انادولو ایجنسی کا کیمرا مین 10 مہینے کی اسرائیلی قید کے بعد رہا

0 248

اسرائیل نے ترکی کی انادولو ایجنسی کے فلسطینی کیمرا مین مصطفیٰ الخروف کو 10 ماہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔ 32 سالہ مصطفیٰ کو 22 جنوری کو مشرقی یروشلم سے گرفتار کیا گیا تھا اور رہائشی پرمٹ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر انہیں اردن بے دخل کرنے کے ارادوں کے ساتھ قید میں رکھا گیا۔

گزشتہ روز ایک عدالت نے ضمانت پر مصطفیٰ کی رہائی کا فیصلہ سنایا۔ صحافی کو جنوبی اسرائیل کے گیوون حراستی مرکزمیں رکھا گیا کہ جہاں قیدیوں کو ملک بدری سے پہلے رکھا جاتا ہے۔ اسرائیل کی وزارت داخلہ نے اس فیصلے پر تنقید کی لیکن عدالت نے ان کے اعتراض کو نظر انداز کردیا اور 40 ہزار شیکل (11 ہزار 300 امریکی ڈالرز) کی ادائیگی پر انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

صحافی حراستی مرکز کے باہر اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں سے ایک مرتبہ پھر مل گئے۔

وکیل صفائی کے مطابق اسرائیلی حکام نے ان کے مؤکل کو 21 دن کا عارضی ویزا دیا ہے اور وہ اس دورانیہ میں اضافے کی درخواست دیں گے۔ وکیل کے مطابق مصطفیٰ کو "ایک منٹ بھی قید نہیں ہونا چاہیے تھا” اور وہ ان کے تمام حقوق کی بحالی بلکہ یروشلم میں آئی ڈی کے لیے بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کہ جہاں ان کا خاندان رہتا ہے اور جہاں سے ان کا تعلق ہے۔

مصطفیٰ الخروف کی اہلیہ تمام نے کہا کہ ان کے شوہر کو سخت ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ یروشلم کے علاوہ ان کا کوئی ٹھکانہ اور مسکن نہیں ہے۔ وہ یہیں رہے، پلے بڑھے، تعلیم حاصل کی اور یہیں پر کام کیا۔ وہ اسی سرزمین کے پالے ہوئے ہیں،” انہوں نے کہا۔

صحافی مصطفیٰ الجزائر میں پیدا ہوئے تھے کہ جہاں ان کے والد کام کے لیے گئے تھے اور 12 سال کی عمر میں وہ واپس یروشلم آ گئے۔ انہوں نے بارہا رہائشی پرمٹ کے لیے درخواستیں دیں لیکن اسرائیل نے 20 سال میں ایک مرتبہ پھر انہیں اجازت نہیں دی۔ حالانکہ قانون انہیں یہ پرمٹ دینے کی اجازت دیتا ہے لیکن تمام کے ساتھ اپنی شادی کے باوجود اسرائیل ان کی درخواست مسترد کرتا رہا۔

مصطفیٰ اردنی پاسپورٹ رکھتے ہیں جو انہیں پڑوسی عرب ممالک میں سفر کی اجازت دیتا ہے، لیکن انہیں اردن کی شہریت یا رہائش کے حقوق نہیں دیتا۔ وہ گزشتہ اگست سے بطور فوٹو جرنلسٹ انادولو ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

تبصرے
Loading...