ایران نے آذربائیجان کی حمایت نہیں کی، تبھی ترکی نے اس خلاء کو پُر کیا، ایرانی سیاست دان

0 375

ایک ایرانی سیاست دان نے کہا ہے کہ جب قاراباخ کشیدگی کے دوران تہران آذربائیجان کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا نہیں ہوا تو یہ خلاء ترکی نے پُر کیا۔

تبریز، اسکو اور آذرشہر کے حلقے سے رکن احمد علی رضا بیگی نے آرمینیا کے خلاف 44 روزہ جنگ کے دوران آذربائیجان کی حمایت نہ کرنے پر ایرانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ "جمہوریہ آذربائیجان اور ایران کئی لحاظ سے مشترک ہیں، لیکن اس کے باوجود ایران نے اس تنازع میں آذربائیجان کا ساتھ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خلاء رجب طیب ایردوان نے پُر کیا۔”

ایرانی حکومت نے نگورنو-قاراباخ تنازع میں "نیوٹرل” پوزیشن اختیار کی تھی، اور کبھی آذربائیجانی علاقے پر قبضے پر آرمینیا کی مذمت نہیں کی۔ اس کے برعکس ترکی نے کھلے عام آذربائیجان کی حمایت کی اور آرمینیا کی جارحیت اور قبضے کی مذمت کی۔

آذربائیجانی اراکین پارلیمنٹ اور خود صدر الہام علیف نے اس موقع پر ترکی کی حمایت اور اظہارِ یکجہتی کی تعریف کی۔

احمد علی رضا نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جنہوں نے ایک نظم پڑھنے پر صدر ایردوان کے خلاف بیان داغ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ظریف کا یہ دعویٰ کہ یہ نظم ایران کی علاقائی سالمیت کو ہدف بناتی ہے، مادرِ وطن سے محبت سے زیادہ انتخابی معاملہ لگتا ہے۔

انقرہ نے کئی ایرانی سیاست دانوں کے "جارحانہ” تبصروں کی مذمت کی ہے، جو انہوں نے پچھلے ہفتے صدر ایرودان کے دورۂ باکو میں ایک نظم پڑھنے پر کیے تھے۔ یہاں تک کہ ایرانی حکام نے ترک صدر کو ایران کے نسلاً آذری حصوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش کا الزام بھی لگایا۔

صدر ایردوان نے دارالحکومت باکو کے آزادلیق چوک پر ہونے والے جشنِ فتح میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی، جو آرمینیا کے تقریباً 30 سالہ قبضے کے خاتمے پر منایا گیا۔ اپنے خطاب کے دوران صدر ایردوان نے دریائے ارس کا ذکر رکھنے والی ایک نظم پڑھی۔ یہ دریا موجودہ ایران اور آذربائیجان کی سرحد ہے بلکہ آرمینیا کے ساتھ ایران کی سرحد بھی یہی دریا بناتا ہے۔

ایران میں ایک بہت بڑی آذری برادری موجود ہے، جو زیادہ تر شمال مغربی صوبوں میں آذربائیجان اور آرمینیا کی سرحدوں کے ساتھ رہتی ہے۔

صرف ایرانی وزیر خارجہ نے ٹوئٹر پر بیان دینے کے بعد اپنے ترک ہم منصب سے بھی رابطہ۔ بلکہ ایرانی وزارت خارجہ نے ترک سفیر کو طلب کر کے بھی احتجاج کیا، جس پر ترکی نے بھی ایرانی سفیر کو طلب کر کے اپنے خدشات ظاہر کیے۔

تبصرے
Loading...