"الف”: کمالسٹس اور ایردوان کے درمیان خط تقسیم

0 1,503

الف اردو اور عربی زبان کا نہ صرف پہلا لفظ ہے، بلکہ روشنی اور ایک نئی دنیا دکھاتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور سلطان باہو ؒ نے اس لفظ کی حقیقت سے خوب پردہ اٹھایا ہے:

بے تے پڑھ کے فاضل ہوئے، الف نہ پڑھیا کسے ہُو

جیں پڑھیا اس شوہ نوں پایا، جاں پڑھیا کچھ تسے ہُو

چوداں طبق کرن رشنائی، انھیاں کجھ نہ دسے ہُو

باجھ وصال اللہ دے باہو، سبھ کہانی قصے ہُو

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الف کو اپنا سلوگن بنانا استحکام اور استقامت کا اظہار ہوتا ہے جس بازار زمانہ میں کسی بھی بھاؤ پر نہیں خریدا جا سکتا۔ اس کا حامل ایک بااصول اور مضبوط شخص ہوتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان کو اکثر مواقع پر ان کی پسندیدگی پر "الف” کی خطاطی بطور تحفہ پیش کی جاتی ہے یہ چیز اس کا اظہار بھی ہے کہ لوگ انہیں ایک بااصول راستے پر دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ صدارتی کمپلیکس جا چکے ہیں وہ بخوبی دیکھ چکے ہوں گے کہ وہاں دیواروں پر الف کی خطاطی لٹکتی جابجا نظر آتی ہے۔ عثمانی عہد میں اسے دھرتی سے محبت اور خدمت کا اظہار کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا اس کے علاوہ الف اسلام کی عالمگریت کا اظہار بھی کرتا تھا۔ الف سے باہر والے رنگ باہر کی دنیا کی ترجیحات ظاہر کرتے تھے۔

گذشتہ جمعہ سیکولر کمالسٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم انجے کو کسی شخص نے الف کی خطاطی پیش کی۔ شاید پیش کرنے والا اس لفظ سے واقف تھا اور نہ وصول کرنے والا۔ اس کا فہم تو بہت دور کی بات انہوں نے اس خطاطی کو الٹا پکڑ رکھا تھا۔

یہ صرف اتفاقی نہیں ہوا تھا۔ سیکولر اشرافیہ ایک طویل عرصے تک عربی سے نفرت میں بھڑکتی رہی ہے اس لیے وہ ناواقف ہے کہ اس لفظ کا کیا مطلب ہے اور اس علامت سے محبت کے کیا تقاضے ہیں۔ وہ صرف رجب طیب ایردوان کی نقل کر رہے ہیں۔

رجب طیب ایردوان ایک ثابت قدم شخصیت ہیں۔ نہ صرف اپنی قوم کی خدمت کرنے میں بلکہ پوری امت کی خدمت کرنے میں۔ ہر مظلوم کی مدد کرنے میں۔ حقائق اس کی واضع گواہی دیتے ہیں اور الف اس کی پہچان ہے۔

لیکن آج جو ان کے مقابلے میں کھڑے ہیں وہ الف کو پہچانتے تک نہیں کہ اسے کیسے پکڑنا ہے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ ایردوان کا مقابلہ کیسے کریں۔ اب وہ نقل پر اتر آئے ہیں۔ لیکن اس کے لیے علم اور حقیقت کا ادراک ضروری ہے جو وہ حاصل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

وہ نماز کے قیام میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن انہیں ہاتھ باندھنا نہیں آتا۔ وہ افطار پارٹیاں کرتے ہیں لیکن اس میں رقص و سرور کی محفل سجا لیتے ہیں، وہ الف کی خطاطی کے تحائف دے رہے ہیں لیکن انہیں سیدھا پکڑنا نہیں آتا۔

الف خدا کی پہچان ہے جس ماضی قریب میں ترکی بھول چکا تھا۔ یہ روایت کی طرف سفر ہے جس سے ریاست اور ملت جنم لیتی ہے۔ یہ وہ قوت ہے جس کو پانے کے بعد حالات گرفت میں ہوتے ہیں۔ یہی وہ خط تقسیم ہے جو ایردوان اور کمالسٹ کے درمیان کندہ ہے۔

24 جون کو ان شاء اللہ "الف” کی جیت ہو گی۔ ایردوان جیتے گا، ترکی جیتے گا۔ عالمگیر قوت واپس آئے گی۔ باسفورس کے کناروں سے خوشخبریاں ہماری طرف سفر کرنے والی ہیں۔

تبصرے
Loading...