انقرہ دفاعی صنعت کو کام کی مکمل آزادی دینے کی پالیسیاں جاری رکھے گا

0 670

انقرہ ترک دفاعی صنعت کو کام کرنےکی مکمل آزادی دینے کے لیے اپنی پالیسیاں جاری رکھے گا، جس کا اعلان صنعت کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے نے کیا۔

صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی کی دفاعی صنعت کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کی کہ جس نے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی پیش رفت اور ترک فوج کے زیر استعمال مقامی دفاعی نظام سمیت مختلف معاملات پر غور کیا۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے فوجی ساز و سامان نے سرحد پار اور ملک کے اندر انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں اپنی صلاحیتیں منوائی ہیں، جو ایک مرتبہ پھر مقامی طور پر بنائے جانے والے دفاعی نظام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ ترک حکام COVID-19 کو اہم دفاعی منصوبوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے اور آپریشنز ایسے ہی جاری رہیں گے۔

ملک کی دفاعی صنعت تبدیلی کے ایک بڑے عمل سے گزری ہے تاکہ مختلف عسکری پلیٹ فارمز مقامی طور پر تیار کر سکے۔ صنعت کا غیر ملکی انحصار گھٹتے ہوئے 30 فیصد تک آ گیاہے، جو 2000ء کے اوائل میں 70 فیصد سے زیادہ تھا۔

2002ء میں 5.5 ارب ڈالرز کے بجٹ کے ساتھ صرف 62 دفاعی منصوبے تھے، جن کی تعداد اب تقریباً 60 ارب ڈالرز کے بجٹ کے ساتھ 700 منصوبوں تک پہنچ چکی ہے۔

دفاعی صنعت میں کام کرنے والے اداروں کی تعداد 56 سے بڑھ کر 1,500 تک پہنچ چکی ہے اور صنعت کی آمدنی اس عرصے میں صرف 1 ارب ڈالرز سے بڑھتے ہوئے 11 ارب ڈالرز تک جا چکی ہے۔

ترکی کی دفاعی و ہوا بازی کی برآمدات 18 سال پہلے صرف 248 ملین ڈالرز تھی جو اب 3 ارب ڈالرز سے آگے جا چکی ہیں۔

تبصرے
Loading...