انقرہ اور اسلام آباد مضبوط اقتصادی تعلقات کو مزید پروان چڑھانے کے خواہشمند

0 455

دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکیں پاکستان اور ترکی کے پرچموں سے سجی ہوئی ہیں اور ساتھ ہی دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی قد آدم تصاویر بھی ہر چوک چوراہے پر نظر آ رہی ہیں کیونکہ صدر رجب طیب ایردوان پاکستان کے دو روزہ دورے پر ہیں کہ جو پچھلے دوروں سے کہیں زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں اور ان کے رہنما برادرانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کو بھی بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ہوائی اڈے پر کابینہ اراکین کے ساتھ صدر ایردوان کا خیر مقدم کیا۔ دو بچوں نے صدر اور خاتونِ اول کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور پاکستانی وزیر اعظم خود گاڑی چلا کر ترک صدر کو ایوانِ وزیر اعظم تک لائے کہ جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

اس دورے میں صدر ایردوان عمران خان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی قیادت کریں گے۔ پاک-ترکی اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل (HLSCC) کے اجلاس میں دونوں ملکوں کے اہم سیاست دان اور کابینہ اراکین شرکت کریں گے۔ اس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "چند اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونا متوقع ہیں۔ دونوں رہنما مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔”

اس اجلاس سے قبل دونوں رہنما باہمی ملاقات میں اہم عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ صدر ایردوان پاکستان-ترکی بزنس اینڈ انوسٹمنٹ فورم سے بھی خطبا کریں گے کہ جس میں دونوں ملکوں کے بڑے سرمایہ کار اور اہم کاروباری شخصیت شرکت کریں گی۔ اس کے علاوہ رجب طیب ایردوان اپنے پاکستانی ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔

صدر رجب طیب ایردوان نے جمعے کو پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ یہ چوتھا موقع ہے کہ صدر ایردوان نے پاکستانی پارلیمان سے خطاب کیا ہو۔ اس سے قبل وہ نومبر 2016ء، مئی 2012ء اور اکتوبر 2009ء میں بھی ایسے ہی اجلاسوں سے خطاب کر چکے ہیں۔

پاکستان اور ترکی کی کاروباری شخصیات دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے اسلام آباد میں جمع ہیں۔ پاکستان کی وزارت تجارت کے مطابق ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیا کہ جس کا اہتمام وزارت نے صدر ترکی کے دورے کے موقع پر کیا۔

صدر مملکت کے ہمراہ دورے پر موجود کاروباری وفد میں انجینئرنگ، توانائی، سیاحت، تعمیرات، دفاع، آٹوموٹو، کیمیکلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کے اہم کاروباری نمائندے شامل ہیں۔

پاکستان کے انہی شعبہ جات سے وابستہ 200 سے زیادہ اہم کاروباری شخصیات، اہم تجارتی انجمنیں، جن میں پاکستان ایوان ہائے صنعت و تجارت، متعدد سرکاری ادارے اور پاکستان-ترکی فرینڈشپ ایسوسی ایشن شامل ہیں، نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کا مقصد ترکی اور پاکستان کی کاروباری شخصیات کو ایک چھت تلے جمع کرکے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ پاکستان کے سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا نے افتتاحی کلمات کے ساتھ وفود کا خیر مقدم کیا۔

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد نے بھی اجلاس میں شرکت کی دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے ترک وفود سے بھی ملاقات کی۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت کا حجم پچھلے پانچ سالوں میں لگ بھگ 600 ملین ڈالرز سے بڑھتے ہوئے 800 ملین ڈالرز تک گیا ہے۔ ترکی اور پاکستان اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک (SEF) میں شامل ہیں جو دو طرفہ تجارت کا حجم بڑھانا چاہتا ہے۔ پچھلے سال انقرہ نے اسلام آباد کو اسی فریم ورک کے تحت تجاویز پیش کی تھیں تاکہ باہمی تجارت کے حجم میں پانچ گنا تک اضافہ کیا جا سکے۔ SEF میں 71 قابلِ عمل اقدامات شامل ہیں جن میں آزاد تجارت کا معاہدہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صلاحیتوں میں اضافہ اور دفاعی تعاون شامل ہیں۔

آزاد تجارت کے معاہدے کے ساتھ ساتھ اس دورے میں دہری شہریت کے معاملے پر بھی پیش رفت ممکن ہے۔

وزیر اعظم پاکستان ترکی کو پاک-چین اقتصادی راہ داری کے منصوبے میں شریک کرنا چاہتے ہیں جو تجارت کے حجم کو بڑھانے کی راہ ہموار کرے گا۔ سی پیک ایک کئی ارب ڈالرز کا منصوبہ ہے جس میں چین کو پاکستان کی جنوب مغربی بندرگاہ گوادر سے منسلک کرنے کے لیے ریل، سڑکوں اور گیس پائپ لائنوں کا ایک جال بچھایا جائے گا اور یوں چینی مصنوعات کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے مختصر ترین راستہ ملے گا۔

تبصرے
Loading...