تمام ترک صوبوں میں اب کووِڈ-19 کا خطرہ کم ہو گیا

0 261

وزیرِ صحت فخر الدین کوجا نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے 81 صوبوں میں سے ایک شانلی عرفہ جو کووِڈ-19 کے خطرے کے حوالے سے ‘ریڈ کیٹیگری’ میں تھا، ویکسین لگانے کی شرح بڑھنے کی بدولت اب اس کیٹیگری سے باہر آ چکا ہے۔

یوں شانلی عرفہ بھی ان مشرقی صوبوں میں شامل ہو گیا ہے، جہاں ویکسین لگانے کا عمل سست روی کا شکار رہنے کے بعد اب بھرپور رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس صوبے میں عوام کی ہچکچاہٹ دور کرنے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے کے باوجود کئی ماہ سے ویکسینیشن کی شرح 55 فیصد سے کم تھی۔

ویکسینیشن پروگرام کے تحت وزارت صحت نے صوبوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا ہے: بلو، یلو، اورنج اور ریڈ۔ بلو کیٹیگری کے مقامات وہ ہیں کہ جہاں ویکسین لگوانے کی شرح سب سے زیادہ ہے جس کے بعد یلو، اورنج اور ریڈ کیٹیگریز ہیں۔

بلو کیٹیگری میں تقریباً تمام مغربی صوبے شامل ہیں جبکہ کچھ جنوب کے بھی ہیں جبکہ یلو کیٹیگری میں مشرق کے چند، بیشتر وسطی اور سب سے بڑا صوبہ استنبول شامل ہیں۔

کرونا وائرس، عوامی تقریبات اور شہروں کے درمیان سفر کے لیے منفی ٹیسٹ لازمی

ترکی روزانہ سامنے آنے والے مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے ویکسینیشن کی شرح میں اضافہ کر رہا ہے۔ جنوری 2021ء میں ویکسینیشن پروگرام کے آغاز سے اب تک وہ 9.1 کروڑ سے زیادہ ڈوز لگا چکا ہے۔ 3.61 کروڑ سے زیادہ افراد دو ڈوز لگواچکے ہیں جبکہ 4.72 کروڑ کو پہلا ڈوز لگ چکا ہے۔ تیسرا ڈوز لگوانے والے افراد کی تعداد بھی 81 لاکھ ہے جبکہ ملک کی کُل آبادی 8.3 کروڑ ہے۔

کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر چھٹکارا پانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں ویکسینیشن کی شرح کم از کم 70 فیصد ہو۔ البتہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیلٹا جیسا تیزی سے پھیلنے والا ویرینٹ سامنے آنے کے بعد اس شرح میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔

حالات کو معمول پر لاتے ہوئے ترکی نے جولائی سے تمام تر پابندیاں اٹھا لی تھیں اور ساتھ ہی 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام افراد کے لیے ویکسینیشن پروگرام کو توسیع دے دی تھی۔ بعد ازاں اس کو مزید کم کرتے ہوئے 15 سال کی عمر تک کے افراد کو بھی ویکسینیشن پروگرام میں شامل کر لیا گیا۔

ترکی کی مقامی ویکسین کے آخری ٹرائل شروع، ایردوان نے “ترکوویک” نام رکھ دیا

اس کے باوجود ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا پر ویکسین مخالفین کی جانب سے کیا گیا پروپیگنڈا ہے۔ عمومی رائے کے مطابق ویکسین کے خلاف سب سے زیادہ نوجوان طبقہ ہے اور شانلی عرفہ ہی میں نوجوانوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران اس صوبے میں ویکسین لگوانے کی شرح بہت ہی کم رہی۔ 18 اگست کو یہ شرح صرف 47.8 فیصد تھی۔ پھر تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ویکسینیشن پر کام کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے ایک مہم بھی شروع کی ہے جس کے تحت ویکسین لگوانے والوں کو ایک لاٹری میں شامل کیا گیا ہے جبکہ سائیکل، ٹیبلٹ اور اسکالرشپس جیسے انعامات بھی دیے جا رہے ہیں۔ چند علاقوں میں ویکسین لگوانے والوں کو گفٹ کارڈز دیے گئے جبکہ کاروباری اداروں نے بھی ویکسینیشن کی ترویج کے لیے مختلف رعایتیں پیش کیں۔

ویکسینیشن پروگرام اسکولوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے بھی بہت ضروری ہے جس کا آغاز 6 ستمبر سے ہو رہا ہے۔ وزیر صحت فخر الدین کوجا نے بتایا ہے کہ ویکسین کی دونوں ڈوز لگوانے والے اساتذہ کی تعداد 72 فیصد ہے۔

تبصرے
Loading...