ہمارے فوجی دستوں پر کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، رجب طیب ایردوان

0 652

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمارے فوجی دستوں یا ہمارے دوست عناصر پر کسی بھی حملے کا، چاہے وہ زمینی ہو یا فضائی، بھرپور جواب دیا جائے گا، اور ہم اس سے پہلے کوئی انتباہ بھی نہیں دیں گے۔ جواب دینا ہمارا حق ہے اور ادلب میں ہمارے فوجیوں کی سلامتی کی ضمانت میں ناکامی کی وجہ سے کوئی اس پر تنقید بھی نہیں کر سکتا ۔”

صدر مملکت اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کیا۔

"معاہدوں کے بر خلاف اٹھائے گئے کسی بھی قدم سے نظریں نہیں چرائیں گے”

صدرایردوان نے کہا کہ شام میں ہونے والی پیش رفت نے ترکی کو ادلب میں اور سرحد کے ساتھ ساتھ اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور کیا۔ "ادلب میں ہمارے کنٹرول میں موجود علاقوں اور ہماری سرحد کی جانب نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ہمارے کاندھوں پر بوجھ ڈالے۔ ہم اس معاملے کو بخوبی حل کرنے اور ادلب کے عوام کے اپنے گھروں میں پرامن قیام کو یقینی بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ کسی بھی ایسے قدم سے نظریں نہیں چرائیں گے، جو ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہو۔”

صدر مملکت نے مزید کہا کہ "سب سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ شامی حکومت سوچی معاہدے کے مطابق سرحدوں سے دُور ہٹ جائے، یعنی ہماری چوکیوں سے پیچھے چلی جائے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری چوکیوں سے پیچھے جانے کا یہ عمل فروری کے مہینے میں مکمل ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ترکی معاملات اپنے ہاتھ میں لے گا اور خود حل کرے گا۔”

رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمارے فوجی دستوں یا ہمارے دوست عناصر پر کسی بھی حملے کا، چاہے وہ زمینی ہو یا فضائی، بھرپور جواب دیا جائے گا، اور ہم اس سے پہلے کوئی انتباہ بھی نہیں دیں گے۔ جواب دینا ہمارا حق ہے اور ادلب میں ہمارے فوجیوں کی سلامتی کی ضمانت میں ناکامی کی وجہ سے کوئی اس پر تنقید بھی نہیں کر سکتا۔”

"امریکی انتظامیہ کا منصوبہ دراصل قبضے کا منصوبہ ہے”

امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل-فلسطین تنازع کے حوالے سے پیش کیے گئے منصوبے پر صدر ایردوان نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کہ منصوبہ امن کا نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے، جس کا واحد مقصد 70 سال کے اسرائیلی قبضے اور علاقے ہڑپنے کے عمل کو جائز قرار دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں یہاں سوال کرتا ہوں کہ عقلِ سلیم، اخلاقیات اور ضمیر رکھنے والا کوئی بھی فرد اس ظلم پر کیسے راضی ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ 70 سالوں سے اپنے گھروں کو واپس جانے کے منتظر فلسطینی مہاجرین کو اپنے حق سے محروم کرتا ہے۔ وہ اپنی سرزمین پر کبھی واپس نہیں جا پائیں گے۔ وہ آج کی طرح اردن یا لبنان میں ہی رہ جائیں گے۔

ترکی کے سخت ردعمل نے عرب ممالک کو اپنا مؤقف بدلنے پر مجبور کیا، جس پر صدر ایردوان نے کہا کہ "اب امریکا میرے اور ہمارے انٹیلی جنس سربراہ کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کر چکا ہے۔ وہ ترکی کے مالیاتی اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کچھ بھی کر لیں، آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔”

تبصرے
Loading...