ترک ماہرینِ آثار قدیمہ نے 1500 سال پرانے سونے کے سکے دریافت کرلیے

0 440

ماہرینِ آثار قدیمہ کو شمال مغربی صوبہ چناق قلعہ کے گاؤں گُل پنار سے سونے کے 68 سکے ملے ہیں کہ جو 1500 سال قبل بزنطینی عہد کے ہیں۔

یہ چھوٹا سا خزانہ 7 اگست کو ایواجک ضلع میں کھدائی کے دوران ایک قدیم گھر کی دیوار تلے دبا ہوا ملا تھا۔

اس دریافت کے بارے میں آج صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پروفیسر جوشکن اوزگونل نے بتایا کہ یہ سکے بزنطینی سلطنت کے جسٹی نیئن اوّل اور دوئم کے عہد کے ہیں اور 550 سے 570ء کے درمیان کے ہیں۔ سونے کے کچھ سکوں پر جسٹی نیئن اول کی صورت بھی چھپی ہوئی ہے کہ جو ایک ہاتھ میں دنیا اور اس پر ایک لگی صلیب اور دوسرے میں ایک تلوار تھامے ہوئے ہے۔

اس گاؤں میں 80ء کی دہائی سے کھدائی کا کام جاری ہونے کے بارے میں بتاتے ہوئے اوزگونل نے کہا کہ "اس سال ملنے والے خزانے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک مخصوص عہد کا ہے۔ یہ چھٹی صدی کے دوسرے حصے کا ہے یعنی کہ 550 سے 575ء کے درمیان کا۔”

"جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سونے کو دیگر دھاتوں کی طرح زنگ نہیں لگتا ہے۔ یہ کیچڑ میں لت پت تھے کیونکہ علاقے میں حالیہ بارشوں کے بعد سیلاب آیا تھا۔ صفائی کے بعد ہمیں بڑے اور چھوٹے 68 سونے کے سکے ملے۔”

اوزگونل نے کہا کہ گو کہ سکے مختلف سائز کے ہیں اور ان کا وزن بھی مختلف ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ فرق بہت زیادہ نہیں ہے۔ "ہم اسے خزانہ کہہ سکتے ہیں لیکن درحقیقت یہ خزانہ نہیں بلکہ کسی کی بچت تھی۔ لگتا ہے کہ ان سکوں کا مالک اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان تھا اور اس نے ان سکوں کو برے وقت کے لیے بچا کر رکھا تھا۔”

اوزگونل نے کہا کہ پانچویں اور چھٹی صدی کے لوگوں کو بھی سونے میں اتنی ہی دلچسپی لیتے ہوئے دیکھنا قابلِ توجہ ہے۔ ترکی میں سونے کے سکوں کی صورت میں بچت کرنا آج بھی ایک مقبول طریقہ ہے بلکہ نئی نسل تو خریدے گئے یا شادیوں پر تحفے میں ملنے والے سونے کے سکے گھر کے بجائے بینکوں میں محفوظ رکھتی ہے۔ بہرحال، یہ سماجی اور نسلِ انسانی کے بارے میں علمی دونوں لحاظ سے اہمیت کی حامل دریافت ہے۔

یہ سکے جلد چناق قلعہ میں واقع ٹرائے میوزیم میں رکھے جائیں گے۔

تبصرے
Loading...