انقرہ چین کے علاقے سنکیانگ میں مبصرین پر مشتمل وفد بھیجے گا

0 460

ترکی چین کے خود مختار علاقے سنکیانگ میں رہنے والے اویغور باشندوں کے حالات جاننے کے لیے ایک مبصر وفد چین بھیجے گا، جس کا اعلان ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے منگل کو کیا۔

ہفتے سے بنکاک میں جاری 52 ویں آسیان (جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے حوالے سے سفارتی رابطوں کے بعد انادولو ایجنسی سے بات کرتے ہوئے چاؤش اوغلو نے اویغور باشندوں کی حالت پر بات کی۔ "ہم صرف یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے اویغور بھائی چین کی چھتری تلے امن و سکون کے ساتھ رہیں۔”

اس امر کی یاددہانی کراتے ہوئے کہ اویغور مسلمانوں کے مسائل پر صدر رجب طیب ایردوان کے دورۂ چین میں بھی بات ہوئی تھی، چاؤش اوغلو نے کہا کہ "صدر کے دورے میں چینی صدر نے ترکی سے ایک وفد بھیجنے کی پیشکش کی تھی۔ بعد ازاں 24 جولائی کو چینی سفارت خانے نے باضابطہ طور پر یہ دعوت نامہ بھیجا۔ صدر نے غیر سرکاری طور پر یہ دعوت نامہ قبول کرلیا ہے۔ اب ہم مختلف اداروں سے وابستہ تقریباً 10 افراد پر مشتمل ایک وفد چین بھیجیں گے، جہاں وہ صورت حال کا جائزہ لیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردان رواں مہینے کے اوائل میں بیجنگ میں تھے کہ جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ سیاسی و اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کے بارے میں بھی بات چیت کی۔

صدر ایردوان کے دورۂ چین میں صدر رجب طیب ایردوان نے چینی روزنامے گلوبل ٹائمز کو بتایا تھا کہ جمہوریہ ترکی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حامی ہے۔ "ہماری اقوام کے درمیان صدیوں پرانا تعاون آج چین کے صدر اور میرے دوست شی جن پنگ کی قیادت میں BRI کے تحت مضبوط تر ہو رہا ہے۔”

اس وقت ترکی میں تقریباً ایک ہزار چینی ادارے کام کر رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر لاجسٹکس، الیکٹرونکس، توانائی، سیاحت،مالیات اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور اپنے کاروبار کو توسیع دے رہے ہیں اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (BRI) کے بعد ملک میں اپنے آپریشنز کو بڑھا چکے ہیں۔

ملاقاتوں کے بعد چاؤش اوغلو نے ٹوئٹر پر یہ پیغام بھی شیئر کیا کہ "چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دو طرفہ معاملات، بشمول توانائی اور سرمایہ کاری پر بات کی۔ اویغور ترکوں کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ چینی حکام کی دعوت پر سنکیانگ کے لیے ایک مبصر وفد بھیجا جائے گا۔”

چین کا مغربی سنکیانگ اویغور خود مختار علاقہ تقریباً ایک کروڑ ایغور باشندوں کا مسکن ہے۔ ترک نسل کا یہ مسلم گروہ، جو سنکیانگ کی تقریباً 45 فیصد آبادی کا حامل ہے، عرصے سے چینی حکام پر ثقافتی، مذہبی اور معاشی امتیاز برتنے کے الزامات لگاتا آیا ہے۔

چین کو انسانی حقوق کے علم برداروں، دانشوروں، مختلف حکومتوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے سخت تنقیدکا سامنا ہے کہ جو اویغور مسلمانوں کی کڑی نگرانی اور ان کو بڑے پیمانے پر کیمپوں میں محصور کرنے کے الزامات لگاتے آئے ہیں۔ گزشتہ ستمبر میں جاری کی گئی آخری رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ نے چینی حکومت کو شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے خلاف "انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی باقاعدہ مہم” چلانے کا الزام لگایا۔

ترکی ماضی میں چین کو اویغور ترکوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے اور کیمپ بند کرنےکے مطالبے کر چکا ہے۔

تبصرے
Loading...