ترکی سے 4 لاکھ شامی مہاجرین اپنے گھر واپس جا چکے ہیں

0 259

ترک وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ترکی میں رہنے والے کم از کم 4 لاکھ شامی مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 35 لاکھ 80 ہزار اب بھی ملک میں موجود ہیں۔

شام کے مختلف علاقوں میں بسنے والے شامی شہری یا تو دہشت گرد تنظیموں کی وجہ سے بے گھر ہوئے یا بشار اسد کی حکومت کے حملوں کی وجہ سے، اور پھر ترکی میں پناہ گزین ہو گئے۔ تقریباً 10 لاکھ افراد شام کے شمالی مغربی صوبہ ادلب میں بے گھر ہوئے تھے جب دسمبر میں حکومت نے حزبِ اختلاف کے اس آخری گڑھ پر حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ پرتشدد کارروائیاں ترکی-روس معاہدے کے بعد کم ہوئیں اور کئی لوگ اس صوبے میں واپس آئے۔ دوسری جانب شمالی شام میں مسلسل تین آپریشنز روع کرنے کے بعد ترکی نے ہسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور سڑکوں کی دوبارہ تعمیر کی ٹھانی کہ جنہیں YPG/PKK نے تباہ کر دیا تھا۔ علاقے کے سماجی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی خوراک اور اوڑھنے پہننے کا بھی این جی اوز کی جانب سے انتظام کیا گیا۔

ترکی اب بھی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ مہاجرین رکھتا ہے، جبکہ سرحد پار انسداد دہشت گردی کے آپریشنز نے لاکھوں شامیوں کے لیے ترکی سے اپنے وطن واپس جانا ممکن بنایا۔

ترک مسلح افواج ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز کرتی رہتی ہیں کہ جہاں PKK نے اپنے گڑھ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ترک مسلح افواج نے شمالی عراق میں سرحد پار آپریشنز بھی کیے ہیں، کہ جہاں PKK دہشت گردوں کی کمین گاہیں اور اڈے ہیں جہاں سے وہ ترکی میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ جولائی 2018ء کے بعد ان آپریشنز کی شدت میں تیزی آئی اور آہستہ آہستہ یہ معمول بن گئے۔

ترکی کے خلاف 30 سال سے جاری دہشت گردانہ مہم میں PKK نے 40 ہزار سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا کہ جن میں خواتین، بچے اور شیر خوار تک شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی، امریکا اور یورپی یونین اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...