عاشورہ، 10 محرم کو بنائے جانے والے میٹھے کی قدیم ترک روایت

0 733

سنبل آفندی درویش لاج نے گزشتہ روز استنبول کے شہریوں میں ‘عاشورہ’ تقسیم کیا جو روایتی شوربہ نما میٹھا ہے جو اناج سے بنایا جاتا ہے۔ ایسا کرکے لاج نے روایات کو زندہ رکھا ہے۔

ماضی میں عاشورہ 9 محرم کو بنایا جاتا تھا اور 10 محرم کو استنبول کے مکینوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔

سنبل آفندی درویش لاج کو "استنبول کا کربلا” کہتے ہیں کیونکہ مبینہ طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نوازے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں فاطمہ اور سکینہ کی قبریں اس کے قریب ہی واقع ہیں۔

فتح استنبول کے بعد سے شہدائے کربلا اور حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی یاد میں یہاں دعائیہ اور مرثیہ تقریب ہوتی رہیں۔

سنبل سنان درویش لاج استنبول کے قدیم ترین مقامات میں سے ایک ہے اور مرکزی بھی، اس لیے پہلا ‘عاشورہ’ یہاں پکتا ہے۔ پکانے کی تقریب میں دعائیں اور مناجات کی جاتی ہیں۔ پکانے کے بعد اسے ایک دن کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور اگلے دن عوام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ روایات عثمانی سلطنت کے عہد سے تقریباً پانچ صدیوں سے قائم ہے۔

1925ء میں ترک جمہوریہ کی جانب سے ایسی خانقاہوں اور حجروں پر پابندی لگانے کی وجہ سے اس میں وقفہ آ گیا۔ بعد ازاں انسان و عرفان فاؤنڈیشن کی کوششوں سے یہ روایت بحال ہوئی۔ فاؤنڈیشن نے ان بزرگوں سے رابطہ کیا کہ جنہوں نے عاشورہ پکتے ہوئے دیکھا تھا اور اس کی اصل تفصیلات ریکارڈ کیں۔ جمع کی گئی معلومات کے مطابق فاؤنڈیشن نے تمام مراحل پورے کیے جن میں اناج کو دھونے، پکانے کے دوران پڑھی جانے والی دعاؤں، بڑی دیگوں میں ڈالنے سے لے کر پکانے کے دوران کیسا لباس پہنا جائے، مناجات و مدح کون سی پڑھی جائیں، سب شامل تھیں۔

ایک طویل تاریخ رکھنے والا میٹھا

عاشورہ (جسے ‘عاشورے’ بولا جاتا ہے) کو ویسے نوح کا دلیہ بھی کہتے ہیں، ایک ترک میٹھا ہے جو انوکھی داستان رکھتا ہے۔ دنیا میں قدیم ترین میٹھے کے طور پر مشہور اس میٹھے کے بارے میں ترک روایت یہ ہے کہ اسے سب سے بڑے حضرت نوح علیہ السلام نے تیار کیا تھا اور اسی لیے اس کا نام نوح کا دلیہ پڑ گیا۔ روایت کے مطابق جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی 10 محرم کو کوہِ جودی پر رکی تو ان کے کھانے پینے کی زیادہ چیزیں نہیں بچی تھیں۔ نوح علیہ السلام نے اپنے خاندان کو کشتی میں باقی بچ جانے والی تمام چیزیں لانے کو کہا اور ان سب کو ملا کر یہ میٹھا شوربہ بنایا۔ عاشورہ کشتی نوح سے نکلنے کی بدولت ایک خوشی کی روایت ہے۔ تب سے مسلمان 10 محرم کو حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے بچ کر نکلنے کی یاد مناتے ہیں اور اسے اپنے اہل خانہ اور پڑوسیوں کو بھی دیتے ہیں۔ لفظ "عاشورہ” کا مطلب ہے "دسواں”۔

