ترکی ہر مسئلے پر ایک فیصلہ کُن رائے رکھتا ہے، صدر ایردوان

0 124

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی اب ہر مسئلے پر ایک فیصلہ کُن رائے اور اپنے الفاظ دوسروں کے کانوں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ترکی اب اپنی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کو ایک متحرک عسکری مدد کے ساتھ میدانِ عمل میں لاگو کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ ترکی اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے وہ اپنے دوستوں کو مدد دینے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے قابل ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک خطاب کیا۔

"ہم ویکسین اسٹڈیز میں اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے ہیں”

Covid-19 کے خلاف اپنی ویکسین بنانے کی کوشش میں ترکی کی پیش رفت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی میں 13 مختلف ویکسین اسٹڈیز کی گئی تھیں۔ ان میں سے دو مختلف زمروں میں موجود پانچ ویکسینز انسانی ٹرائلز کے مرحلے کے قریب ہیں۔ یہی ترکی کے میڈیکل انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔”

"آج کا ترکی باوقار ہے اور علاقائی و عالمی سیاست میں مؤثر کردار رکھتا ہے”

آج کا ترکی علاقائی و عالمی سیاست میں ایک باوقار، بااصول اور مؤثر مقام رکھتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ” ترکی اب ہر مسئلے پر ایک فیصلہ کُن رائے اور اپنے الفاظ دوسروں کے کانوں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ترکی اب اپنی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کو ایک متحرک عسکری مدد کے ساتھ میدانِ عمل میں لاگو کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ ترکی اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے وہ اپنے دوستوں کو مدد دینے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے قابل ہے۔”

"یہ ہر باوقار ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں آذربائیجان کا ساتھ دے”

آذربائیجان کےعلاقوں پر آرمینیا کے حملوں پر صدر ایردوان نے قراباخ اور آذربائیجانی علاقوں پر آرمینیا کے قبضے کے حوالے سے عالمی برادری کی خاموشی کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ قراباخ میں جو ہو رہا ہے وہ صرف قبضہ نہیں بلکہ قتلِ عام ہے، جو انسانیت کے لیے رسوائی کا باعث ہے۔ آرمینیا کو اس قتل عام کی سزا نہیں ملی، جس میں اُس نے بچوں، عورتوں اور مردوں کی تمیز نہیں کی اور اس پر فخریہ بات کرتے ہوئے شرما بھی نہیں رہا۔”

امریکا، فرانس اور روس کی زیر قیادت منسک گروپ نے اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے ڈیڈلاک کا شکار بنا دیا، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ آذربائیجان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیا جائے۔ درحقیقت اپنی مقبوضہ سرزمین کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں آذربائیجان کی حمایت ہر باوقار ریاست کا کام ہے۔ انسانیت کے لیے پائیدار امن و سکون ناممکن ہے، جب تک کہ دنیا کو بدمعاش ریاستوں اور ان کے بدمعاش رہنماؤں کے چنگل سے نہیں آزاد نہیں کرایا جاتا۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ تاریخی، قانونی اور جغرافیائی حقائق کا تقاضہ ہے کہ قراباخ مسئلے کو حل کیا جائے، جو قفقاز میں 30 سے زیادہ سالوں سے بدترین بحران بنا ہوا ہے۔ ورنہ خطے میں ناانصافی اور تنازعات کو روکنا ناممکن ہے۔”

تبصرے
Loading...