او آئی سی اراکین کو مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کرنا چاہیے، صدر ایردوان

0 1,044

اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کی قائمہ کمیٹی برائے معاشی و تجارتی تعاون (COMCEC) کے 37 ویں وزارتی اجلاس کے لیے ایک وڈیو پیغام میں صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ایک مرتبہ پھر زور دوں گا کہ ہم مسئلہ کے فلسطین کے حل کے لیے آخر دم تک کوشش کریں گے، جو او آئی سی کے قیام کی بنیادی وجہ ہے۔ او آئی سی رکن کی حیثیت سے ہمیں مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کرنا چاہیے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کی قائمہ کمیٹی برائے معاشی و تجارتی تعاون (COMCEC) کے 37 ویں وزارتی اجلاس کے لیے ایک وڈیو پیغام بھیجا۔

"قدرتی وسائل کا ضیاع خوراک کی پیداوار اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالتا ہے”

کووِڈ-19 کی وبا کے ہر شعبہ زندگی پر گہرے اثرات پڑے ہیں، اس کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "رسد اور طلب میں عدم توازن عالمی سطح پر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ عالمی ادارۂ خوراک کے قیمتوں کے حوالے سے اشاریے میں اکتوبر میں سال بہ سال کا 31.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2011ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا ہے۔ آئی ایم ایف کموڈٹی جنرل انڈیکس میں بھی اکتوبر میں 74 فیصد، توانائی کی قیمتوں میں 176 فیصد اور غیر توانائی اشیا کی قیمتوں میں 20.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اشیائے ضرورت کی چیزوں میں عالمی سطح پر غیر معمولی اضافے سے دنیا بھر میں افراطِ زر کی شرح بھی بڑھی ہے، جس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ قدرتی وسائل کا ضیاع خوراک کی پیداوار اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

"ہمیں برادر ممالک کو سیاسی، انسانی، مالی اور قانونی مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے”

مستقبل کے غربت، جبری ہجرت، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس حوالے سے ہمیں باہمی تعاون کے دستیاب پلیٹ فارمز کا بہترین استعمال کرنا چاہیے اور مشترکہ پالیسیاں اور پروگرامز بنانے چاہئیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اسلامی ممالک نہ صرف وبا کے مسائل کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں، بلکہ انہیں دہشت گردی سے لے کر غربت اور باہمی تنازعات سے لے کر ہجرت تک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ او آئی سی اراکین کی حیثیت سے ہمیں ایک طرف معاشی تعاون کو بہتر بنانے اور دوسری جانب اپنے برادر ممالک کو سیاسی، انسانی، مالی اور قانون مدد بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔”

افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کو او آئی سی اراکین کی مشترکہ خواہش قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "افغان عوام کے حوالے سے یہ ہماری برادرانہ ذمہ داری ہے کہ ہم 40 سالوں سے تنازعات، دہشت گردی اور قبضے کے مقابلے میں پریشان حال افغانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اس دور میں ہماری ترجیح ہونی چاہیے کہ ہم افغانستان کے لیے انسانی امداد بحال رکھیں، جسے سردیوں کے موسم میں سنگین بحران کا سامنا ہے۔ میری رائے ہے کہ اسلامی ممالک ان کوششوں میں پیش پیش ہوں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ایک مرتبہ پھر زور دوں گا کہ ہم مسئلہ کے فلسطین کے حل کے لیے آخر دم تک کوشش کریں گے، جو او آئی سی کے قیام کی بنیادی وجہ ہے۔ او آئی سی رکن کی حیثیت سے ہمیں مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں مشرقی القدس اور مغربی کنارے پر اسرائیل کی غیر قانونی آباد کاری، تباہی، جبری بے دخلی، قبضہ گیری اور انخلا کی پالیسیوں کو روکنا ہوگا۔ ہمیں فلسطین کے دارالحکومت القدس کی حیثیت اور احترام کو محفوظ رکھنے کے لیے بھرپور انداز میں کام کرنا ہوگا۔ ہمارے لیے ہمارے لیے سب سے اہم دو ریاستی حل کی بنیاد پر مستقل امن و استحکام کا قیام ہے۔”

حالیہ چند سالوں میں اسلاموفوبک (اسلام سے خوف) اور زینوفوبک (غیر ملکیوں سے خوف) کی بڑھتی ہوئی سطح پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "مسلمان کئی نسل پرست، امتیازی، اسلاموفوبک اور زینوفوبک اقدامات کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر یورپ میں۔ نام نہاد اقدامات جو مسلم برادری کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کو محدود کر رہے ہیں پریشان کُن ہیں۔ ترکی یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارموں کا بھرپور استعمال ہو، بین الاقوامی میکانزم مضبوط اور مشترکہ مستحکم اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس انجمن میں ہمیں اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور ہر شعبے میں اپنے تعاون کو بہتر بنانا چاہیے۔”

تبصرے
Loading...