آرمینیا جنوری سے ترک مصنوعات پر عائد پابندی ختم کر دے گا

0 946

آرمینیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یکم جنوری سے ترک مصنوعات پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آرمینیا نے گزشتہ سال نگورنو-قراباخ جنگ کے دوران آذربائیجان کی حمایت کرنے پر انقرہ پر پابندی لگائی تھی۔

ملک کی وزارت خزانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں ترک مصنوعات کی درآمدات پر پابندی کو مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔”

ترکی اور آرمینیا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ تعلقات کو معمول پر لانے کی سمت قدم بڑھا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین چارٹر پروازیں بھی جلد شروع ہوجائیں گی۔

15 دسمبر کو ترکی نے امریکا کے لیے اپنے سابق سفیر سردار قلیچ کو آرمینیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کا خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا۔ تین دن بعد آرمینیا نے بھی ترکی کے ساتھ مذاکرات کے لیے قومی اسمبلی کے نائب اسپیکر روبن روبنیان کو خصوصی نمائندہ بنانے کا اعلان کیا۔

انقرہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے خصوصی سفیروں کے مابین ملاقات کی میزبانی ماسکو کرے گا، البتہ ابھی تک اس کی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

دونوں ممالک کی سرحدیں دہائیوں سے بند ہیں اور سفارتی تعلقات معطل ہیں۔

آرمینیا اور ترکی نے تعلقات کی بحالی اور دہائیوں بعد سرحدیں کھولنے کے لیے 2009ء میں ایک تاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن اس معاہدے کو کبھی توثیق نہ مل سکی اور تعلقات بدستور کشیدہ رہے۔

ترکی اور آرمینیا کے مابین تعلقات تاریخی طور پر پیچیدہ ہیں۔ 1915ء کے واقعات کے حوالے سے ترکی کی رائے یہ ہے کہ مشرقی اناطولیہ میں آرمینیائی باشندوں کی جانیں چند افراد کی جانب سے روس کا ساتھ دینے اور عثمانی افواج کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں گئیں۔
نتیجتاً آرمینیائی باشندوں کی نقل مکانی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں، جس میں فوج اور ملیشیا گروہوں دونوں کی جانب سے قتلِ عام کیے گئے اور مارے گئے افراد کی مجموعی تعداد بڑھی۔

ترکی ان واقعات کو "نسل کشی” نہیں سمجھتا بلکہ سانحہ قرار دیتا ہے کہ جس میں دونوں کا جانی نقصان ہوا۔

انقرہ نے بارہا ترکی اور آرمینیا کے مؤرخین اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔

نگورنو-قراباخ کشیدگی کے دوران انقرہ نے باکو کی حمایت کی اور آرمینیا پر الزام لگایا کہ اس نے آذربائیجان کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: