اتحادیوں کو دہشتگردی کے خلاف ترکی کی حمایت کرنی چاہئے – ابراہیم قالن

0 1,250

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے مشیرِ اعلیٰ اور ترجمان ہیں۔ وہ پرنس الولید سینٹر فار مسلم کرسچن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نثر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔


ترکی نے 20 جنوری کو شامی علاقے عفرین کو پی کے کے کی حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیم پیپلز پروٹیکشن یونٹ سے آذاد کروانے کے لئے آپریشن کا آغاز کر دیا جسکو کچھ مغربی نے داعش کے خلاف جاری جنگ کی تباہی سے تعبیر کیا ہے حالانکہ یہ شام سے دہشتگردی کے تمام خطرات کا مکمل صفایا کرنے کی ایک سعی ہے اور شام کی سالمیت کے بچاو کے لئے درست سمت میں اٹھایا گیا ایک صحیح قدم ہے۔

آپریشن شاخ زیتون اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 میں بیان کردہ سیلف ڈیفنس فریم ورک کے مطابق مکمل طور پر قانونی ہے۔ ترک شہر خطائی اور کلس پچھلے کچھ سال کے دوران 700 سے زائد مرتبہ عفرین سے ہونیوالے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ اور پی کے کے عفرین کو دہشتگردوں کی بھرتی اور ٹریننگ کے لئے بھی استعمال کرتی ہے۔ ڈیموکریٹک یونین پارٹی اور اسکی ملیشیا وائی پی جی نے داعش سے لڑنے کے بہانے عفرین میں برائے نام اقتدار اعلی قائم کر رکھا ہے۔درحقیقت انہوں نے داعش کا نام استعمال کرتے ہوئے شامی علاقے کا زبردستی غیر قانونی کنٹرول حاصل کیا تاکہ ایک نیم خودمختار ریاست حاصل کی جائے جسکو بعد میں خودمختار قرار دے دیا جائے یہ صورتحال ترکی کبھی قبول نہیں کر سکتا ہے۔

ترکی نے پہلے بھی جرابلس اور الباب کا درمیانی علاقہ شہریوں کا بچاو کرتے ہوئے دہشتگردوں سے پاک کیا تھا۔ ترکی کا شام پر قبضہ سے کسی قسم کا کوئی مفاد وابستہ نہیں اور نہ ہی ترکی نے کبھی کوئی ایسی تجویز دی جسکا نتیجہ یہ نکلے القاعدہ، داعش اور بوکوحرام کی طرح پی کے کے ایک دہشتگرد تنظیم ہے جبکہ اسکی شام میں قائم کردہ ذیلی تنظیموں وائی پی جی اور پی وائی ڈی کی حیثیت بھی اسی کے جیسی ہے ترکی کا موقف ہمیشہ پی کے کے کی عراق اور وائی پی جی کی شام میں موجودگی کے خلاف بہت واضح رہا ہے اور ترکی نے اس معاملہ کو پڑوسی ممالک سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے سامنے بھی اٹھایا کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسکا تعلق صرف ترکی سے نہیں ہے۔

کسی ملک نے بھی آپریشن کی قانونی حیثیت کا سوال نہیں اٹھایا کچھ ممالک نے آپریشن شاخ زیتون کے حجم اور دورانئے پر تحفظات کا اظہار کیا اور عام شہریوں کی دوران آپریشن ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی حالانکہ ایسی تشویش اور تحفظات کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ آپریشن فرات میں ترکی کا ریکارڈ سب کے سامنے موجود ہے۔ اور کلئرنس کے بعد اس علاقہ کو وہاں کے مقامی شامی افراد کے حوالے کر دیا تھا۔

جو لوگ شام میں وائی پی جی کی شام میں موجودگی کے خطرہ کو بھانپنے میں ناکام ہو گئے ہیں وہ ایک تاریخی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں وائی پی جی کے خلاف عراق اور شام میں جنگ کسی طور بھی داعش کے خلاف جنگ سے انحراف نہیں بلکہ اس جنگ کا صریح مقصد علاقہ کو ہر قسم کی دہشتگردی سے پاک کرنا ہے جو اتحادی معاملہ کی نزاکت کو سمجھنے میں ناکام رہے انہوں نے بھی سرحدات اور شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر ترکی کو آپریشن شروع کرنے سے منع نہیں کیا، شام اور عراق سے دہشتگردی کا خاتمہ وہاں کے لوگوں اور ان ممالک کی علاقائی سالمیت اور سیاسی یگانگت کے لئے ضروری ہے، آپریشن شاخ زیتون کردوں کے خلاف نہیں بلکہ ایک دہشتگرد تنظیم کے خلاف ہے اور پی کے کے کا پروپیگینڈا حقائق کے برخلاف ہے۔ پی کے کے کردوں کی نمائندہ تنظیم نہیں اور نہ ہی اسے بطور کرد نمائندہ جماعت بات کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ لاکھوں کردوں نے اس جماعت کے مارکسی نظریات اور دہشتگرد کارروائیوں کو کلی طور پر رد کر دیا ہے جبکہ پی وائی ڈی اور وائی پی جی شام میں کردوں، عربوں اور ترکمن شہریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔

دنیا کو یہ سادہ نکتہ سمجھنا چاہئے کہ ان تنظیموں کا مقصد داعش کے خلاف جنگ نہیں بلکہ زبردستی اور طاقت کے زور پر ظلم و جبر کے ذریعے ایک ریاست کا حصول ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داعش سے نمٹنے کے بعد وہ وائی پی جی اور پی وائی ڈی کی حمایت کرنا بند کر دیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے درمیان 24 جنوری اور 24 نومبر کو دو مرتبہ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران امریکی صدر نے اس بات کی یقین دہانی کروائی لیکن پھر بھی وائی پی جی کو امریکی امداد کی فراہمی جاری ہے جو کہ امریکہ کی پالیسی کے مقاصد سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

شام میں ایک دہشتگرد تنظیم کی موجودگی اور اسکی امریکی حمایت نیٹو ممالک کے لئے ایک بڑا خطرہ ہونے کے ساتھ ساتھ شام کی علاقائی سالمیت کے لئے دھچکا اور یہاں کی سماجی اور لسانی ہم آہنگی کے لئے نقصان دہ ہے۔ انقرہ داعش کو ایک دہشتگرد جماعت سمجھتا ہے اور اسکے خلاف بین ا لاقوامی اتحاد اور انفرادی حیثیت میں بھی برسرپیکار رہا ہے مگر انقرہ کی خواہش ہے کہ اتحادی ممالک پی کے کے اور اسکی ذیلی تنظیموں کو بھی اپنے ہاں وہی درجہ دیں جو ترکی کے ہاں داعش کو حاصل ہے۔

صرف یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے گزر کر امریکہ، نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ ترکی کے معاملات صحیح اور درست سمت پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ جس طرح ترکی نے دہشتگردوں کے خلاف اتحادیوں کی مدد کی ویسے ہی اتحادیوں کو بھی ترکی کی مدد کرنی چاہئے چاہے وہ دہشتگرد جماعت پی کے کے کے خلاف ہو، داعش کے خلاف ہو یا پھر گلن دہشتگرد تنظیم کے خلاف ہو کیونکہ سچی دوستی اور اتحاد کا تقاضہ یہی ہے۔

تبصرے
Loading...