ہاتائے کے وہ قدیم آثار، جن پر زلزلے کا کوئی اثر نہ ہوا

0 902

قدیم آثار جن میں قدیم آبی گزر گاہ اور تھیٹر شامل ہیں، ترکیے کے شہر ہاتائے میں ابھی بھی ویسے ہی موجود ہیں جیسے زلزلے سے قبل تھے۔ کہرامان ماراش میں آنے والے زلزلے نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہاتائے کے ان قدیم آثار کو اپنی تاریخ میں کئی زلزلے جھیلنے پڑے تاہم وہ ان کو مٹا نہ سکے۔

ایپیفینا کے قدیم شہر کے کھنڈرات، جسے ایسوس ریون اور دوسرے ناموں سے بھی جانا چاتا ہے۔ ہاتائے کے علاقہ ایرزن میں موجود ہیں۔ ترکیے کے جنوب مشرقی شہروں کہرامان ماراش اور ہاتائے میں آنے والے زلزلوں سے یہ کھنڈرات اپنی اصل حالت میں موجود رہے ہیں۔

قدیم شہر، جسے پوری تاریخ میں متعدد مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، نے 333 قبل مسیح میں اسوس کی جنگ دیکھی۔ یہ جنگ فارس حکمران دارا سوئم اور مقدونیہ کے بادشاہ سکندر اعظم کے درمیان لڑی گئی، اس علاقہ میں دیگر کئی ثقافتوں کے آثار بھی موجود ہیں، جن میں سلطنت عثمانیہ بھی شامل ہے۔

کھنڈرات – ایک تھیٹر، ایک آبی گزر گاہ اور ایک کالم والی گلی – نے پوری تاریخ میں کئی زلزلوں کا سامنا کیا ہے۔

آثار قدیمہ کی ایک ٹیم کے معائنے سے پتا چلا ہے کہ قدیم شہر زلزلوں سے متاثر نہیں ہوا، تاہم معمولی علامتیں نظر آتی ہیں جو پتا دیتی ہیں کہ یہ علاقہ زلزلہ زدہ تھا۔

ترکیے کے کئی علاقے تاریخی آثار رکھتے ہیں اور عالمی ادارے کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے جا چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: