جب تک ہم آپس میں لڑتے رہے، ترکوں، عربوں اور کردوں پر سوگ طاری رہے گا، ایردوان

0 174

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس میں کہا کہ علیحدگی پسند تحریکوں اور دہشتگرد تنظیموں عراق اور شام میں جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ خطے اور اس کے باسیوں کے اچھا نہیں ہے۔ "دراصل جو لوگ عراق اور شام کی تباہی کو آنسوؤں اور نزاع میں دیکھتے ہیں اور جو لوگ اپنے ہاتھوں کو ملتے ہیں اور منہ نیچے کر لیتے ہیں ان کے بارے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ہم اس صورت حال کو بدلنے کے لیے کام کر رہے ہیں اس طرح کہ خطے کے لوگوں کو فائدہ چاہے وہ جس مرضی نسل اور اصل سے تعلق رکھتے ہوں”۔

ترک صدر اور چیئرمین آق پارٹی رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس کی صدارت کی اور خطاب کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ڈی ایٹ ممالک کے اجلاس بارے بریف کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ترکی کی دی گئی تجاویز پر عمل کیا جاتا ہے تو ڈی ایٹ تنظیم عالمی سیاست میں ایک موثر اور طاقت تنظیم بن سکتی ہے۔ ان تجاویز میں ڈی ایٹ میں مزید ممالک کو شامل کرنا اور اتفاق رائے کی ووٹنگ کے بجائے اکثریتی قابلیتی ووٹنگ سسٹم کا نافذ کرنا ہے۔

ہم درست سمت میں جا رہے ہیں

صدر ایردوان نے قومی اور بین الاقوامی پروگرامات کے مصروف شیڈول بارے بتاتے ہوئے کہا: "جیسا کہ نظر آیا ہے، ہم اپنے ملک و قوم کے لیے شب و روز کے ایک ایک گھنٹے اور منٹ کا بہتر اور پیداواری استعمال کر رہے ہیں”۔

بعض حلقوں کی جانب سے ترک کے خلاف غصے اور کشیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ترکی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مقامی بحرانوں کا بہتر حل تلاش کیا جائے جو خطے کے لوگوں کے لیے اچھا ہو۔ انہوں نے کہا: "یہ موقف جو ویزا بحران سے لے کر کتوں کی مدد سے تلاشی تک کی مثالوں میں اپنا ردعمل دیتا ہے۔ اور خفیہ پابندیوں کو حدوں سے بڑھاتا ہے تاکہ دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ یہ سب ثابت کرتا ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں”۔

دہشتگردوں کے بینرز جو رقعہ میں آویزاں کیے گئے

ترکی اور امریکا کے درمیان انتظامی سطح پر کئی مذاکرات کے ادوار کے باوجود ترکی کے اسٹیٹیجک اتحادی امریکا نے پی وائے ڈی اور وائے پی ڈی سے مل کر رقعہ میں آپریشن کیا جو کہ پی کے کے کی بچہ تنظیمیں ہیں۔ صدر ایردوان نے کہا: "امریکا، تم رقعہ میں آویزاں کیے جانے والے دہشتگردوں کے بڑے بڑے بینروں پر کیا جواز پیش کرو گے؟ ہم نے تمہیں بتایا تھا، لیکن تم نے اسے قابل اعتبار نہ سمجھا۔ اور اب سب حقائق ٹی وی اسکرینوں اور کیمرہ فوٹیج میں موجود ہیں۔ اب آپ اس کی کیسے وضاحت کرو گے؟”۔

ترک صدر نے بتایا کہ ادلب آپریشن تقریبا مکمل ہو چکا ہے اب اگلا مرحلہ آفرین کا ہے اور جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا: "ان میں ہر ایک ہمارے لیے خطرہ ہے اور ہم ہر اس معاملہ پر پُر عزم ہیں جو ہمارے ملک کے لیے خطرہ ہو۔ ہم میں سے ہر ایک کو یہ ضرور جاننا ہوگا۔ ہم ان معاملات پر کسی کو ڈھیل نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا، ہم اچانک رات کو آئیں گے اور راتوں رات حملہ کر دیں گے”۔

جب تک ہم آپس میں لڑتے رہے، ترکوں، عربوں اور کردوں پر سوگ طاری رہے گا

ایردوان نے کہا: "جب تک ہم آپس میں لڑتے رہے، ترکوں، عربوں اور کردوں پر سوگ طاری رہے گا۔ اور یہ میں اپنی قوم پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کس زبان میں فتوحات کی چیخیں سننا پسند کرتے ہیں۔ تاحال 25 فیصد شامی علاقہ پی وائے ڈی اور وائے پی ڈی جیسے دہشتگردوں کے زیر تسلط ہے، 10 فیصد علاقہ پر دہشتگرد داعش نے قبضہ کر رکھا ہے۔ شام کا سب سے بڑا پڑوسی ہونے کے ناطے اور اپنے لوگوں کے عقل مند بھائیوں کے ہم اس صورت حال سے کسی طرح بھی خوش نہیں ہیں۔ دراصل جو لوگ عراق اور شام کی تباہی کو آنسوؤں اور نزاع میں دیکھتے ہیں اور جو لوگ اپنے ہاتھوں کو ملتے ہیں اور منہ نیچے کر لیتے ہیں ان کے بارے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ہم اس صورت حال کو بدلنے کے لیے کام کر رہے ہیں اس طرح کہ خطے کے لوگوں کو فائدہ چاہے وہ جس مرضی نسل اور اصل سے تعلق رکھتے ہوں”۔

تبصرے
Loading...