اسلامی ملکوں کے درمیان تعاون کا ایک مؤثر میکانیہ قائم اور نافذ کیا جانا چاہیے، صدر ایردوان

0 133

صدر رجب طیب ایردوان نے او آئی سی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اسلامی ممالک کو معاشی طور پر آگے بڑھنے اور اعلیٰ ترین فلاحی حیثیت حاصل کرنے کے لیے مادّی و تاریخی طور پر موزوں ترین حالات کا سامنا ہے۔ اسلامی ممالک کے لیے یہ بات بہت زیادہ اہم ہے کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ایک مؤثر میکانیہ تشکیل دیں اور اسے پورے عزم کے ساتھ نافذ کریں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) کی اعلیٰ سطحی سرکاری و نجی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ کانفرنس اسلامی ممالک کی مشترکہ سرمایہ کاری، درپیش تجارتی جنگوں، معاشی دھمکیوں و چیلنجز اور عالمی اقتصادی منظرنامے کے حوالے سے اپنے معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک یکساں پلیٹ فارم کا کام کرتی ہے۔

” ہم 1.7 ارب مسلمان زبردست سماجی صلاحیت رکھتے ہیں”

کامیاب مشاورت کے لیے وسیع القلبی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کی پیروی کی جانی چاہیے اور انہیں عملی صورت میں نظر آنا چاہیے۔ "بحیثیت مسلمان ہم 1.7 ارب لوگ زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا کی تقریباً 24 فیصد آبادی اِس وقت او آئی سی کے رکن ملکوں میں رہتی ہے۔ اپنی آبادی کے علاوہ اسلامی ممالک قدرتی وسائل اور جغرافیائی لحاظ سے بھی مالا مال ہیں۔”

لیکن امیر ترین اسلامی ملک کی آمدنی غریب ترین اسلامی ملک سے 200 گنا زیادہ ہے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ہماری جغرافیائی حدود میں ایک طرف عیش و عشرت ہے تو دوسری جانب غربت، بھوک اور قحط سالی کے ڈیرے ہیں۔ اُدھر یورپی یونین کو دیکھیں تو وہ عالمی معیشت میں 22 فیصد حصہ رکھتی ہے حالانکہ آبادی میں وہ صرف 7 فیصد ہے۔ امریکا صرف 330 ملین شہری رکھتا ہے لیکن عالمی معیشت میں اس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ او آئی سی رکن ممالک کی مجموعی فکس سرمایہ کاری تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالرز پر کھڑی ہے حالانکہ عالمی فکس سرمایہ کاری 20 ٹریلین ڈالرز کو عبور کر چکی ہے۔ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں غیر معمولی اور عجیب حالات کا سامنا ہے۔”

"ہمیں باہمی تعاون کو بہتر اور متنوّع بنانے کے طریقے ڈھونڈنا ہوں گے”

آخر اسلامی ممالک کیوں تجارت، آمدنی کی تقسیم، سرمایہ کاری اور خارجہ پالیسی میں اُس مقام پر نہیں ہیں کہ جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق ہونا چاہیے تھا، یہ سوال اٹھاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں اپنے مسائل کا الزام دوسرے پر لگانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اور خود اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ دوسرے سے پہلے خود کو اس کا ذمہ دار قرار دیں۔ اپنے مسائل پر بلاجھجک اور بنا کسی احساس کمتری کے کھلے دل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے تعاون کو بہتر اور متنوّع بنانے کے طریقے ڈھونڈنا ہوں گے اور مشترکہ منصوبوں کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔”

اسلامی ملکوں سے موقع ضائع کیے بغیر باہمی طاقت کو مجتمع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ "اسلامی ممالک کو معاشی طور پر آگے بڑھنے اور اعلیٰ ترین فلاحی حیثیت حاصل کرنے کے لیے مادّی و تاریخی طور پر موزوں ترین حالات کا سامنا ہے۔ اسلامی ممالک کے لیے یہ بات بہت زیادہ اہم ہے کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ایک مؤثر میکانیہ تشکیل دیں اور اسے پورے عزم کے ساتھ نافذ کریں۔”

تبصرے
Loading...