وباء یاددہانی کروا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے نظام میں جدید دور کے خطرات اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے اصلاحات ہونی چاہئیں: طیب ایردوان

0 92

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کووِڈ-19 کی وباء سے نمٹنے کے لیے منعقدہ خصوصی سیشن کے لیے اپنے وڈیو پیغام میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "وباء ہمیں ایک اور یاددہانی کروا رہی ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام میں جدید دور کے خطرات اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے اصلاحات ہونی چاہئیں۔ میرا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام کو زیادہ مؤثر، جمہوری، مساوی اور شفاف بنانے کے لیے جنرل اسمبلی کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کووِڈ-19 کی وباء سے نمٹنے کے لیے خصوصی سیشن سے بذریعہ وڈیو پیغام خطاب کیا۔

صدر طیب ایردوان نے کہا کہ "بین الاقوامی برادری کو 21 ویں صدی کے سب سے بڑے عالمی چیلنج کا سامنا ہے۔ اس مشکل دور سے نکلنے کی کلید باہمی تعاون اور عالمی یکجہتی ہے۔ یہ سیشن اسی لیے بہت بروقت اور کارآمد ہے۔”

"وباء کے ابتدائی ایام سے ہی ترکی بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کر رہا ہے”

"میں اس خصوصی سیشن کے انتظام میں مدد دینے پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خاص طور پر اپنے عزیز بھائی الہام علیف کا، کہ جنہوں نے غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے چیئرپرسن کی حیثیت سے اس منصوبے کا آغاز کیا اور صدر جنرل اسمبلی جناب بوزکیر کا۔ اس وباء کے ابتدائی ایام سے ہی ترکی بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔”

اقوام متحدہ کے علاوہ ہم عالمی ادارۂ صحت، جی20، MIKTA، ترکش کونسل، اسلامی تعاون کی تنظیم اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز کی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ اب تک ہم 156 ممالک اور 9 بین الاقوامی انجمنوں کو مدد فراہم کر چکے ہیں۔ ہم وبائی حالات میں غذائی تحفظ کے مسائل کا سامنا کرنے والے ممالک اور خطوں کو مدد دے رہے ہیں۔ ہم بزرگوں، معذوروں اور یتیموں جیسے پسماندہ گروہوں کے لیے 16 ممالک میں خصوصی پروگرام چلا رہے ہیں۔

ہم مقامی ذرائع استعمال کرکے ذاتی تحفظ کا سامان (PPEs) بنانے کے لیے چند ترقی پذیر ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ہم وباء کی وجہ سے معاشی مشکلات سے دوچار چند ملکوں کو بجٹ سپورٹ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارا نجی شعبہ بھی ہماری سرکاری کوششوں میں حصہ ڈال رہا ہے۔

اب تک 50 ترک ادارے وباء کے خلاف 20 سے زیادہ ملکوں میں مختلف طریقوں سے امداد فراہم کر چکے ہیں۔ دنیا کی امیدیں اب ویکسین کی پیداوار کی خبروں سے بندھی ہیں۔ میں اس موقع پر پروفیسر اوغور شاہین اور ڈاکٹر اوزلیم توریجی کو بھی مبارک باد دینا چاہوں گا کہ جو کمپنی بایو این ٹیک کے بانی ہیں، جس نے ویکسین کی تیاری میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور اس سیشن میں بھی آن لائن شریک ہیں۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ترکی کی 16 ویکسین ریسرچ اسٹڈیز کے انسانی ٹرائلز کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جن میں سے 12 عالمی ادارۂ صحت کی فہرست میں ہیں۔

"سب کو ملا کر اقدامات اٹھانے چاہئیں اور پسماندہ طبقوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے”

ترکی کی کوششوں کی بدولت عالمی ادارۂ صحت نے سال 2021ء کو "صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنان کا عالمی سال” قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں میں صحت کے شعبے سے وابستہ تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جو دنیا بھر میں بے لوث ہو کر کام کر رہے ہیں۔

ترکی کے مضبوط زرعی، غذائی اور مینوفیکچرنگ شعبے، سٹی ہسپتال، تجربہ کار و مخصوص صحت کے کارکن اور سماجی تحفظ کا جامع نظام اس عمل میں ہمارا نمایاں ترین اثاثہ ہیں۔ دنیا بھر میں غیر محفوظ گروہ ہیں، جو اس عرصے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سب کو ملا کر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں، اور پسماندہ طبقات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذوروں کے حقوق کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ 36 لاکھ شامی شہری ہماری حفاظت میں ہیں جو ملک کے اندر موجود صحت کی خدمات کا بالکل ویسے ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں جیسے ہمارے شہری لے رہے ہیں۔ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ کووِڈ-19 عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔ اور مریضوں اور اموات کی تعداد میں دنیا بھر میں حالیہ چند ہفتوں میں ہونے والا اضافہ ہمیں یہی بات یاد دلا رہا ہے۔

"اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر، جمہوری، مساوی اور شفاف بنانے کے لیے جنرل اسمبلی کو مضبوط بنانا ہوگا”

اس وباء کے ساتھ ساتھ ہمیں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، زینوفوبیا اور نسل پرستی کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہم نے ابتداء ہی سے جی20 پلیٹ فارم سے "قرضہ جات میں سہولت کے پروگرام” کی حمایت کی۔ آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ ہمیں اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی، جن میں پائیدار سپلائی چَین اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی تیاری شامل ہے، تاکہ "نئے معمولات” کے مطابق ڈھلنے کو یقینی بنائیں۔”

وباء ہمیں ایک اور یاددہانی کروا رہی ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام میں جدید دور کے خطرات اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے اصلاحات ہونی چاہئیں۔ میرا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام کو زیادہ مؤثر، جمہوری، مساوی اور شفاف بنانے کے لیے جنرل اسمبلی کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ میں ان کلمات کے ساتھ اپنی گفتگو مکمل کروں گا، مجھے امید ہے کہ یہ خصوصی سیشن وباء کے خلاف بین الاقوامی برادری کی جدوجہد کو تحریک دے گا۔”

تبصرے
Loading...