جرمنی میں دو مساجد پر حملے، قرآن پاک شہید کردیے

0 1,926

وسطی جرمنی کے شہر کاسل میں حملہ آوروں نے ایک مسجد پر پتھراؤ کیا جبکہ شمال مغربی بریمین میں ایک اور حملے میں اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کے تقریباً 50 نسخے شہید کردیے گئے۔

کاسل کی مرکزی مسجد، جو ترک-اسلامی اتحاد برائے مذہبی امور (DITIB) کے تحت چلائی جاتی تھی، اتوار کو علی الصبح نامعلوم افراد کے حملے کی زد میں آئی۔

کاسل مرکزی مسجد فاؤنڈیشن کے چیئرمین سیف الدین اریوروک نے کہا کہ مسجد پر پتھروں سے حملہ کیا گیا تھا جب عمارت میں کوئی شخص موجود نہیں تھا، جس میں مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

فرینکفرٹ میں ترک قونصل جنرل براق قرارتی نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی اور ملوث افراد کو تلاش کرکے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

کاسل کے پراسیکیوٹر آفس نے حملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

گزشتہ سالوں میں اسی مسجد کو PKK حامیوں نے بھی نشانہ بنایا تھا اور ان حملہ آوروں کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

دریں اثناء جرمنی کے شہر بریمین کی رحمٰن مسجد میں حملہ آوروں نے 50 قرآن مجید بھی شہید کیے ، جنہوں نے مقدس کتب کو بیت الخلاء میں پھینکا۔

شہر میں رہنے والے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر اس مسلمان مخالف حملے پر شدید غم کا اظہار کی ااور حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ حملہ بریمین ٹرام میں مسلمان مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایک شخص کے 16 سالہ لڑکے پر چاقو سے کیے گئے حملے کے دو ہفتے بعد پیش آیا ہے۔

کرسچن ڈیموکریٹک یونین پارٹی (CDU) کے بریمین اسٹیٹ ڈپٹی اوغوزان یازیچی نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ وہ رحمٰن مسجد پر ہونے والے غلیظ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جو بریمین اسلامک کونسل کے زیر اہتمام ہے

"گزشتہ ہفتے مسلم نوجوان پر چاقو سے کیے گئے حملے کے بعد ہمیں قرآن مجید کے نسخوں کی شہادت کی اطلاع مل رہی ہے۔ بریمین کے مسلمان بہت گھبرائے ہوئے اور پریشان ہیں۔ یہودیوں کے کنیساؤں کی طرح مساجد کو بھی ریاست کی جانب سے مکمل تحفظ ملنا چاہیے،” یازیجی نے کہا۔ حکومت کو ایسے واقعات کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے اور مسلمانوں سے عداوت کے خلاف مسلسل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

جرمن پولیس نے بتایا کہ 31 مئی کو بریمن میں مسلم نوجوان پر حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ نوجوان کو گردن پر زخم آئے البتہ وہ تشویش ناک نہیں ہیں اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

حالیہ چند سالوں میں مہاجرین کے بحران اور دہشت گردی پر اپنے خدشات کا اظہار کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی وجہ سے جرمنی میں مسلمان مخالف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس نے گزشتہ سال مسلمانوں کے خلاف 813 نفرت انگیز جرائم ریکارڈ کیے۔ حملوں میں کم از کم 54 مسلمان زخمی ہوئے، جو زیادہ تر انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندوں نے کیے۔ انتہائی دائیں بازو کے مقاصد کو پورا کرنے والوں حملوں کے علاوہ حالیہ چند سالوں میں PKK دہشت گردوں کے حامیوں کی جانب سے بھی بارہا مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ ہفتے کولون میں ترک شہریوں کو ڈاک کے ذریعے نازی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کی علامات پر مشتمل دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے۔ ان خطوط میں، جو شہر کی کیوپ اسٹریٹ پر واقع چند شہریوں کے میل باکس میں ڈالے گئے، نفرت انگیز پیغامات بھی تھے جیسا کہ "تم یہودیوں جیسے ہو۔ جلد ہی تمہیں ہدف بنا کر حملے شروع ہوں گے۔”

81 ملین عوام کا ملک جرمنی مغربی یورپ میں فرانس کے بعد دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ ملک کے 4.7 ملین مسلمانوں میں سے 3 ملین ترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی ترک النسل جرمن دوسری اور تیسری نسل کے جرمن شہری ہیں یعنی ان کے دادا، نانا 1960ء کی دہائی میں اس ملک میں منتقل ہوئے تھے۔

انقرہ مغربی ممالک سے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف حملوں کے خلاف مضبوط اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

"ظاہر ہے کہ یہ حملے بڑھتے جائیں گے جب تک کہ مغربی سیاست دان اور میڈیا سخت ردعمل نہیں دکھائے گا،” وزیر انصاف عبد الحمید گل نے امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں واقع نیو ہیون دیانت مسجد کے دورے کے موقع پر کہا کہ جسے 12 مئی کو ساتویں روزے کے دن نشانہ بنایا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...