ہر میدان میں ہمارا سامنا کرنے والوں نے ترکی کا عزم ضرور دیکھا ہوگا، صدر ایردوان

0 153

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "زمین پر، سمندروں میں اور فضاؤں میں ہمارا سامنا کرنے والوں نے اپنے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے تسلیم شدہ حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے ترکی کا عزم ضرور دیکھا ہوگا۔ جو نہیں دیکھ سکتے، انہیں یقین دلا دیں کہ وہ میدانِ عمل میں، سفارت کاری کی میز پر اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر اس کا سامنا کریں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کیا۔

” راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ نے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے”

ترکی پر تمام حملوں کو اس کی جدوجہد کے عزم کو تقویت دینے والا قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ نے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔ اللہ کی مدد اور عوام کی تائید سے ہم نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ ہمیں مستقبل کی طرف مزید اعتماد کے ساتھ دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ آج ہم کل سے زیادہ توانا آواز، یقینِ کامل اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنے دشمنوں کو للکار سکتے ہیں۔ زمین پر، سمندروں میں اور فضاؤں میں ہمارا سامنا کرنے والوں نے اپنے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے تسلیم شدہ حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے ترکی کا عزم ضرور دیکھا ہوگا۔ جو نہیں دیکھ سکتے، انہیں یقین دلا دیں کہ وہ میدانِ عمل میں، سفارت کاری کی میز پر اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر اس کا سامنا کریں گے۔ ہم میدان سے کبھی نہیں بھاگیں گے۔ ہم اس جدوجہد میں شہادت کو گلے لگانے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "کیا بحیرۂ روم اور اس کے نواح میں ہمارے سامنے کھڑے ہونے والے ایسی قربانیاں دے سکتے ہیں؟ کیا یونان کے عوام ان حالات کو قبول کریں گے جن کا انہیں اپنے حد سے زیادہ جاہ طلب اور نااہل رہنماؤں کی وجہ سے سامنا ہوگا؟ کیا فرانس کے عوام آگاہ ہیں کہ انہیں اپنے نااہل حکمرانوں کی وجہ سے کیا قیمت چکانا پڑے گی؟ شمالی افریقہ اور خلیج میں ہمارے چند برادر ممالک کے لوگ اپنے جاہ طلب اور نااہل رہنماؤں کی وجہ سے اپنا مستقبل تاریک کرنے پر رضامند ہیں؟ جو ملک ترکی کی جمہوریت، حقوق اور علاقائی مفادات کے خلاف ہزاروں کلومیٹرز دور بیٹھے منصوبے بنا رہے ہیں، کیا ان کے شہری ان سازشوں سے خود کو پہنچنے والے نقصان سے واقف ہیں؟

"ہم دلوں کی فتح کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں”

ترکی اپنی تاریخ میں کبھی جارح ملک نہیں رہا، اس امر پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترک دنیا کی ان چند قوموں میں سے ایک ہیں جن کے دامن پر نو آبادیات کا داغ نہیں ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترک تہذیب فتح کی تہذیب ہے، لیکن ہم دلوں کی فتح کو ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ہمارا فتح کا تصور ان تمام مقامات کی ترقی ہے کہ جہاں ہمارے قدم گئے۔ ہمارا فتح کا تصور وطنِ عزیز میں رہنے والے ہر شخص کی مدد کرنا ہے، اس کے عقیدے، نسل اور مزاج سے قطع نظر ہوکر۔ اس ادراک کے ساتھ جو ہم نے اپنے آبا و اجداد سے پایا ہے، ہم دلوں کو فتح کرنے، سب کی مدد کرنے اور جہاں جہاں ہمارے قدم جائیں وہاں اپنے ہاتھوں سے اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ہم سیاسی و عسکری موجودگی کے ساتھ جہاں بھی گئے، جو ہمارے پاس ہے اور جو ہم نے جیتا ہے اس میں شراکت کرتے ہیں اور لوٹ مار، غارت گری اور بھاری محصول لگانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ترکی کا یہ رویہ صدیوں پرانا ہے۔”

تبصرے
Loading...