تمام معاشی انڈیکیٹرز بہتری، نمو اور ترقی کا اظہار کر رہے ہیں: صدر ایردوان

0 184

ترابزون چیمر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "تمام معاشی انڈیکیٹرز بہتری، نمو اور ترقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم ایک اچھے راستے پر ہیں۔ اس میں مزید بہتری آئے گی۔مجھے یقین ہے کہ ہم سال کے اختتام پر 5 فیصد شرح نمو حاصل کر لیں گے جیسا کہ ہم نے پہلے کوارٹر میں حاصل کی ہے۔ ہماری برآمدات 150 بلین سالانہ سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ہم پُرامید ہیں کہ اس میں مزید اضافہ ہو گا۔ ہم نے بے روزگاری میں دوبارہ فی ہندسہ تک کمی کر دی ہے”۔

اس موقع پر وزیر توانائی و قدرتی معدنیات بیرات البیراک، وزیر داخلہ سلیمان سوئلو، وزیر برائے سائنس، انڈسٹری و ٹیکنالوجی فاروق اوزلو، وزیر نوجواناں و کھیل عثمان اشقنباک، آق پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین حیاتی یازچی، گورنر ترابزون یوجل یاوز کے علاوہ ترابزون کے پارلیمانی ممبران بھی موجود تھے۔

ہم نے ترکی کو ایک بار پھر ابھرتے ہوئے رجحان پر چلا دیا ہے

"اگرچہ ترکی گزشتہ تین سال سے خطرناک دہشتگردی اور معاشی حملوں کی زد میں رہا ہے لیکن ہم نے ترکی کو ایک بار پھر ابھرتے ہوئے رجحان پر چلا دیا ہے”۔ صدر ایردوان نے مزید کہا: "ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہتری کے مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ ہم نے علیحدگی پسند دہشتگرد تنظیموں کو دھکیل کر رکھ دیا ہے اب وہ کوئی حملہ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس ملت کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ہم نے ترکی کی تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی بغاوت جو فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم نے کی اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے”۔

صدر ایردوان نے فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کے بارے کہا: "وہ گزشتہ 40 سال سے اس کی تیاری کر رہے تھے۔ 40 سال کے بعد انہیں کیا منزل ملی ہے؟ اس کی منزل تھی کہ اس ملک کو اپنے نیچے لایا جائے، اپنی مرضی سے چلایا جائے اور تباہ کر دیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے لاکھ لاکھ شکر ہے، اور اس قوم کا جس نے ہماری کال پر بروقت ردعمل دیا، سڑکیں اور چوک بھر دیئے لیکن ملک کو ان غداروں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا”۔

ہم شام میں دہشتگرد ریاست کے قیام کا کھیل چوپٹ کر کے رکھ دیا۔

دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ بارے صدر رجب طیب ایردوان نے مزید کہا: "اور ایک اور مسئلہ ہے، داعش کا مسئلہ جسے ہم پر چھوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے اسے کوئی موقع نہیں دیا۔ ہماری دفاعی طاقتیں داعش کے خلاف نہ صرف دھرتی پر بلکہ باہر بھی چومکھی لڑائی لڑنے میں مصروف ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا: "وہ کسی صورت مسلمان نہیں ہیں۔ ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اسلام کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں اسلام اس سے ناواقف ہے۔ اللہ کی نصرت اور مدد کے ساتھ، ہم نے انہیں اپنی دھرتی پر پنپنے کا موقع نہیں فراہم کیا۔ ہم نے دہشتگردوں کو یہاں پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ ہم شام میں دہشتگرد ریاست کے قیام کا کھیل چوپٹ کر کے رکھ دیا۔ اسی قسم کی کوشش عراقی سرحدوں پر کی جا رہی ہے اور ہم اس کھیل کو بھی ختم کر دیں گے۔ مزید برآں تمام معاشی انڈیکیٹرز بہتری، نمو اور ترقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم ایک اچھے راستے پر ہیں۔ اس میں مزید بہتری آئے گی۔مجھے یقین ہے کہ ہم سال کے اختتام پر 5 فیصد شرح نمو حاصل کر لیں گے جیسا کہ ہم نے پہلے کوارٹر میں حاصل کی ہے۔ ہماری برآمدات 150 بلین سالانہ سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ہم پُرامید ہیں کہ اس میں مزید اضافہ ہو گا۔ ہم نے بے روزگاری میں دوبارہ فی ہندسہ تک کمی کر دی ہے یہ مثبت علامتیں ہیں”۔

تبصرے
Loading...