عاشورہ کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میٹھے کی جڑیں مذہبی تاریخ میں پیوسٹ ہیں۔ اسلامی ماخذ اس دن کو نبیوں کے مصیبت سے چھٹکارے کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس روز ہی اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو معاف کیا، نوح علیہ السلام کی کشتی کنارے لگی، یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے، ابراہیم علیہ السلام آتشِ نمود سے بچے، ادریس علیہ السلام آسمان پر اٹھا لیے گئے، یعقوب علیہ السلام کی بینائی بالآخر اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام سے مل کر لوٹ آئی، یوسف علیہ السلام کنویں سے باہر آئے، ایوب علیہ السلام صحت یاب ہوئے، موسیٰ علیہ السلام نے بحیرۂ قلزم پار کیا اور فرعون غرق ہوا، اور عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ اس لیے اسلام میں یومِ عاشورکی بہت اہمیت ہے۔

یومِ عاشور ہی وہ دن تھا جس روز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسین ابنِ علی رضی اللہ عنہ کو کربلا کے مقام پر شہید کردیا گیا۔ عراق کے باشندوں نے کیونکہ حضرت حسین کو اپنی سرزمین پر بلایا تھا اور ان کی مدد کیے بغیر بھاگ گئے، اس لیے عراقی اس دن غم منانے لگے۔ یہ روایت اب بھی ایران و عراق سمیت دنیا کے کئی علاقوں کے اہل تشیع میں موجود ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ دن نبیوں کی تاریخ اور نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین کی الم ناک شہادت کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہم ہے، چاہے سنی ہوں یا شیعہ۔

صدیوں پرانی روایت

عثمانی معاشرے میں میٹھے کی تقسیم کی روایت عام تھی خاص طور پر پڑوسیوں اور وہ بھی سات گھروں تک۔ چند اعداد بالخصوص سات کو خاص مقام حاصل ہے۔ ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ زمینیں اور آسمان سات ہیں اور جہنم کے طبقات بھی سات ہیں۔ حج کے دوران حاجی خانہ کعبہ کے بھی سات چکر لگاتے ہیں جبکہ شیطان کو پتھر مارنے کے لیے بھی سات کنکریاں استعمال کی جاتی ہیں۔

اناطولیہ کے چھ علاقوں میں عاشورہ ذرا زیادہ پتلا بنایا جاتا ہے اور اسے عاشورہ شوربہ کہتے ہیں۔ اسے بڑے برتنوں میں پکایا جاتا ہے اور سب میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ عاشورہ غذائیت سے بھرپور اور لذیذ ہوتا ہے لیکن اسے پکانا مشکل ہے۔ گیہوں، چنے، دال، چاول، خوبانیاں، انگور، بیری، آلوچے، انجیر، مونگ پھلیاں، نارنجیوں کے چھلکے اور سیب یا ناشپاتیاں بھی عاشورہ میں شامل کی جاتی ہیں۔ عاشورہ کو انار دانوں، کشمکش، اخروٹ، بادام اور دارچینی سے سجایا بھی جاتا ہے۔

ان اجزاء کو پکنے کے لیے مختلف وقت درکار ہوتا ہے اور انہیں الگ پکایا جاتا ہے۔ اسے اچھی طرح گھوٹنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چینی آخری مرحلے میں شامل کی جاتی ہے اور پھر اسے تھوڑا سا پکایا بھی جاتا ہے۔ جس کے بعد اسے پیالوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ اگر زیادہ چینی ڈال دی جائے تو یہ بہت میٹھا ہو جاتا ہے اور چینی کم ہو تو مزا نہیں آئے گا۔ دیگر اجزاء جیسا کہ گیہوں، دال اور چنے بھی اچھی طرح پکے ہونے چاہئیں ورنہ وہ میٹھے کا ذائقہ خراب کردیں گے۔ اگر کوئی بھی چیز نہ ڈالی جائے تو ذائقہ بدل بھی جاتا ہے۔

تبصرے
Loading...