گذشتہ 25 سال میں 12.5 ملین مسلمان جنگوں کی بھینٹ چڑھ گئے

0 924

ایک ترک ماہر تاریخ کے مطابق گذشتہ 25 سال میں 12.5 ملین مسلمان جنگوں کی بھینٹ چڑھ کر مر گئے ہیں۔ ترکش ہسٹوریکل سوسائٹی کے سربراہ رفیق توران کے استنبول میں ایک کانفرنس کرتے ہوئے کہ پوری انسانی تاریخ میں انسان لڑتے رہے ہیں اور جنگ انسان کی زندگی کی نہ جھٹلائی جانے والی حقیقت ہے۔

"عالمی جنگیں، طاقت کے لیے ترکی اور شام کی ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد” کے نام سے ہونے والی اس کانفرنس میں انہوں نے کہا، ” عام طور پر جنگ دو ریاستوں کے درمیان ہے لیکن ملکوں کے اندر بھی جنگیں ہیں۔ کسی جنگ کے نتائج کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ جنگ ہماری زندگیوں کی ایک حقیقت ہے”۔

مزید کہا، "ایک تازہ تحقیق کے مطابق گذشتہ 25 سال کی جنگوں اور تنازعات میں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 12.5 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اتنی ہی تعداد میں انسان ایک عالمی جنگ میں مر جاتے ہیں”۔

توران نے کہا کہ امریکہ، روس اور ایردان شام میں امن نہیں چاہتے ہیں اور شواہد اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

ترکی شام کے 80 فیصد مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ اس قدر صلاحیت کسی اور ملک کے پاس نہیں ہے۔ جب منبج کو دہشتگردوں سے پاک کیا گیا تو سارے شام میں امید کی ایک شمع روش ہوئی”۔

شام 2011ء سے اس وقت خانہ جنگی میں داخل ہو گیا جب جمہوریت حامی مظاہروں پر بشار الاسد رجیم نے پر تشدد کریک ڈاؤن کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے بعد اب تک ہزاروں لوگ اس جنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...