبھی آپ نے "ماڈریٹ یہودیت” کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ آخر کار اسرائیل پربھی تو انہی وجوہات کی بناء پر تنقید کی جاتی ہے.اورمذہب کے ساتھ اس کا تعلق اور سعودی عرب انتظامیہ اور اسلام کے تعلق سے مختلف نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...