ایردوان کے اقدامات سے سب حیران، لیکن آگے کیا؟

تحریر: ہلال قپلان

0 2,089

کسی نے کہا کہ "وہ 30 سال سے معیشت کو کوَر کر رہے ہیں اور کبھی کسی بھی کرنسی میں اتنی تیزی سے تبدیلی نہیں دیکھی جتنی آج ترکی میں دیکھی ہے۔ حیران کُن!”

کسی کا کہنا تھا کہ "ترک رہنما نے لیرا بینک ڈپازٹس کی قدر کو ڈالر کے ساتھ منسلک کر کے مارکیٹ اور اپنے سیاسی مخالفین کو حیران کر دیا ہے۔”

پھر ایک نے کہا کہ "ایردوان کے عہد کے ساتھ ترک لیرا کی واپسی ۔”

یہ بیانات میرے یا ترک حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والے کسی میڈیا ادارے سے وابستہ فرد کے نہیں ہیں بلکہ یہ غیر ملکی صحافیوں اور خبری اداروں کے ہیں۔

پہلا بیان ماہرِ اقتصادیات ٹموتھی ایش کا ہے اور بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر بھی ہوا ہے، جبکہ باقی دو بیانات بالترتیب ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) اور ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نیوز ایجنسیوں کے ہیں۔ یہ اور ایسے ہی دیگر بیانات ایک ہی طرف اشارہ کر رہے ہیں: طویل عرصے سے برسرِ اقتدار رہنے کے باوجود صدر رجب طیب ایردوان نے ایک مرتبہ پھر اپنا جادو چلا کر دکھایا ہے۔ ایک مرتبہ پھر انہوں نے نازک مرحلے پر ایک غیر متوقع قدم کے ذریعے مقامی مارکیٹ، حزبِ اختلاف اور دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

انقلابی قدم

صدرایردوان کے 20 دسمبر کے بیانات جنہوں نے مارکیٹ کو زبردست ریلیف دیا اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات سمندر میں طوفان کے دوران ایک تجربہ کار کپتان کے اٹھائے گئے اقدامات کو ظاہر کرتے ہیں۔ صدر ایردوان نے ایسے ٹولز پیش کیے ہیں جنہیں اس صورت حال میں استعمال کیا جائے گا جسے وہ "اقتصادی جنگِ آزادی” کا نام دیتے ہیں: یعنی کرنسی انڈیکس ترک لیرا ڈپازٹ اکاؤنٹ، نجی پنشن نظام میں ریاست کے حصے کو بڑھانا، برآمد کنندگان کے لیے فارورڈ ایکسچینج ریٹ اور دیگر۔

یہ اہم ترین اقدامات مارکیٹ مارکیٹ میں عدم تحفظ کا ماحول قائم کرنے کی کوششوں کے خلاف ایک زبردست جواب تھے۔ میرے خیال میں سب سے عملاً دیکھ لیا ہے کہ صدر ایردوان کے جواب کہ "آپ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے” کا اصل مطلب کیا ہے، بالخصوص ترک انڈسٹری اینڈ بزنس ایسوسی ایشن (TUSIAD) کے اعلان "معاشیات کے عام رائج اصولوں کی جانب جلد واپس لوٹنا چاہیے” کے بعد۔ بالفاظ دیگر TUSIAD جیسے سوجھ بوجھ اور فہم رکھنے والے جو حکومت پر معیشت کے بنیادی اصولوں کا ادراک نہ رکھنے کا الزام لگاتے ہیں، کو اچھا معاشی سبق پڑھایا گیا ہے۔ در حقیقت یہی وہ حلقے ہیں جو مارکیٹ کے تھمتے ہی کونے کھدروں میں دبک گئے ہیں کیونکہ انہوں نے تقریباً 20 سال سے ملک چلانے والوں کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اور ایک مرتبہ پھر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ مجھے ہر گز حیرت نہیں ہوئی کہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے بھی کنفیوز سے بیانات اور سرخیاں لگائیں کیونکہ وہ صرف اور صرف ایسے حلقوں کی ہی سنتا اور انہی کی بات آگے بڑھاتا ہے۔ ترکی ایسا ملک بن چکا ہے جو نو آبادیاتی تناظر اور صدیوں پرانی روایات کو ہر لحاظ سے تبدیل کرتا ہے اور ہمیشہ ایسا کرتا رہے گا۔

مستقبل پر ایک نظر

اب سب کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ: معیشت کے بحری جہاز کی محفوظ بندرگاہ میں آمد کے بعد اب آگے کیا ہوگا؟ اب مارکیٹ کو اعتماد دینے اور شرح تبادلہ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا ایک سلسلہ سامنے آئے گا۔ اس کا بنیادی ہدف کرنسی کی شرح میں کمی بیشی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ دراصل یہ اقدامات ایک میراتھون دوڑ کے ابتدائی قدم ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشی ماڈل کے حقیقی ثمرات دراصل نمو اور روزگار ہیں، جن کا پھل اگلے سال سامنے آئے گا۔ توقع ہے کہ 2021ء کی دہرے ہندسوں کی معاشی نمو کے ساتھ تکمیل کے ساتھ ہدف اگلے سال مزید بہتر صورت حال لانا ہوگا۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایردوان مختصر دوڑ کے نہیں بلکہ میراتھون کے کھلاڑی ہیں۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: