ترکی نے آیاصوفیہ میں قرآن سیشن کے انعقاد پر یونان کا اعتراض مسترد کر دیا

0 2,431

ترکی نے آیاصوفیہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے لیے ایک تقریب کے انعقاد پر یونان کی جانب سے اٹھایا گیا اعتراض مسترد کر دیا ہے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامی آق صوئے نے یونان کے ردعمل کو اس کی "برداشت نہ کرنے والی نفسیات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایتھنز فتحِ قسطنطنیہ کے 567 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقدہ اس تقریب پر "غیر ضروری اور غیر مؤثر بیانات” جاری کر رہا ہے۔

"حقیقت یہ ہے کہ یونان، وہ واحد یورپی ملک کہ جس کے دارالحکومت میں کوئی مسجد نہیں ہے، آیاصوفیہ ميں قرآن مجید کی تلاوت سے پریشان ہو رہا ہے جو اس ملک کی عدم برداشت کی نفسیات کو ظاہر کر رہا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب یورپ میں میناروں سے اذانوں کی آوازیں گونج رہی ہیں اور باہمی احترام کے اصولوں کی اہمیت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔”

آق صوئے کا بیان اس وقت سامنے آیا جب یونانی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ قدم عالمی ثقافتی و قدرتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے یونیسکو کے کنونشن کے مطابق نہیں ہے۔

آق صوئے نے کہا کہ "ترکی نے نہ ہی آیاصوفیہ کی تاریخی حیثیت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی 1972ء کے یونیسکو کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے برعکس یہ ترکی کے اقدامات اور توجہ ہے کہ جس کی بدولت استنبول کے تاریخی مقامات موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ہو سکے ہیں۔”

آیاصوفیہ چھٹی صدی عیسوی میں بزنطینی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ یونانی آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز تھا۔ 1453ء میں فتحِ قسطنطنیہ کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1935ء میں سخت گیر سکیولر اقتدار میں ترکی نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کیا، لیکن اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

2015ء میں 85 سال میں پہلی بار اس عمارت کے اندر تلاوتِ قرآن مجید کی گئی۔

آق صوئے نے زور دیا کہ آیاصوفیہ ترکی اور انسانیت کے لیے ایک اہم خزانہ رہے گی اور اس کا تحفظ کیا جاتا رہے گا۔ "ہم یونان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خود کو تاریخ کے بوجھ سے آزاد کرے۔”

تبصرے
Loading...